مہر آصف بھاگت
تحریر علی امجد چوہدری
مشیر وزیر اعلیٰ بلوچستان صاحبزادہ زین سلطان اور مسلم لیگ ن علماء مشائخ ونگ پنجاب کے سینئر نائب صدر مولانا آصف معاویہ سیال کے درمیان میں دکھائی دینے والا یہ نوجوان مہر آصف بھاگت ہے شاید یہ کوئی انتہائی اعلیٰ تعلیم یافتہ بھی نہیں ہے اور نہ ہی کوئی بڑا زمیندار یا بزنس مین مگر اس نوجوان سیاسی سماجی شخصیت کی ایک ایسی خصوصیت ہے جسے میں پچھلے تین سے چار سال سے keenly observe کر رہا ہوں اور وہ ہے اس کی ناقابل یقین وفاداری
تین سے چار سال قبل چلتے ہیں یہ وقت امیر عباس خان کے لیئے انتہائی مشکل ترین تھا افتخار بلوچ کی گرفتاری کے بعد امیر عباس خان سیال کا سایہ بھی ان کے ساتھ چلنے سے hesitate تھا بہت سارے آج کے قریبی رفقاء تب تصویر تک کھنچوانے سے ڈرتے تھے مگر مہر آصف بھاگت تب بھی خوفزدہ نہیں تھا ڈگری کالج کے طلباء کے ساتھ نجف عباس یوتھ فورس کا کیپشن دے کر یہ امیر عباس خان کے ساتھ کھڑا تھا یہ امیر عباس خان کے ان گنتی کے چند ساتھیوں میں شامل تھا جسے اس وقت کا طاقتور حزب اقتدار خوفزدہ نہ کر سکا پھر 2024 کا جنوری آ گیا امیر عباس خان سیال کا alliance ہو گیا مولانا آصف معاویہ سیال کے ساتھ اس وقت جب امیر عباس خان اور نجف عباس خان مرحوم کے ساتھ وفاداری کے ناٹک کرنے والے بہت سارے افراد امیر عباس خان کے مفادات سے ٹکراتے ہوئے مخالف پینل سے جا ملے تب بھی یہ نوجوان امیر عباس خان کا وفادار ساتھی ثابت ہوا جس طرح امیر عباس خان مولانا سے مخلص تھے مہر آصف بھاگت اس خلوص میں چار قدم آگے تھا اب یہ مولانا آصف معاویہ سیال کے انتہائی معتمدین میں شامل ہے یہ اس کا خلوص ہی ہے جس کی وجہ سے مولانا آصف معاویہ سیال جیسا پھونک پھونک کر قدم رکھنے والا سیاستدان اس نوجوان کو اپنا معتمد کہنے پر فخر محسوس کرتا ہے
علی امجد چوہدری









