کھلے چوک کی کچہری اور ڈی ایس پی طاہر اعجاز کی کہانی

تحریر علی امجد چوہدری

طاہر اعجاز ڈی ایس پی مظفر گڑھ سٹی ہیں یہ سترہ سال جنوبی پنجاب کے مختلف تھانوں میں بطور ایس ایچ او فرائض منصبی سر انجام دینے کے بعد کئی سالوں سے بطور ڈی ایس پی اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں یہ سی آئی اے کے ڈسٹرکٹ انچارج بھی رہے ان کی duties ہمیشہ target achieving پر مرکوز رہیں یہ ایسے آفیسر ہیں جو during service سی بھی شوکاز نوٹس سے محفوظ رہے یہ جہاں بھی تعینات رہے وہاں ان کے subordinates اور علاقائی معززین ان کے شاندار اور بے داغ کیریئر کے eyewitness ملیں گے مظفر گڑھ سٹی سرکل میں یہ گزشتہ 5 ،6 ماہ سے تعینات ہیں مگر کوئی بھی شخص ان پر کسی بھی حوالے سے انگلی کھڑی نہیں کر سکا یہ تو تھا ان کا پس منظر
اب آتے ہیں ان کی آج کی غیر معمولی کاروائی کی طرف ڈی پی او مظفر گڑھ کی طرف سے آج تھانہ رنگ پور میں کھلی کچہری کے انعقاد کا اعلان کیا تھا مصروفیت کی وجہ سے ڈی پی او کھلی کچہری میں نہیں پہنچ سکتے تھے آج ان کی جگہ ڈی ایس پی سٹی طاہر اعجاز نے عوام کے مسائل سنے کھلی کچہری میں سردی کے باوجود سائلین کی ایک بڑی تعداد پہنچی مسائل کے حل کے احکامات بھی ہوئے مگر طاہر اعجاز صاحب آج کچھ غیر معمولی کرنے کے موڈ میں تھے یہ ایس ایچ او عصمت عباس کے ہمراہ جا پہنچے رنگ پور چوک میں عام سی کرسی پر جب یہ کھلی کچہری لگا کر بیٹھے تو سائلین بڑی تعداد میں امڈ آئے سائلین کو اندازہ ہوا کہ کھلے چوک میں کھلی کچہری کا انعقاد کرنے والا یہ آفیسر کوئی عام نہیں ہے اسی لیئے عوام نے بلا جھجک اپنے مسائل بیان کیئے جن کے حل کے احکامات فوری طور پر جاری ہوئے جہاں رنگ پور کے شہری خوش گوار حیرت میں مبتلا تھے وہاں ناچیز بھی حیران تھا کیونکہ یہ پہلا تجربہ تھا جب کوئی اعلیٰ پولیس آفیسر اپنے protocol سے بے اعتناء سردی میں عام لوگوں کے مسائل جاننے کے لیئے کھلے چوک میں عام سی کرسی پر سائلین کی دادرسی کے لیئے موجود تھا
علی امجد چوہدری