یونان میں کشتی کاحادثہ

تحریر: اللہ نوازخان

allahnawazk012@gmail.com
یونان میں کشتی کاحادثہ اورپاکستانیوں کی ہلاکت
حالیہ دنوں میں یونان میں ایک کشتی حادثے کا شکار ہوئی ہےاور اس میں سوار درجنوں پاکستانی لاپتہ ہیں اور ان کوہلاک تسلیم کر لیا گیا ہے۔(اب تک کی اطلاع کے مطابق 45 پاکستانی ہلاک ہو چکے ہیں)یہ وہ پاکستانی تھے جو روزگار کے سلسلے میں غیرقانونی طورپر یورپ جا رہے تھےاوران کو انسانی سمگلرزبھیج رہے تھے۔یہ سمگلرزان پاکستانیوں سےکافی رقم بٹور چکے تھے۔یہ پاکستانی بہتر روزگار کے لیےیورپ اور دوسرے ممالک میں جانے پر مجبور ہیں۔اپنے خاندانوں کو اچھی آسائشات دینے کے لیےبیرون ملک جانےوالےافراد بلا شبہ داد کے مستحق ہیں۔راقم کا ایک چھوٹا بھائی امیر نواز خان بسلسلہ روزگار سعودی عرب میں مقیم ہےاوروہ قانونی طور پر گیا ہے۔امیر نواز خان کی کمائی سےپورا خاندان سہولت سےزندگی گزار رہا ہے۔اس کی اتنی آمدنی نہیں،لیکن پاکستان کی نسبت زیادہ ہے۔اس بات کا احساس کرنا بھی ضروری ہے کہ بیرون ملک روزگارکےلیے جانے والے افرادبڑی قربانی دیتے ہیں،کیونکہ علاقہ،دوست احباب اوراہل خانہ کو چھوڑ کر جانا آسان کام نہیں،مگر اچھے دنوں کا خواب ان کو یہ قربانیاں دینے پر مجبور کر دیتا ہے۔وہاں بھی مسائل ہوتے ہیں اور ان سے نپٹنا ان کے لیے بہت ہی مشکل ہوتا ہے،لیکن وہ گزارا کرتے رہتے ہیں۔عرب ممالک کے علاوہ یورپ اور دیگر خطوں میں “اچھی آمدنی”کا خواب کروڑوں افراد کے لیےبہت ہی خوش کن ہوتا ہےاور اسی”خواب”کودکھا کر انسانی اسمگلرزبہت سے نوجوانوں سے اچھی خاصی رقم بٹور لیتے ہیں اور ان کو غیر قانونی طریقوں سےباہر بھیج دیتے ہیں۔باہر جانے کے لیےغیر قانونی طریقے استعمال کیے جاتے ہیں اور اکثر اوقات اس طرح کے جان لیوا حادثات پیش آجاتے ہیں۔کبھی کوئی کشتی ڈوب جاتی ہےاور کبھی بارڈر کراس کرتے ہوئےکسی گولی کا نشانہ بن جاتے ہیں اور کبھی کسی حادثے کا شکار ہو جاتے ہیں۔ان حاثوں کےبعدانسانی سمگلرز کا کام ختم ہو جاتا ہے اور دوسروں کو بھیجنے کا کام شروع کر دیتے ہیں۔اس طرح کے حادثات کئی دفعہ پیش آ چکے ہیں اورآئندہ بھی پیش آتے رہیں گے۔
یہ پاکستانی اس لیے بھی غیر قانونی طور پر جاتے ہیں کہ قانونی طور پر جانا ان کے لیے مشکل امر ہوتا ہے۔بعض اوقات آسان طریقہ موجود ہوتا ہے لیکن کچھ رقم بچانے کے لیےغیر قانونی طور پرچلے جاتے ہیں۔بعض اوقات اچھی خاصی رقم خرچ ہو جاتی ہےاور اسی رقم سے یہاں بھی کاروبار کیا جا سکتا ہے۔اطلاعات کے مطابق سیالکوٹ کا ایک نوجوان 19 سالہ سفیان 30 لاکھ روپے دے کر جا رہا تھا۔30 لاکھ روپے سے یہاں اچھا تو نہیں،بہتر کاروبار کیا جا سکتا ہے۔اس بات سے بھی انکار نہیں کہ یہاں کاروباری افراد کے لیے مسائل بہت زیادہ ہیں،حکومت کو ان مسائل کا ادراک کرنا ہوگا۔ایک 13 سالہ بچہ عابد بھی کشتی کے المناک حادثے کا شکار ہوا ہے۔13 سال عمرہی کی کتنی ہوتی ہے،وہ بچہ کتنی دردناک موت مرا ہوگا۔واضح رہے کہ یہ کوئی پہلا حادثہ نہیں،2023 میں یونان کے اس علاقہ میں غیر قانونی تارکین وطن کی کشتی ڈوبنے کے نتیجے میں 262 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔اس سے قبل بھی کئی حادثات رونما ہو چکے ہیں،مگر اس کو سختی سے روکنے کے لیےسنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا جا رہا۔انسانی سمگلرزاپنے فائدے کے لیے اس قسم کی حرکات کرتے رہتے ہیں۔ظاہر بات ہےاس مسئلے میں کئی اعلی شخصیات بھی ملوث ہوں گی اور یہ سرکاری اور غیر سرکاری بھی ہو سکتے ہیں۔بیرون ملک جانےوالےافراد خصوصا غیر قانونی طور پر جانے والے،وہاں کوئی آسان زندگی نہیں گزارتے۔چند ایک خوش قسمت ہوتے ہوں گے،جن کو بہترین آسائشات میسر ہوں گی۔حکومت کو بھی چاہیےکہ یہاں ایسی سہولیات میسر نہیں کر سکتی،جیسی ان ممالک میں ہیں،تو کم از کم اتنی آسائشات میسر کرے کہ یہاں اچھی نہ سہی،معمولی سی زندگی گزاری جاسکے۔
سمگلرزاکثر کوئٹہ سے ایران اور پھر وہاں سےترکی کے ذریعے یورپ جاتے ہیں۔فضائی راستہ پاکستان سے مصر اور وہاں سے لیبیا یا یو۔اے۔آئی اور پھر آگےیورپ بھیج دیا جاتا ہے۔اپنی منزل مقصود تک پہنچنے کے لیےان بیچاروں کوکافی مشکلات کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔اطلاعات کے مطابق ان کو منزل مقصودتک پہنچنےکےلیے کئی ہفتے بلکہ مہینے تک لگ جاتے ہیں۔راستے میں ان کو گندی جگہوں پر رکھا جاتا ہےاور خوراک بھی بہتر نہیں دی جاتی۔بعض اوقات تو باسی کھانا دے دیا جاتا ہے۔یونان،اٹلی یا کہیں اور بھیجنے تک ان کو برے حالات میں رکھا جاتا ہے۔انسانی سمگلروں کو سخت قسم کی سزائیں دینا ہوگی تاکہ ایسے واقعات دوبارہ رونما نہ ہو سکیں۔اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ قانونی طور پر ان افراد کویونان،اٹلی یا دوسرے ممالک کی طرف بھیجا جا سکے۔وزیر اعظم پاکستان میاں شہباز شریف کا کہنا ہے کہ اس قسم کے واقعات کا بار بار رونما ہونا پاکستان کےلیےلمحہ فکریہ ہے۔انہوں نے کہا کہ ان سمگلروں کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے گی۔اب تک کی اطلاعات کے مطابق تین ایجنٹوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔پہلے بھی ان ایجنٹوں کے خلاف کیس رجسٹرڈ ہوئے ہیں۔بعض اوقات حادثوں کا شکار ہونے والوں کے اہل خانہ گواہی نہیں دیتے،کیونکہ ایجنٹوں سے ان کو رقم واپس ملنے کی امید ہوتی ہے۔فرض کیا اگر وہ غیر قانونی طور پر بھیجتے بھی ہیں تو کم از کم اس بات کا خیال رکھا جائےکہ ان کو باحفاظت منزل مقصود تک پہنچایا جائے۔خستہ حال کشتیاں بھی اکثر ڈوب جاتی ہیں۔حکومت پاکستان ہر ممکن کوشش کرے کہ بیرون ملک کمانے والے افراد کے لیے آسانیاں پیدا ہوں۔جو افراد بیرون ملک روزگار کے سلسلہ میں مقیم ہیں،وہ ڈالر،یورو،ریال وغیرہ بھیجتے ہیں اور پاکستان اس زرمبادلہ سےفائدہ اٹھاتا ہے۔پاکستان میں انسانی سمگلروں کوقانون کے کٹہرے میں لانا ہوگا۔جائز طریقوں سے پاکستانیوں کو بھیجاجائے۔ظاہر بات ہےاچھی آمدنی کے خواب بہت ہی خوش کن ہوتے ہیں،کم از کم مرنے والے افراد کا ہرجانہ ان سمگلروں سے وصول کیا جائے۔پاکستانیوں کی ہلاکت بہت ہی افسوس ناک ہے،جس کا درد ہر پاکستانی کو محسوس ہو رہا ہے۔امید کرنی چاہیےکہ آئندہ ایسے واقعات رونما نہیں ہوں گے۔
بیرون ملک رہنے والےافراد بعض اوقات مصائب کا شکار ہو جاتے ہیں لیکن سفارت خانہ یا حکومت ان کی مدد نہیں کرتی۔ریاستوں کا فرض ہوتا ہے کہ اپنے شہریوں کے حقوق کی حفاظت کریں۔ترقی یافتہ ریاستوں کو اپنے شہریوں کی حفاظت اور ان کے حقوق کا خیال رہتا ہے۔بعض اوقات مزدوری/ملازمت کرنےوالےہاکستانیوں کو اجرت کے طور پر معمولی رقم دی جاتی ہےاور بعض اوقات ان کی رقم ہڑپ بھی کر لی جاتی ہے۔حکومت ان کے مسائل کو اعلی سطح تک اٹھائے تاکہ ان سے زیادتیاں نہ ہو سکیں۔سفارت خانوں کو سختی سے ہدایات جاری کر دی جائیں کہ کسی بھی پاکستانی سے کی گئی زیادتی کا ہر ممکن اور جلد از جلد ازالہ کیا جائے۔سفارت خانوں تک رسائی آسانی سے ہو سکے۔بے شمار پاکستانیوں کے ساتھ اس قسم کی زیادتیاں ہو چکی ہیں اور وہ پریشان حال کچھ بھی نہیں کر سکتے۔اجرت ہڑپنے کے علاوہ ان کو قیدوبند کی سختیاں بھی برداشت کرنا پڑتی ہیں۔حکومت پاکستان کو چاہیے کہ بیرون ملک کمانے والے افراد کا خاص خیال رکھے۔