چھدرو کی زراعت کو منی ڈیم اور نہر دو

تحریر ،، آصف نیازی ملنگ بابا چھدرو

چھدرو، میانوالی کا ایک اہم مگر نظرانداز شدہ علاقہ ہے، جو اپنی منفرد جغرافیائی حیثیت کے باعث ایک میدانی اور پہاڑی علاقے پر مشتمل ہے۔ یہ خطہ زراعت پر مبنی معیشت رکھتا ہے، لیکن یہاں کے کاشتکاروں کو جن مسائل کا سامنا ہے، وہ نہایت سنگین اور فوری توجہ کے متقاضی ہیں۔ زیرِ زمین پانی کی انتہائی کم سطح اور موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے چھدرو کی زراعت سنگین خطرات سے دوچار ہے۔ اس علاقے میں زراعت کا دارومدار زیادہ تر ٹیوب ویلوں سے حاصل ہونے والے پانی پر ہے، لیکن زیرِ زمین پانی کی مسلسل کم ہوتی سطح نے ٹیوب ویل کے ذریعے زراعت کو نہایت مہنگا اور مشکل بنا دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چھدرو کے زمیندار اور کسان حکومت سے فوری اور موثر اقدامات کی توقع رکھتے ہیں تاکہ زراعت کو بچایا جا سکے اور اس علاقے کی معیشت کو مستحکم کیا جا سکے۔
چھدرو میں زراعت کو درپیش بنیادی مسئلہ پانی کی کمی ہے، جو زیرِ زمین پانی کے ذخائر کی کمی اور بارشوں کے غیر متوقع نظام کی وجہ سے مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔ یہاں کے کسانوں کو روز بروز بڑھتے ہوئے اخراجات کا سامنا ہے کیونکہ ٹیوب ویلوں کے ذریعے پانی حاصل کرنے کے لیے بجلی اور ایندھن پر بے حد خرچ آتا ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف کسانوں کی معیشت کو متاثر کر رہی ہے بلکہ پورے علاقے کی زرعی پیداوار کو بھی محدود کر رہی ہے۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو چھدرو کی زراعت، جو یہاں کے لوگوں کی معیشت کا بنیادی ستون ہے، مکمل طور پر ختم ہو سکتی ہے۔
ان مسائل کے حل کے لیے حکومتی سطح پر فوری اقدامات ناگزیر ہیں۔ سب سے اہم قدم یہ ہوگا کہ علاقے میں منی ڈیمز کی تعمیر کی جائے تاکہ بارش کے پانی کو ذخیرہ کیا جا سکے اور ضرورت کے وقت زراعت کے لیے استعمال کیا جا سکے۔ منی ڈیمز نہ صرف پانی کی قلت کو کم کریں گے بلکہ زمین کی زرخیزی کو بھی بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوں گے۔ ان ڈیمز کی مدد سے نہ صرف کسانوں کو سستی اور آسانی سے دستیاب پانی فراہم کیا جا سکتا ہے بلکہ یہ زیرِ زمین پانی کی سطح کو بھی بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوں گے۔
دوسرا اہم اقدام چھدرو کے مہاڑ ایریا کو نہری نظام سے منسلک کرنا ہے۔ نہری پانی کی دستیابی زراعت کے لیے ایک مستقل اور قابلِ اعتماد ذریعہ ثابت ہو سکتی ہے۔ اس سے کسانوں کو بارشوں پر انحصار کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی، اور وہ سال بھر اپنی فصلوں کی بہتر پیداوار حاصل کر سکیں گے۔ نہری نظام کی ترقی سے نہ صرف پانی کی کمی کا مسئلہ حل ہوگا بلکہ کسانوں کو ٹیوب ویلوں کے اخراجات سے بھی نجات ملے گی۔
مزید برآں، چھدرو کے کسانوں کو جدید زرعی طریقوں کی تعلیم اور ٹیکنالوجی فراہم کی جانی چاہیے۔ اس علاقے میں جدید آبپاشی کے نظام، جیسے ڈرپ ایریگیشن، کا استعمال کیا جا سکتا ہے تاکہ پانی کے ضیاع کو کم سے کم کیا جا سکے اور فصلوں کو مناسب مقدار میں پانی فراہم کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ، کسانوں کو زرعی قرضوں اور سبسڈی کے ذریعے مالی امداد فراہم کرنا بھی ضروری ہے تاکہ وہ جدید مشینری اور کھادیں خرید سکیں اور اپنی پیداوار میں اضافہ کر سکیں۔
چھدرو کی زراعت کی بحالی صرف اس علاقے کے کسانوں کے لیے ہی اہم نہیں بلکہ ملک کی مجموعی زرعی معیشت کے لیے بھی ضروری ہے۔ میانوالی جیسے علاقوں میں زراعت کی ترقی سے نہ صرف خوراک کی پیداوار میں اضافہ ہوگا بلکہ دیہی علاقوں کی غربت کو بھی کم کیا جا سکے گا۔ اگر حکومت فوری طور پر مناسب اقدامات نہیں کرتی تو اس علاقے کی زراعت مکمل طور پر تباہ ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں بے روزگاری، غربت، اور نقل مکانی جیسے سنگین مسائل جنم لے سکتے ہیں۔
مختصراً، چھدرو کا زرعی مسئلہ ایک ایسا چیلنج ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ پانی کی قلت، جدید زرعی ٹیکنالوجی کی عدم دستیابی، اور حکومتی بے توجہی نے اس علاقے کی معیشت کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ لیکن اگر حکومت منی ڈیمز کی تعمیر، نہری نظام کی توسیع، اور جدید زرعی طریقوں کے فروغ جیسے اقدامات کرے تو نہ صرف چھدرو کی زراعت کو بچایا جا سکتا ہے بلکہ پورے علاقے کی معیشت کو بھی ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکتا ہے۔ یہ اقدامات وقت کی اہم ترین ضرورت ہیں، اور ان کے بغیر چھدرو کی زراعت کو بچانا ممکن نہیں ہوگا۔