مجلس تحفظ اہلسنت والجماعت کی شان صدیق اکبر رض کانفرنس و ریلی
حضرت صدیق اکبررض ختم نبوت کے پہلے محافظ تھے،مولانا حسین مدنی کا خطاب
خلفائے راشدین کے ایام سرکاری سطح پر منائیں جائیں، قرارداد کی منظوری
حضرت صدیق اکبر رض وفا،شرافت و دیانت کے پیکر تھے،جی ٹی روڈ پر ریلی سے خطاب
پشاور
مجلس تحفظ اہلسنت والجماعت ضلع پشاور کے زیر اہتمام وفات سیدنا حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کے حوالے سے عظیم الشان خلیفہ اول بلا فصل حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کانفرنس جامع مسجد نوشو بابا فردوس چوک جی ٹی روڈ پشاور میں منعقد ہوئی بعد نماز جمعہ مسجد نوشو بابا سے عظیم الشان شان صدیق اکبر رض ریلی نکالی گئی جس کی قیادت مجلس تحفظ اہلسنت والجماعت پشاور کے امیر مولانا حسین احمد مدنی ایڈوکیٹ کر رہے تھے اس موقع پر عاشقان اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھوں میں بینراور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے اور حضرت ابوبکر صدیق رض سے محبت اور خلفائے راشدین کے ایام سرکاری طور پر منانے کے حوالے سے نعرہ بازی کر رہے تھے ریلی فردوس چوک سے ہوتے ہوئے مین جی ٹی روڈ پر پہنچ کر ایک بڑے جلسے کی صورت اختیار کر گئی جہاں ریلی کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے امیر مولانا حسین احمد مدنی ایڈوکیٹ،جنرل سیکرٹری مولانا سیف الاسلام ، نائب امیر مفتی رفیع الدین سرحدی، مولانا عبد الروف جان، جھانزیب شنواری ایڈوکیٹ اور دیگر نے کہا کہ حضرت ابوبکر صدیق رض پہلے محافظ عقیدہ ختم نبوت ہیں آپ کا طرز حکمرانی مسلم حکمرانوں کے لیے مشعلِ راہ ہے اپ کا دور اسلامی تاریخ کا روشن باب ہے 11 لاکھ مربع میل پر حضرت صدیق اکبر رض کی حکومت رہی اور عظیم فتوحات قائم کیں مردوں میں سب سے پہلے ایمان لانے کا اعزاز حاصل ہوا اور ہمیشہ حضور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے سنگ رہے اور آج بھی انکے پہلو مبارک میں جوکہ جنت کا ٹکڑا ہے آپ آرام فرما رہے ہیں اور یار غار و مزار آپ ہی کی ذات ہے مولانا حسین احمد مدنی نے کہا کہ صدیق اکبر رض نے اپنا سارا مال راہ خدا میں خرچ کیا اور غلاموں کو آزاد کیا آپ کی چہیتی بیٹی ام المومنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رض کا نکاح حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوا اور خسر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کہلائے انہوں نے کہا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ خلفائے راشدین کے ایام سرکاری سطح پر منائیں جائیں تاکہ نئی نسل انکے عظیم کارناموں اور قربانیوں سے بہرہ ور ہو اور اسلامی شعائر و طرز زندگی کو اپنائیں جوکہ نجات کا ذریعہ ہے۔













