موت کاذائقہ ہرجان نےچکھناہے

تحریر:اللہ نوازخان

allahnawazk012@gmail.com

قرآن حکیم میں ارشاد باری تعالی ہے”ہر جان کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے،پھر ہماری طرف تم پھیرے جاؤ گے “(العنکبوت)موت ایک ایسی حقیقت ہے جس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ایک ایسی اٹل حقیقت،جس نے لازمی آنا ہے۔فرشتے،جن،انسان حتی کہ ہر جاندار نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔ایک انسان فرشتوں اور جنوں کا انکار کر سکتا ہے،روز قیامت کو جھٹلا سکتا ہے،یہاں تک کہ اللہ کا بھی انکار کر سکتا ہے،لیکن موت کا کوئی انکار نہیں کر سکتا۔جو بھی اس دنیا میں آیا ہے،لازمی طور پر اس نےمرنا ہے۔اللہ تعالی نے انسان کو بتا دیا ہے کہ تم پر موت لازمی آئےگی،پھر ہماری ہی طرف پھیرے جاؤ گے۔روزانہ مرنے والے افراد یہ درس دیتے ہیں کہ ہم نے بھی آخر ایک دن مرہی جانا ہے۔تاریخ انسانی میں ایسے افراد بھی گزرے ہیں،جنہوں نے خدائی دعوے تک کر ڈالے،لیکن موت کو نہ ٹال سکے۔سرکش بادشاہ فرعون نےبھی دعوی کیا تھا”میں رب اعلی ہوں”(النزعت۔24)لیکن موت کو نہ ٹال سکا۔تصور کیا جائےکہ وہ کتنا بڑا دعوی کر رہا ہے،لیکن موت نے اس کو دعوے اور سرکشی سمیت نیست و نابود کر دیا۔نمرود، شدادسمیت کتنے طاقتور افراد گزرے ہیں،لیکن موت کو شکست نہ دے سکے۔اگر کوئی دعوی کرتا ہے کہ وہ ہمیشہ رہے گاتو وہ بالکل جھوٹ بول رہا ہے،کیونکہ ایک مخصوص عمر کے بعد ہر ایک نے مر ہی جانا ہے۔
ایک انسان کی خواہش ہوتی ہےکہ وہ ہمیشہ زندہ رہے۔زندگی سے محبت انسان کو مجبور کرتی ہےکہ وہ کبھی نہ مرے۔زندگی ایک پیاری نعمت ہے،لیکن یہ نعمت بھی مخصوص حد تک عطا ہوتی ہے،اس کے بعد موت کا ذائقہ ہی چکھنا ہے۔انسان بقا کی خواہش کرتا ہے،لیکن موت اس کی خواہش کو پورا نہیں ہونے دیتی۔ایک انسان دوسرے انسان پر ظلم و جبر کے پہاڑ توڑتا ہے،دیگر جرائم اور گناہ بھی کرتا رہتا ہے،لیکن موت آ ہی جاتی ہے۔ایک انسان کی سرکشی اس کو مجبور کرتی ہے کہ دوسرے انسانوں کو قتل کر دے۔ارد گرد نظریں دوڑائی جائیں تو آسانی سے علم ہو جاتا ہے کہ مظلوم انسانوں کو کس طرح قتل کیا جا رہا ہے؟پوری پوری بستیاں صفحہ ہستی سے مٹائی جا رہی ہیں،نسل انسانی کو ختم کرنے کے درپے انسان،دوسرے انسانوں کو دردناک طریقے سے مار رہا ہے۔مرنا اس نے بھی ہے، جو کمزور اور مظلوم انسانوں کو مار رہا ہے۔مقتول اور قاتل دونوں ہی نےموت کا ذائقہ چکھنا ہے۔ایک انسان جتنا بھی جی لے،لیکن موت آنی ہی آنی ہے۔جس انسان نےموت کے بعدکی تیاری کرنی تھی،وہ موت کو بھلا کر عارضی زندگی کو سنوارنے کی کوشش کر رہا ہے۔ایک حدیث کے مطابق حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا”دنیا میں ایسے رہو جیسے مسافر بلکہ راہ چلتا”(بخاری)حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ دنیا میں اس طرح رہنا ہے جس طرح ایک مسافرکسی علاقے سے چند ساعت کے لیے گزرتا ہے۔اس حدیث میں ایک بڑا سبق موجود ہےکہ ایک انسان تھوڑے سی عرصے کے لیے اس دنیا میں آتا ہے۔اس دنیا میں وہ اس طرح سمجھے کہ وہ کوئی مسافر ہےاور تھوڑا سا بیٹھ کرآگے لمبے سفر پر اس کو جانا ہے۔
جو انسان اس دنیا میں جس طرح زندگی گزارتا ہے،اس کو اس کا اجر لازمی ملے گا۔اچھے اعمال اس کو جنت دلائیں گےاور برے اعمال اس کو جہنم میں داخل کریں گے۔لاریب کتاب میں ہے”ہر جان کو موت کا ذائقہ چھکنا ہےاور قیامت کے دن تمہیں تمہارے اجر پورے پورے دیے جائیں گے،تو جس سے آگ سے بچا لیا گیا اور جنت میں داخل کر دیا گیا تو وہ کامیاب ہو گیااور دنیا کی زندگی تو صرف دھوکے کا سامان ہے”(العمران۔185)اللہ تعالی نے واضح بتا دیا ہےکہ یہ دنیا فریب ہےاور فریب سے بچو۔قرآن کے مطابق کامیاب وہ ہے جوجہنم سے بچ گیا اور جنت میں داخل ہو گیا۔بہت سے افراد کامیابی یہ سمجھتے ہیں کہ دنیا میں اعلی عہدے مل جائیں یا دولت کے ڈھیر مل جائیں یا اس کی خواہشات پوری ہوتی رہیں،لیکن قرآن اس کو کامیاب کہتا ہے جو جہنم سے بچ گیا۔دنیا میں جتنے بھی عہدے مل جائیں،کتنی ہی طاقت کیوں حاصل نہ ہو جائے،اس پر غرور کرنے کی بجائےاللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے اور دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کی جائیں۔
ایک فرد کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو،کتنا کامیاب ہی کیوں نہ ہو،کتنا ظالم اور سرکش ہی کیوں نہ ہو،موت نے اس کے تمام اختیارات چھین لینے ہیں۔ماضی کی طرف نظر دوڑائی جائےتو بڑے بڑےنامور انسان خاک کا رزق بن چکے ہیں۔کہاں ہےسکندر،کہاں ہے رستم،کہاں ہے جام جم،کہاں ہےچنگیز خان،سب خاک میں مل گئے۔مظلوم بھی مر گئے اور ظالم بھی،آقا بھی مر گئے اور غلام بھی۔ہر ایک موت کے آگے مجبور ہوا۔ایسے ایسے بادشاہ گزرے ہیں جن کے ایک اشارے پردنیا میں بھونچال آجاتے تھے،اب وہ زمین کے نیچے چلے گئے۔تاریخ میں ایسے ایسےجی داروں کے کارنامے ملتے ہیں،جو دنیا میں تبدیلیاں پیدا کر دیتے تھے،اب ان کا نام و نشان تک نہیں بچا۔یہ عبرت کی جگہ ہے اورعبرت حاصل کرنی چاہیے۔ہرانسان کاخاتمہ ہوگا اور اس کائنات کا بھی آخر کار خاتمہ ہو جائے گا۔سر بکف پہاڑ بھی فنا ہو جائیں گےاور زمین بھی فنا ہو جائے گی۔اے انسان!تجھے سوچنا چاہیےکہ تو دنیا میں کس مقصد کے لیے آیا ہے؟کیا تیرا مقصد یہی ہے کہ تو اللہ کی نافرمانی کرتا رہےاور آخرت کی تیاری نہ کرے؟دنیا میں جتنی سانسیں باقی ہیں،ان سانسوں پر اللہ کا شکر ادا کر کے اللہ کو راضی کیا جائے۔پہلے سے موت کی تیاری کرنی چاہیے،کیونکہ بعض اوقات موت ایسے آتی ہے کہ پتہ بھی نہیں چلتا اور انسان اگلی دنیا کا باسی بن جاتا ہے۔قرآن انسان کی رہنمائی کے لیے موجود ہےاوراس سے رہنمائی ضرور حاصل کرنی چاہیے تاکہ کامیابی حاصل ہو جائے۔
فانی دنیا سے دل نہیں لگانا چاہیے،بلکہ آخرت کی تیاری کرنی چاہیے۔کسی بھی قبرستان میں چلے جائیں،عبرت حاصل ہوتی ہے۔ٹوٹی پھوٹی قبریں بتا رہی ہوتی ہیں کہ آخرتم نے بھی اسی جگہ پرآنا ہے۔ان قبروں میں بڑے بڑے نامور مدفون ہیں۔ظالم بھی دفن ہیں اور مظلوم بھی،قاتل بھی مدفون ہیں اور مقتول بھی،ان قبروں کودیکھنے سےدرس عبرت ملتا ہے۔ایسے ایسے طاقتور گزرے جن کی دہشت سےدنیا کانپتی تھی لیکن اب ان کی قبروں کا نام و نشان بھی مٹ چکا ہے۔فنا ہونے والی چیز سے سبق ملتا ہے کہ ہم نے بھی فنا ہونا ہےاور اس دنیا کی ہر چیز فانی ہے۔اللہ کی ذات باقی ہے اور ہمیشہ باقی رہے گی،لیکن اس دنیا کو فنا ہونا ہی پڑے گا۔ایسے اعمال کرنےچاہیے جس سے دوسروں کو راحت ملے۔ایسے افعال سے گریز کرنا چاہیے جس سے دوسروں کی مشکلات میں اضافہ ہو۔جتنی سانسیں مل چکی ہیں،ان پر شکر گزار ہو کراللہ کےاحکامات کو مان لیا جائے۔اللہ کی فرمانبرداری میں گزرنے والی زندگی کامیاب زندگی ہے۔موت کی سختی بہت شدید ہوتی ہے،دعا کرنی چاہیے کہ اس کی سختی سےامن ملے۔کامیابی یہی ہے کہ اللہ کو راضی رکھا جائے،ورنہ دردناک عذاب ملے گا۔ایسا عذاب جس کا تصور ہی خاصا خوفناک ہے۔