2024ء کااختتام،صرف ہندسےکی تبدیلی نہیں ہونی چاہیے
تحریر:اللہ نوازخان
allahnawazk012@gmail.com
آخر کار 2024 ءبھی رخصت ہو گیا اور 2025 کا آغاز ہو گیا ہے۔دنیا کی بڑی آبادی نئے سال کا استقبال کرتی ہے۔استقبال کرنے کے لیےفنکشن منعقد کیے جاتے ہیں اور بے شمار سرمایہ استقبال پر خرچ کر دیا جاتا ہے۔کئی جگہوں پرہوائی فائرنگ بھی ہوتی ہے،پتہ نہیں فائرنگ کر کےکون سی خوشی حاصل ہوتی ہے۔بہرحال ہر ایک اپنے احساسات کے مطابق نئے سال کا استقبال کرتا ہے۔ایک ہندسے کی تبدیلی یہ احساس دلاتی ہےکہ تبدیلی کا مقابلہ کیا جائے۔2024 پاکستانیوں کے لیےمشکل ترین سال گزرا ہے۔اس سال میں نئے سیاسی کھیل کھیلے گئےاور نئے منصوبے بنائے گئے۔پاکستانیوں کے لیے یہ سال بہت سی مہنگائی لے کر آیا۔انتشار کی صورتحال بھی موجود رہی۔صرف پاکستان کے لیے یہ سال مشکل ثابت نہیں ہوا بلکہ دنیا کا بہت سا حصہ مشکلات کا شکار رہا۔میانمار،سوڈان،مشرق وسطی اور دوسرے کئی ممالک میں انتشار جاری رہا۔ٹرمپ کی جیت بھی دنیا کے لیے حیرت کا سبب بنی،توقع تھی کہ اس کوکامیابی مشکل سے ملے گی،کیونکہ اس کے خلاف کیس بھی رجسٹرڈ کیے گئے تھےاور تنقید بھی اس پر کی جا رہی تھی۔ان حالات کے باوجود ٹرمپ جیت گئے۔انہوں نے اس بات کا وعدہ کیا ہے کہ مشرق وسطی میں امن لائیں گے،لیکن امن مشکل نظرآتا ہے۔اس کی جیت پاکستانی سیاستدانوں کے لیے بھی پریشانی کا سبب بنی۔امریکی سیاست کو پاکستان اور کئی ممالک میں خصوصی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ امریکی مداخلت دنیا میں پریشانیاں پیدا کرتی رہتی ہے۔ایران پر لگائی گئی پابندیاں،ایران کے لیےبہت سی مشکلات پیدا کر چکی ہیں۔بہرحال نئے سال کی تبدیلی ہو چکی ہے۔2024ء میں سیاستدان شدید تنقید کی زد میں رہے ہیں اور اب بھی ان پر تنقید کی جا رہی ہے۔سیاست دانوں اور عوام میں بڑھتے فاصلےبے چینی پیدا کر رہے ہیں اور ان فاصلوں کو ختم کرنا مشکل ہو گیا ہے۔نون لیگ سمیت تمام پارٹیاں بہت بڑے بحرانوں کا سامنا کر رہی ہیں۔نون لیگ تمام پارٹیوں سے زیادہ نقصان اٹھا رہی ہے۔نون لیگ نے مرکز اور پنجاب کی حکومت سنبھالی ہوئی ہےاور حکومت میں ہونے کی وجہ سےتمام تنقید کا ملبہ نون لیگ پر زیادہ گر رہا ہے۔دوسری سیاسی اتحادی پارٹیاں مفاد تو سمیٹ رہی ہیں لیکن ن لیگ جیسی تنقید سے بچی ہوئی ہیں۔نون لیگ کے خلاف پی۔ٹی۔آئی کی صورت میں مضبوط اپوزیشن بھی موجود ہےاور پی۔ٹی۔آئی کی مضبوطی نون لیگ کے لیےخطرہ بن چکی ہے۔
معاشی طور پر بھی پاکستان سخت حالات کا مقابلہ کر رہا ہے۔قرضوں کا بھاری حجم پاکستان کی ترقی کے لیےبہت بڑی رکاوٹ بن رہا ہے۔زراعت اور انڈسٹریز بھی بدترین حالت میں پہنچ چکی ہیں۔دہشت گردی بھی پاکستان کے لیے ایک ناسور بن چکی ہے۔افغانستان کے ساتھ ہلکی پھلکی جھڑپیں بھی ہو رہی ہیں اور یہ جھڑپیں کسی بڑی جنگ کا پیش خیمہ بھی ثابت ہو سکتی ہیں۔دھرنے بھی حکومت کے لیے درد سر بنے رہے۔پارہ چنار کا مسئلہ سنگین صورتحال اختیار کرتا جا رہا ہےاور 2024میں یہ مسئلہ شدت اختیار کر گیاتھا،اب 2025 میں کیا صورتحال اختیار کرتا ہے،ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا۔سموگ کا مسئلہ بھی پاکستان اور دنیا بھر کے لیےشدت اختیار کر چکا ہے۔سموگ ایک ایسا دشمن ہے جس کو فوری طور پر قابو نہیں کیا جا سکتا،لیکن کچھ عرصہ کے بعد سموگ کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔سموگ جیسے جان لیوا دشمن کا مقابلہ پوری عالمی برادری مل کر ہی کر سکتی ہے۔سموگ کی وجہ سےپاکستان کی کمزور معاشی حالت مزید کمزور ہوئی ہے،کیونکہ اس پر قابو پانے کے لیےکئی اینٹوں کےبھٹےمسمار کیے گئے اور کئی ایسےآپشن اپنائے گئے جس سے روزگار میں کمی واقع ہوئی۔سمگلنگ بھی پاکستان کے لیےشدید مسائل پیدا کر رہی ہے،2025ء میں اس کو روکنے کے لیےسخت قسم کی کاروائیاں کرنی ہوں گی۔
سیاسی صورتحال کو بہتر بنانےکی کوئی سنجیدہ کوششیں نہیں کی گئی۔سیاسی مکالمہ بازی بہت ضروری ہوتی ہے،لیکن مکالمہ بازی کی بجائےاختلافات نظر آتے رہے۔تعلیمی صورتحال بھی مایوس کن رہی ہے۔صحت کےاور دیگر مسائل پاکستانی عوام کو پریشان کرتے رہے۔انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں دنیا بھر میں ہوتی رہیں اور پاکستان میں بھی انسانی حقوق متاثر ہوتے رہے۔اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال(یونیسف)کی طرف سے ایک رپورٹ جاری کی گئی ہے کہ بچوں کے حقوق کی ریکارڈ تعداد میں خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔دنیا بھر میں کئی ملین بچے تشدد کا شکار ہو رہے ہیں اور غذائی قلت کا سامنا بھی ہے۔مشرق وسطی،لبنان، ایتھوپیاوغیرہ میں انسانی حقوق خصوصا بچوں کے حقوق کو بری طرح نظر انداز کیا گیا۔بچوں کو بےگھری کا بھی سامنا کرنا پڑا۔پاکستان میں بھی لاکھوں بچےسکول سے باہر ہیں،خصوصا پسماندہ علاقوں کے بچےزیادہ سکول سے باہر ہیں۔سکول اور تعلیمی اداروں کی کمی بچوں کی تعلیمی ضروریات کو متاثر کر رہی ہے۔بچوں کے ساتھ جنسی زیادتیاں بھی ہوئیں۔بچوں کے لیےتعلیم کے علاوہ دوسری سہولیات بھی مہیا ہونی چاہیے،کیونکہ بچےبڑے ہو کر ہی مستقبل میں ملک و قوم کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں۔
2024 ءگزر چکا ہےاور 2025ء بھی گزر جائے گا۔اگر حالات پر قابو پانے کی کوشش نہیں کی گئی تو 2025 کادور2024 سے بھی بدتر ہوگا۔بھوک جیسا مسئلہ سنگین صورتحال اختیار کر سکتا ہے۔2024ءمیں گندم اسکینڈل نےکسانوں کو ٹھیک ٹھاک نقصان پہنچایا ہے،2025ء میں ایسا کیا گیا تو 2026ء میں لاکھوں ایکڑزمین گندم کی فصل سے محروم رہ جائے گی۔دیگر اجناس بھی خطرے سے دوچار ہیں،کیونکہ بڑھتی مہنگائی کسانوں کے مسائل میں اضافہ کر رہی ہے۔سیاسی عدم استحکام نے بھی سخت مایوسی پھیلائی اور سیاسی عدم استحکام کوختم کرنے کی ضرورت ہے۔اگرمذاکرات سے سیاسی استحکام ختم نہیں ہوتا تو دوبارہ الیکشن کرا دینے چاہیے۔پاکستان مسلسل نقصان برداشت کرتا رہا ہے،اب ان نقصانات کو روکنا ہوگا۔2025ء میں عہد کرنا چاہیے کہ یہ سال جب اختتام پذیرہوگا تو دنیا ایک بہترین پاکستان کو دیکھے گی۔دہشت گردی ختم ہو جائے گی،روزگار کا مسئلہ نہیں رہے گا،تعلیم اور صحت جیسے مسائل بہتر ہو جائیں گے،میرٹ کو سنجیدگی سے اپنا لیا جائے گا۔عدل و انصاف کے لیے مکمل نظام قائم کیا جائے گا۔عدالتیں بہترین انصاف دیں گی اور ادارےعوام کی خدمت کریں گے۔جتنےبھی مسائل ہیں،اس سال کے آخر تک قابو میں آ جائیں گے۔اگر مسائل اس سے زیادہ خراب ہو گئےتو 2025ء بھی پاکستانیوں پر عذاب کی صورت میں گزرے گا۔بہرحال امید کرنی چاہیےیہ صرف ہندسہ تبدیل نہیں ہوا بلکہ سوچ اور فکر بھی تبدیل ہوئی ہے۔قوم کو خود بھی اپنے حقوق کا خیال کرنا ہوگا اور اس کے لیےجدوجہد کرنا ہوگی۔امید ہے صرف ہندسہ تبدیل نہیں ہوا بلکہ حالات بھی تبدیل ہو جائیں گے،ورنہ صرف ہندسے کی تبدیلی کوئی معنی نہیں رکھتی۔










