خطیب ایشیا مولانا ضیاء القاسمی
تحریر مولانا شاہ نواز فاروقی
اب انہیں ڈھونڈ چراغِ رُخِ زیبا لے کر
ڈھونڈتے پھرتے رہو گے بستیاں در بستیاں
روز کب پیدا ہوا کرتی ہیں ایسی ہستیاں
اس کائناتِ رنگ وبو میں کچھ خوش نصیب نفوس ایسے بھی ہوتے ہیں جن کا وجود مسعود زمین پر حق جل مجدہ کی بہت بڑی نعمت ہوتاہے لوگ ان کی زندگی میں اُن سے مختلف حوالوں سے فیض یاب ہوتے رہتے ہیں اور جب وہ اس دنیائِ فانی سے رحلت فرماجاتے ہیں تو بعد والوں کے لیے ان مٹ نقوش اور ایسی روشن یادیں چھوڑ جاتے ہیں جو ہمیشہ مشعلِ راہ ثابت ہوتی ہیں۔ خطیب العصر والزمان حضرت مولانا محمد ضیاء القاسمی رحمۃ اللہ علیہ کا شمار بھی انہیں خوش نصیب شخصیات میں ہوتا ہے۔ لامحالہ آپ ایک نابغہ روزگا رشخصیت تھے، آپ کی شخصیت ہمہ گیر اور خدمات ہمہ جہت تھیں۔
اللہ تعالیٰ نے آپ کو بے شمار ظاہری اور باطنی خوبیوں سے نوازا تھا۔آپ وسعتِ مطالعہ،ذہانت وفطانت اور فکر وتدبر میں بے مثال تھے۔ ظاہر وباطن میں یکساں اور متانت وسنجیدگی میں لاثانی تھے۔ آپ کے کلام وطعام،صورت وسیرت،نشست وبرخاست اور ہر ہر ادا سے سنتِ نبوی اور روایات اَسلاف کی خوشبو مہکتی تھی، آپ نڈر وبے باک،معاملہ فہم اور زیرک قائد تھے۔
درجنوں کتابوں کے مصنف ومؤلف اور بہت ساری مذہبی جماعتوں کے سر پرست ومحسن تھے۔ شہنشاہِ افہام وتفہیم اور ماہر درس وتدریس تھے۔ شریعت وطریقت کے جامع اور صاحبِ ذوق وعمل تھے۔ صاحب استقامت وحمیت اور انتہائی خودداروبے لوث تھے۔ مذاکرات وڈائیلاگ کے بادشاہ اور صاحب فکر ونظر بھی تھے۔
الغرض۔۔۔۔۔! آپ بہت خوبیوں اور صفات کے جامع تھے، مگر آپ کی دو صفات سب سے نمایاں اور واضح تھیں جو آپ کی امتیازی شناخت اور پہچان کا سبب بنیں :
(۱)… ان میں ایک تو آپ کی گوہر شناسی اور تربیت وراہنمائی کی کا ملیت ہے۔
(۲)…اور دوسری آپ کی بے مثال خطابت اور جادو بیانی ہے۔
آپ نے زندگی بھر صلاحیت مند افراد کو پہچان کر ان کی حوصلہ افزائی اور تربیت کی اور چھوٹوں کو بڑا بنایا۔ علماء کو ان کے مقام اصلی اور فرضِ منصبی سے روشنا س کروایا۔علماء کو باوقار طریقے سے زندگی گزارنے اور محنت ودعوت کے عملی میدانوں میں اترنے اور حالات کا سامنا کرنے کا گُر اور سلیقہ سکھایا۔ مسلکِ حقہ کو ماضی قریب اور عصر حاضر میں بہت سارے قابل علماء،ذی استعداد خطباء اور دینی جماعتوں کو بہت سارے صلاحیت مند افراد کے میسر آنے میں حضرت قاسمی رحمہ اللہ علیہ کی دلچسپی اور محنت کو کوئی بھی صاحبِ عدل وانصاف فراموش نہیں کرسکتا۔
؎قوم کی زلف پر یشان کو سنوارا تو نے
ڈوب کر کشتی ملت کواُبھارا تونے
اوررہی آپ کی تقریر وخطابت تو اس کے تو کہنے ہی کیا۔۔۔۔۔۔۔؟
جہاں بڑے بڑے زباں آوروں کی متاع ِ سخن کی انتہا ہوتی تھی وہاں سے حضرت قاسمی رحمۃ اللہ علیہ کی خطابت کی ابتدا ہوتی تھی۔ حضرت قاسمی اور خطابت ہمنشین اور لازم وملزوم تھے۔ لوگ خطاب سننے کے لیے بیسیوں میل کا سفر معمولی سمجھ کر طے کر جاتے تھے۔ سامعین حضرت کے گرد ایسے جمع ہوتے جیسے شمع کے گرد پروانے! آپ کے خطبے کا آغاز ہی مجمع پر سناٹا طاری کردیتا تھا۔گلے کی حلاوت اور زبان کا طرزِتکلم وترنم ہمیشہ ان کے غلام رہے۔
واہ اے شہنشاہِ خطابت۔۔۔۔۔۔! کیا خوب اندازِ خطابت تھا۔
؎تری زباں کے پھول تھے درہائے آب دار
ترے بیان پہ فنِ خطابت کو ناز تھا
دل ودماغ تھے ترے قدرت کا معجزہ
سینہ ترا مدینۂ سوز وگداز تھا
بر صغیر پاک وہند میں امیر شریعت حضرت سیِّد عطاء اللہ شاہ بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے بعد آپ کی خطابت کو جو مقبولیت اور عروج حاصل ہوا اس کی مثال نہیں ملتی۔ راقم ایک مرتبہ اُستاذ الحدیث جامعہ نصرۃ العلوم، ابن امام اہل سنت حضرت مولانا عبد القدوس خان قارن دامت برکاتہم العالیہ کے دولت کدہ پر محدث ِعرب وعجم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر رحمۃ اللہ علیہ کے قدم مبارک دبا رہا تھا، اسی اثناء میں حضرت قارن صاحب مد ظلہ العالی نے امام اہلسنت رحمۃ اللہ علیہ سے استفسار کیا کہ حضرت آپ کو کون سا خطیب زیادہ پسند ہے؟ اور آپ کس خطیب کو زیادہ شوق سے سُنتے تھے ؟ تو حضرت امام اہلسنت نے خطیب یورپ وایشیا حضرت مولانا ضیاء القاسمی رحمۃ اللہ علیہ کا بھر
پور محبت کے ساتھ نامِ نامی اسم گرامی ذکر فرمایا۔
؎ایں سعادت بزورِ بازو نیست
تا نہ بخشد خدائے بخشندہ
آپ کو دنیا بھر کے اُردو اور پنجابی زبان کے نامور، مترنم اور شعلہ بیان مقررین وخطباء فنِ خطابت میں اپنا اِمام اور آئیڈیل قرار دینا اپنے لیے باعثِ فخر سمجھتے ہیں۔ کیونکہ ارسطو نے ایک خطیب کے جو اوصاف بیان کئے اور علامہ ابنِ رشد نے اُن کی جو تلخیص مرتب کی، اس گئے گزرے دور میں آپ اُن کی عملی تصویر تھے۔ آپ نہ صرف خود ایک تجربہ کار اور منجھے ہوئے خطیب تھے بلکہ بے مثال خطیب گر بھی تھے، آپ نے چھ جلدوں میں خطباتِ قاسمی لکھی جس میں اہم عنوانات اور ان پر بھرپور علمی مواد جمع کرکے خطبائِ اسلام کی کئی مشکلات کو آسان کیا۔مبتدی خطباء خاص طور پر اور دیگر خطباء عام طور پر آپ کی خطباتِ قاسمی سے راہنمائی لیتے ہیں۔ آپ کی’’ خطباتِ قاسمی ‘‘ تقریباً ہر خطیب اور واعظ کی لائبریری کی زینت ہے۔ توحید وسنت کی اہمیت،ردِّ شرک وبدعت، صحابہؓ کی عظمت وآئینی حیثیت، اولیاء اللہ کی حقیقت اور دفاع ِ اکابر جیسے مضامین آپ کی خطابت کے نمایاں اور محبوب عنوانات تھے جنہوں نے دنیا بھر میں رہنے والے طالبانِ حق کو شعور اور توحید وسنت کی روشنی بخشی۔
؎عزائم کو سینوں میں بیدار کیا تو نے
نگاہِ مسلم کو تلوار کیا تو نے
حضرت قاسمی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی ہمہ گیر شخصیت کے مختصر تذکرہ کے بعد آپ کی ہمہ جہت خدمات کے تذکرہ کے طور پر صرف اتنی بات سپُردِ قلم کرنا چاہوں گا کہ وطنِ عزیز میں جب بھی کسی فتنے نے سر اُٹھایا خواہ وہ شرک وبدعت کا فتنہ ہو یا انکارِ حدیث کا فتنہ ہو یا حضرات ِ صحابہ واہلبیت پر عدمِ اعتماد کافتنہ، تو حضرت قاسمی رحمۃ اللہ علیہ اپنے رُفقاء سمیت اس کے تعاقب میں ’’ا لسابقون الاولون‘‘ کا مصداق قرار پائے۔ مزید یہ کہ وطنِ عزیز پاکستان میں نفاذِ شریعت اور قرآن وسنت کی بالادستی کے لیے جس قدر تحریکیں چلیں آپ ان تمام تحریکوں کا نہ صرف حصہ رہے بلکہ قائدا نہ کردار ادا کرتے ہوئے پیش پیش نظر آئے۔ تحریک ردِ شرک وبدعت، تحریک مدح صحابہ، تحریک نظامِ مصطفیٰ ﷺ، تحریک تحفظِ ختمِ نبوت وناموسِ رسالت، الغرض کوئی بھی تحریک اور دینی محاذ ہو تاریخ کبھی بھی حضرت قاسمی اور اُن کی مخلصانہ جدو جہد کو فراموش نہیں کر سکتی۔
؎آتی ہی رہے گی ترے انفاس کی خوشبو
گلشن تیری یادوں کا مہکتا ہی رہے گا
زندگی کے آخری ایام میں آپ نے دفاعِ صحابہ واہلبیت اور تحفظ ختم نبوت کے لیے جو انتھک محنت کی وہ آپ کی زندگی اورتابناک کردار کا ایک روشن باب ہے۔
اللہ تعالیٰ حضرت کی جمیع خدمات کو قبول فرمائے اور اُن کے خاندان اور متعلقین کو اُن کا تعارف اور مشن وروایات کو زندہ رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الکریم ۔۔۔از محمد شاہ نواز فاروقی سیکرٹری جنرل مرکزی علماء کونسل پاکستان ومھثمم دارالعلوم فاروقیہ گوجرانوالہ












