گالی کی ممانعت

تحریر:اللہ نوازخان

allahnawazk012@gmail.com

کسی کوگالی دینا سخت گناہ ہے۔گالی فحاشی اور لغو کے زمرے میں آتی ہے،اس لیے مومن اس سے ہر ممکن بچنے کی کوشش کرتا ہے۔گالی سے مراد یہ ہےکہ ایسےالفاظ استعمال کیےجائیں،جس سےکوئی فرد مشتعل ہوجائےیا معاشرہ میں بے چینی پھیل جائےاورملامتی الفاظ یا بدترین الفاظ استعمال کرنا گالی کہلاتا ہے۔اسلام سختی سے گالی سے منع کرتا ہے اورتہذیبی لحاظ سے بھی بری بات ہے۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے”مسلمان کو گالی دینا گناہ ہے اور اس کا قتل کرنا کفر ہے”(بخاری شریف)گالی اور قتل کا اکٹھا ذکر کیا گیا ہے تاکہ گالی کاگناہ بھی ظاہر ہو جائے۔بعض افراد سمجھتے ہیں کہ گالی دینا معمولی سا عمل ہے،لیکن یہ جہنم میں پہنچانے کا بھی سبب بن سکتا ہے۔ایک مومن کی عزت،جان اورمال اللہ کےنزدیک بہت مقدس ہے۔گالی نکالنے سےایک مومن کی عزت پر حرف آتا ہے،اس لیے گالی سے سختی سے منع کیا گیا ہے۔گالی سے مراد یہ بھی کہ عیب ناک باتیں کی جائیں یا ایسے الفاظ کا استعمال کیا جائے جو دوسرے کی عزت کم کر دیں۔بعض افراد آپس میں گالی گلوچ شروع کر دیتے ہیں اس سے بھی منع کیا گیا ہے۔حدیث کے مطابق”آپس میں گالی گلوچ کرنے والے جو بھی کہیں،اس کا گناہ ابتدا کرنے والے پر ہوگا،جب تک مظلوم زیادتی نہ کرے”(ابو داؤد)اس حدیث سے درس ملتا ہے کہ اگر ایک فرد گالی نکالتا ہے،تو جوابا دوسرا شخص بھی گالی دے سکتا ہےاور اس کا گناہ ابتدا کرنے والے پر ہوگا،لیکن شرط یہ ہے کہ وہ زیادتی نہ کر دے۔اسلام جہاں بدلہ کا حکم دیتا ہے وہاں معافی کو بھی خاص اہمیت دی گئی ہے۔گالی اللہ تعالی کے حکم کی نافرمانی ہے،لیکن اگر معاف کر دیا جائے تو بہتر عمل ہے۔بدلہ لیاجا سکتا ہے لیکن معافی اللہ کے ہاں کافی پسندیدگی رکھتی ہے۔قرآن مجید میں ارشاد باری تعالی ہے” تم معاف کر دو،درگزر کر دو اورچشم پوشی سے کام لو۔بے شک اللہ تعالی بخشنے والا، رحم کرنے والا ہے۔”(التغابن)معافی کااجر بھی بڑا ہےاور اللہ تعالی کو پسند بھی ہے۔قرآن حکیم میں ارشاد ہے”پس معاف کر دو اور درگزر کرو کیا تمہیں یہ پسند نہیں ہے کہ اللہ تعالی تمہیں معاف کر دے اور اللہ تو بخشنے والا ہے”(النور۔ 22)معاف کرنے سے نفرتیں بھی ختم ہوتی ہیں اور بڑے نقصان سے بھی بچا جا سکتا ہےنیز آخرت میں بھی اللہ تعالی کی بے تحاشہ مہربانیاں اور رحمتیں اس پر نازل ہوں گی۔
کسی کو ماں،بہن یا خاندان کی گالی دینا ناگوار عمل ہے۔ظاہر بات ہےکوئی نہیں چاہتا کہ اس کی عزت پر حرف آئے۔گالی برے الفاظ کا مجموعہ ہوتی ہے،جس سےشدید رد عمل بھی آسکتا ہے۔اس بیہودگی کی وجہ سے بعض اوقات بات قتل و غارت تک جا پہنچتی ہے۔اگر غصے پر کنٹرول کیا جائےاور برے الفاظ نکالنے سےپہلے سوچ لیا جائےتو بہت بڑے نقصان سے بچا جا سکتا ہے۔دوسری طرف اگر گالی سننے والا بھی برداشت سے کام لےتو بڑے نقصان سے بچاجاسکتا ہے۔گالی دینے والا سمجھتا ہے کہ وہ اچھا عمل سر انجام دے رہا ہےاور اس کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا،دنیا میں تو وہ بچ جائے گا لیکن آخرت میں اس کو اس کا حساب دینا پڑے گا۔گالی نکالنے والا ایک اور گناہ ‘تکبر’ کا بھی شکار ہو جاتا ہے،کیونکہ تکبر ہی انسان کو مجبور کرتا ہے کہ فتنہ انگیزی کی جائے۔متکبر شخص اپنی نام نہاد دھاک بٹھانے کے چکر میں اچھے برے ہر قسم کے عمل سرانجام دیتا ہے اور نتیجتا بہت بڑے خسارےاٹھاتا رہتا ہے۔گالی نکالنے والے افراد معاشرے میں نفرت کا شکار رہتے ہیں۔گالی سے معاشرے میں انتشار بھی پھیلتا ہے۔گالیوں سے گناہوں میں تواضافہ ہوتا ہے لیکن فائدہ کچھ نہیں ہوتا۔ایک حدیث کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا “اپنے ماں باپ کو گالی دینا کبیرہ گناہوں میں سے ہے”دریافت کیا گیا”بھلا کوئی اپنے ماں باپ کو بھی گالی دے گا”آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا”ہاں! کوئی آدمی کسی کے باپ کو گالی دے تو وہ بھی اس کے باپ کو گالی دے گا اور وہ کسی کی ماں کو گالی دے گا تو وہ بھی اس کی ماں کو گالی دے گا”(بخاری شریف)یعنی اگر دوسرے کو گالی دی جائے تو لازما اس کو رد عمل کے طور پر گالی سننا پڑے گی،اگرکسی کےوالدین کوگالیاں دی جائیں یا ان پر دشنام طرازی کی جائے تو جوابا اس کو بھی گالیاں یا دشنام طرازی سننا پڑے گی۔آج کل تو والدین کو براہ راست گالیاں دی جاتی ہیں اور والدین بیچارے کمزور پوزیشن پر ہونے کی وجہ سےجواب نہیں دے پاتے۔یہ ایک سنگین غلطی اور کبیرہ گناہ ہے کہ والدین کی توہین کی جائے یا ان کے خلاف بدزبانی کی جائے۔والدین کے اولاد پر بہت سے حقوق ہوتے ہیں۔والدین اگر اولاد کو گالیاں نکالیں یا ماریں پیٹیں توہر حال میں برداشت کرنا چاہیے۔والدین کتنے بھی گنہگار کیوں نہ ہوں،اولاد کو صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے،اس طرح وہ دنیا اور آخرت میں کامیابی حاصل کر پائیں گے۔والدین کا بھی فرض ہےکہ ایسے عمل سے گریز کریں جس سے اولاد کو تکلیف حاصل ہوتی ہو۔
اج کل ایک رواج چل پڑا ہے کہ مذاق میں گالیاں دی جاتی ہیں اور افسوس کی بات ہے کہ ان کو برا نہیں سمجھا جاتا بلکہ ایک ثقافت سمجھا جاتا ہے۔بعض افراد کی بات بات پر گالی نکالنا عادت بن جاتی ہےاور اس عمل سے دوسروں کو تکلیف ہوتی ہے۔بعض اوقات کوئی دوسرا موجود نہیں ہوتا لیکن انسان گالی نکال ہی دیتا ہے۔مثال کے طور پر اگر راہ چلتے ٹھوکر لگ جائےیا راستے پر کوئی تکلیف دہ چیز نظرآ جائے،تو گالی نکل ہی جاتی ہے۔ایسی مغلظات انسان کو فائدہ کی بجائے نقصان پہنچاتی ہیں کیونکہ لغو زبان استعمال کرنے کی وجہ سے اس کے نامہ اعمال میں گناہوں کا اضاف ہو جاتا ہے۔گالی نکالنا ایک تو بدتہذیبی ہےاور دوسرا معاشرے میں نفرت بھی پھیل جاتی ہے۔بعض اوقات اگر خوشی حاصل ہو جائے تو پھر بھی گالی نکال دی جاتی ہے یہ بھی برا فعل ہے۔مغلظات،لغو بیانی،برے الفاظ یا گالی گلوچ سے ہر ممکن حد تک کوشش کرنی چاہیے کہ ان سے بچا جا سکے۔اسلام نے صرف مسلمانوں کو گالی دینے سے منع نہیں کیا بلکہ دوسروں کو بھی ایذادینے سے منع کیا ہے،یہاں تک منع کیا گیا ہے کہ کسی کے جھوٹے خدا کو بھی گالی نہ دی جائے۔قرآن حکیم میں ارشاد باری تعالی ہے”اور(اے ایمان والو!)یہ لوگ اللہ کے سوا جن کو پکارتے ہیں انہیں گالیاں نہ دو،کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ شرک سے آگے بڑھ کر جہالت کی بنا پر اللہ کو گالیاں دینے لگیں۔ہم نے اس طرح ہر گروہ کے لیے اس کے عمل کو خوش نما بنا دیاہےپھر انہیں اپنے رب ہی کی طرف پلٹ کر آنا ہے،اس وقت وہ انہیں بتا دے گا کہ وہ کیا کرتے رہے ہیں”(الانعام۔108)