یہ ریلیاں تاریخ کا حصہ بنیں گی

تحریر: مولانا معاویہ اعظم طارق

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی محبت ہمارے ایمان کا حقیقی جوہر اور دین کی اصل روح ہے۔ یہ وہ مقدس ہستیاں ہیں جنہوں نے اسلام کی بنیادوں کو اپنے اخلاص، قربانی، اور صبر سے مضبوط کیا۔ ان کی محبت کو زندہ رکھنا ہماری ذمہ داری ہے، اور ان کی عظمت کو خراجِ عقیدت پیش کرنا ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔ الحمدللہ، پاکستان کے ہر شہر سے نکلنے والی ریلیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ قوم اپنے اسلاف کے نقشِ قدم پر چلنے کے لیے ہمیشہ تیار ہے۔

اسلام آباد کی ریلی اس تحریک کا درخشاں ستارہ تھی۔ شاندار نظم و ضبط، والہانہ عقیدت، اور ہر عمر کے افراد کی شرکت نے اسے مثالی بنا دیا۔ مری کی برف پوش وادیوں میں منعقدہ ریلی نے ایک نئی تاریخ رقم کی، جہاں معصوم بچوں اور جوانوں کے جوش و جذبے نے ہر دیکھنے والے کا دل جیت لیا۔ ٹنڈوالہیار، قمبر شہداد کوٹ، سکھر، ایبٹ آباد، چکوال، مانسہرہ، اور گلگت کے دیوانوں کی ریلیاں عشق و وفا کی عظیم داستانیں تھیں۔ سرگودھا کی ریلی نے والہانہ عقیدت کا مظاہرہ کیا، اور منڈی بہاؤالدین کی ریلی نے صحابہؓ کی محبت میں شرکت کرنے والوں کے جذبات کو بلند کیا۔ روالپنڈی کی کانفرنس تاریخ ساز تھی، جہاں ہزاروں افراد نے اپنے دلوں کی گہرائیوں سے عشقِ صدیق اکبرؓ کا اظہار کیا۔ بھکر والوں کی شاندار انٹری نے سب کی توجہ حاصل کی، جبکہ خوشاب کے عاشقانِ صحابہ نے بازاروں سے گزرتے ہوئے محبت و عقیدت کا جو عملی مظاہرہ کیا، وہ واقعی شاندار تھا۔ جھنگ کی ریلی کے مناظر بھی دل کو چھو لینے والے تھے، جبکہ حافظ آباد کے کارکنان کی محنت ان کے جذبے کی گواہی دے رہی تھی۔ کراچی کے عاشقانِ صحابہ کا پاور شو ان تمام اجتماعات میں تاج کی حیثیت رکھتا تھا، جہاں عشقِ صدیق اکبرؓ کی گونج ہر دل میں اتر رہی تھی۔

یہ تمام ریلیاں اس بات کی گواہی ہیں کہ پاکستانی عوام کا مطالبہ واضح اور متحد ہے: یومِ صدیق اکبرؓ کو سرکاری سطح پر منایا جائے۔ یہ اجتماعات اس مطالبے کی بھرپور حمایت کرتے ہیں اور حکومتِ وقت کو باور کرواتے ہیں کہ امتِ مسلمہ اپنے اسلاف کی محبت کو فراموش کرنے والی نہیں۔ اس موقع پر، میں اپنے شاندار کلام سے ابوبکر صدیقؓ کو خراجِ تحسین پیش کرنے والے ہمارے نعت خواں حضرات کا ذکر کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ اس دفعہ کئی نئے کلام سننے کو ملے جو عشقِ صدیق اکبرؓ کے جذبے سے بھرپور تھے۔ ان نعتوں نے دلوں کو محبت اور عقیدت کی خوشبو سے مہکایا اور اجتماعات کو روحانی رنگ بخشا۔ نعت خواں حضرات کی یہ محنت واقعی تعریف کے قابل ہے، جنہوں نے اپنے اشعار کے ذریعے عشقِ صحابہ کو نئی جہت دی۔

اللہ کریم سے دعا ہے کہ ان اجتماعات میں شریک ہونے والے ہر عاشقِ صحابہؓ کو سلامت رکھے اور ان کے عشق و وفا کو مزید تقویت عطا کرے۔ یہ اجتماعات نہ صرف ہمارے ایمان کی گواہی ہیں بلکہ اس بات کا عملی مظاہرہ بھی ہیں کہ یہ امت اپنے اسلاف کی محبت میں ہمیشہ سرشار رہے گی۔ یہ وہ قافلے ہیں جو تاریخ کے صفحات پر سنہری حروف سے لکھے جائیں گے۔ یہ وہ چراغ ہیں جو اندھیروں میں روشنی کا مینار بن کر رہیں گے۔ دعا ہے کہ اللہ ان محبتوں کو قبول فرمائے، ان کوششوں کو برکت دے، اور ہماری نسلوں کو بھی صحابہ کرامؓ کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ یہی ہمارا سرمایہ، یہی ہماری پہچان اور یہی ہمارا مقصد ہے۔ آمین یا رب العالمین!