دنیا میں ہونےوالی تبدیلیاں
تحریر:اللہ نوازخان
allahnawazk012@gmail.com
دنیا میں بہت بڑی تبدیلیاں ہو رہی ہیں اور یہ تبدیلیاں نئے تعلقات تشکیل دے رہی ہیں۔مشرق وسطی میں بد امنی اور انتشار پھیلا ہوا ہےاور روس_یوکرین جنگ بھی جاری ہے۔کئی ممالک سرد جنگ کا سامنا کر رہے ہیں۔کہیں معیشت بہت ہی کمزور ہو چکی ہےاورکہیں معاشی حالت بلند ہو رہی ہے۔قدرتی وسائل کسی بھی ملک کےاہم اثاثے ہوتے ہیں،یہ اثاثے اس وقت قیمتی ہوتے ہیں جب زیر استعمال لائے جائیں یا ان کو فروخت کر کے زر مبادلہ کمایا جائے۔ان تبدیلیوں کا اثر پوری دنیا پر پڑ رہا ہےاور نئے اتحاد تشکیل پارہے ہیں۔امریکہ کی اہمیت ختم ہونا شروع ہو گئی ہے۔امریکہ کے اختلافات چین اور روس کے ساتھ بہت زیادہ ہیں۔یہ تعلقات اکثر خراب ہی رہتے ہیں۔چینی وزارت خارجہ نےامریکہ کو نصیحت کی ہے کہ “امریکہ اپنی سرد جنگ کی ذہنیت کو ترک کرے”چین کی وارننگ امریکہ کے لیے واضح نصیحت بھی ہے اور دھمکی بھی،چین آگے تک بھی جا سکتا ہے۔ان کی جنگ عالمی بحران پیدا کر سکتی ہے،ممکن ہے دنیا کا کافی حصہ تباہی سے دوچار ہو جائے۔چین کی پالیسی یہی رہی ہے کہ دوسروں کے ساتھ غیر ضروری چھیڑ چھاڑ نہ کی جائے،لیکن امریکی پالیسیاں یہی رہی ہیں کہ ہر ایک کے ساتھ چھیڑ چھاڑ جاری رکھی جائے۔کمزور ممالک تو امریکہ کے اکثر نشانے پر رہتے ہیں اور ان کو امریکہ کی طرف سےکئی پریشانیاں اور مصیبتیں برداشت کرنا پڑتی ہیں۔کچھ طاقتور ممالک امریکہ کو جواب دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں،لیکن امریکی منصوبہ سازوں نے ان کے ساتھ زیادہ چھیڑ چھاڑ نہیں کی۔امریکہ کی پالیسیاں دنیا کوبربادی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔امریکہ جہاں چین کے لیےسر درد بنا ہوا ہے،وہاں روس کے خلاف یوکرین کا بھی ساتھ دے رہا ہے۔مشرق وسطی میں اسرائیل کاڈنکے کی چوٹ پر ساتھ دے رہا ہےاور مشرق وسطی کی حالت اس وقت بہت ہی بدتر ہو چکی ہے،خصوصا غزہ تباہ ہو چکا ہے،لبنان کے علاوہ یمن میں بھی آگ لگ چکی ہے،ایران بھی نشانے پرآچکا ہےنیز شام کی صورتحال بھی بہت ہی ابتر ہے۔عراق اور افغانستان کو بھی نشانہ بنایا گیا تھا اور یہ ممالک ابھی تک سنبھلنے میں دشواریاں محسوس کر رہے ہیں۔ان حالات میں امریکہ کو روکنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ مزید فساد نہ پھیلا سکے۔روس اور چین کے ساتھ دوسرے ممالک اتحاد کر کےجابر طاقت کا رخ موڑ سکتے ہیں۔امریکہ کے اتحادی بھی اپنا حصہ ڈال رہے ہیں،خاص کر یورپی ممالک امریکہ کی مدد کرنے کے لیےتیار ہی ہوتے ہیں،ان کے مد مقابل ایک نیا بلاک دنیا کے لیے خاصی اہمیت کا حامل ہوگا۔
دنیا میں جو تبدیلیاں ہو رہی ہیں،ان تبدیلیوں میں سیاسی تبدیلیاں بھی شامل ہیں اور معاشی تبدیلیاں بھی نیز جنگی تبدیلیاں بھی شامل ہیں۔روس کے پاس وسیع گیس کے ذخائر ہیں اور کئی یورپی ممالک اس گیس سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔یوکرین بھی روس سے گیس خرید رہا تھا،اپ معاہدے کی توسیع سےانکار کر دیاہے۔ڈونلڈ ٹرمپ اور اس کے بعد قطر کی جانب سے یورپ کو سخت انتباہ کے بعد روس نے یورپی یونین کو گیس کی فروخت ناممکن قرار دے دی ہے۔یوکرین کے انکار نےسلوواکیہ کی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے،کیونکہ سلوواکیہ اور روس کے توانائی کے ادارے کے درمیان طویل مدتی معاہدہ ہو چکا ہے،اب اس معاہدے پر اثر پڑ رہا ہے۔روس صرف گیس کے ذخائر کا مالک نہیں بلکہ تیل کےذخائربھی ہیں۔یوکرین اور روس جنگ کےدوران روس نے وارننگ دی تھی کہ اگر تیل پر پابندی لگی تو یورپ کو گیس کی سپلائی بند کر دیں گے۔اس بات کا بھی ارادہ کیا تھا کہ جرمنی جانے والی گیس کی مین پائپ لائین کو بند کیا جا سکتا ہے۔یورپ کے جو ممالک روس کے ساتھ تجارتی تعلقات رکھتے ہیں،ان کے لیےکئی قسم کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔گیس کی فروخت پر پابندی جہاں روس کے لیےمعاشی مسائل کھڑے کر سکتی ہے،وہاں خریدنے والے ممالک کےمسائل میں بھی اضافہ ہوگا۔روس ویسے تو معاشی طور پر مضبوط ملک ہے،لیکن یوکرین کے ساتھ جنگ نےمعاشی حالت بہت ہی کمزور کر دی ہے۔اب اگر روس نئے گاہک ڈھونڈ لیتا ہےیا نیابلاک بن جاتا ہے،تو نئی تبدیلیاں آسکتی ہیں۔گیس اور تیل خریدنے والے ممالک بھی اگر متبادل ذریعے استعمال کر کےگیس حاصل کر لیتے ہیں،تو روس کی معیشت بھی ہل سکتی ہے۔روسی صدر کے ترجمان نے کہا ہےکہ یورپی یونین کے ساتھ تجارت پیچیدہ مسئلہ ہے۔کریملن کے ترجمان نے کہا کہ یورپی ممالک کو روسی گیس کی فروخت فلحال مشکل ہے اور اس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
تیسری دنیا کے کمزور ممالک اکثر امریکہ اور دوسرےطاقتور ممالک کے نشانے پر رہتے ہیں۔ان کی کمزوریاں امریکہ کے لیےخاص اہمیت رکھتی ہیں۔امریکہ سیاسی طور کئی ممالک میں تبدیلیاں لاتا رہتا ہے۔کئی ممالک کے ساتھ سردجنگ جاری ہے۔ان حالات میں ایک ایسے بلاک کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے جو کمزور معاشی ممالک کے حالات سدھار دے۔صرف معاشی حالات نہیں بلکہ سیاسی حالات بھی سدھر جائیں۔سوشلسٹ بلاک بھی بن سکتا ہےاور اسلامک بلاک بھی۔اسلامک بلاک کی زیادہ ضرورت محسوس کی جا رہی ہے کیونکہ دنیا میں کافی تعداد مسلمانوں کی ہےاور ان کی خواہش ہے کہ دنیا قرآن سے رہنمائی حاصل کرے۔یہ بھی افسوسناک بات ہے کہ اسلامی ممالک قرآن کی طرف رجوع نہیں کرتے بلکہ دیگر ذرائع کو اپناتے ہیں،جس کی وجہ سے امت مسلمہ کی حالت بہت ہی بدتر ہو چکی ہے۔ان تبدیلیوں میں امت مسلمہ کا اتحاد حالات کا رخ بدل سکتا ہےاور اسلامی دانشوروں کو آگے بڑھ کر کردار ادا کرنا ہوگا۔اسلامی بلاک کاسوشلسٹ بلاک کے ساتھ بھی اتحاد ہو سکتا ہے۔روس اور چین،جو کہ سوشلسٹ ریاستیں ہیں،ان کا اتحاد بھی دنیا میں نئی تبدیلیاں لا سکتا ہے۔ڈالر کے مد مقابل نئی کرنسی بھی لائی جا سکتی ہے اور یہ تبدیلی بہت ہی معنی خیز ہوگی۔بہرحال تبدیلیاں ہوتی رہتی ہیں اور یہی زمانےکا چلن ہے۔اصل دیکھنا یہ ہوتا ہے کہ تبدیلیوں کےذریعے بہتری آ رہی ہےیا خرابی؟ان تبدیلیوں کو سمجھنے کی بھی ضرورت ہےاور درست وقت پر،درست فیصلہ کرنا بھی ضروری ہے۔دنیا میں جو بھی تبدیلیاں ہو رہی ہیں چاہے سیاسی ہیں یا جنگی،معاشی یا کوئی اور تبدیلیاں،ان کا سنجیدگی سے جائزہ لینا ضروری ہے۔ایٹم بم نے بھی دنیا میں ایک خاص تبدیلی پیدا کر دی ہے۔امریکہ کا پھینکا گیا ایٹم بم،جاپان کو بہت ہی پیچھے لے گیا ہے۔ایٹمی قوت چند ممالک کے پاس ہےاور اس بات کا کافی امکان ہے کہ درجنوں ممالک کے پاس ایٹمی قوت ہو سکتی ہے۔یہ اور بات ہے کہ انہوں نے غیر اعلانیہ اور خفیہ طور پر ایٹمی قوت رکھی ہو۔روز ہونے والی تبدیلیاں نئے پیغامات بھی دے رہی ہیں کہ اگرکسی ملک نےسنجیدگی کا مظاہرہ نہ کیا تووہ بہت سا خسارہ اٹھائے گا۔تبدیلیوں سےاگر انصاف کا نظام آجائے تو یہ انسانیت کے لیے بہتر ہیں،لیکن اگر دنیا عدم انصاف کا شکار ہو جائےتو یہ بدترین عمل ہے۔












