“عالمی امن خطرات کی زدمیں”
تحریر:اللہ نوازخان
allahnawazk012@gmail.com
عالمی امن خطرات کی زد میں ہے۔کہیں جنگ شروع ہےاور کہیں شروع ہونے والی ہے۔جنگوں نے عالمی امن کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔جدھر بھی نظر دوڑائی جائے،افرا تفری مچی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔انسانیت سسک رہی ہے۔انسانوں کو انسان قتل کر رہے ہیں اور قتل بھی یہ کہہ کر،کر رہے ہیں کہ”ہم دنیا میں امن لا رہے ہیں”افغانستان کئی دہائیوں سے حالت جنگ میں ہے،اب کوئی امن آیا ہے لیکن مکمل امن نہیں کہا جا سکتا کیونکہ ابھی تک بد امنی جاری ہے۔مشرق وسطی میں جاری انتشار بد امنی کی خبر دے رہا ہے۔شام،میانمار،ایتھوپیا،کانگو،صومالیہ،نائجیریاکے علاوہ کئی ممالک میں بدامنی نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔روس اور یوکرین جنگ نے بھی عالمی امن کو خاصانقصان پہنچایا ہےاور یہ جنگ ابھی بھی جاری ہے۔کشمیر بھی سلگ رہا ہےاور کشمیری عوام بنیادی حقوق سے محروم ہو چکے ہیں۔اسرائیل اپنے عزائم کئی عرصے سےظاہر کر رہا ہےاور مزید علاقوں تک جنگ کو پھیلانے کا اظہارکر رہا ہے۔اسرائیل کی حمایت بڑی بڑی طاقتیں کر رہی ہیں اور ان طاقتوں کی بدولت اسرائیل مزید علاقوں کو جنگی میدان بنانےکا عزم کر چکا ہے۔ایران کے ساتھ بھی فورا نہ سہی،کچھ عرصے کے بعد جنگ لازما چھیڑے گا۔یہ جنگیں اور فساد عالمی امن کو تباہ کرنے کے در پےہیں۔
دنیا میں ترقی کی رفتار بھی بہت تیزی سے بڑھ رہی ہےاور یہ ترقی انسانیت کو فوری طور پر تباہ بھی کر سکتی ہے۔جدید ہتھیار انسانوں کو فوری ختم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور ایٹمی طاقت انسانوں کو قلیل وقت میں ختم کر سکتی ہے۔جدید کیمیائی ہتھیار بھی وسیع پیمانے پر تباہی لا سکتے ہیں۔ماضی میں جب جنگیں لڑی جاتی تھیں تو مخصوص حد میں انسان قتل ہوتے تھے اوروہ علاقے متاثر ہوتے تھے،جہاں جنگیں لڑی جا رہی ہوں،آج کے دور میں وسیع پیمانے پر انسان قتل ہو رہے ہیں۔وہ علاقے بھی لپیٹ میں آرہے ہیں جو جنگ زدہ علاقے کے پڑوس میں ہیں۔جنگوں کے علاوہ دیگر مسائل بھی عالمی امن کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ماحولیاتی تبدیلیاں،غذائی قلت،پانی کا مسئلہ اور غربت وغیرہ جیسے کئی مسائل ہیں،جو عالمی امن کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔ان مسائل کو حل کرنے کی بجائے،اضافہ کیا جا رہا ہے۔بڑھتے مسائل بدامنی کو فروغ دے رہے ہیں اور مستقبل میں کم امکان ہے کہ ان کو حل کیا جائے۔صرف مشرق وسطی کا حال ہی دیکھ لیا جائے،جہاں کئی دہائیاں ہو چکی ہیں لیکن امن لانے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی۔
اس بات کا بھی امکان بڑھ چکا ہے کہ بڑی طاقتور ریاستیں،چھوٹی اور کمزور ریاستوں کو زیر کنٹرول لے آئیں۔بڑے طاقتور ممالک مفاد کے لیےاتحاد بھی کر سکتے ہیں۔ان طاقتور ممالک کا اتحاد اسلامی دنیا کے لیےخاصا خطرناک ہو سکتا ہے۔روس، امریکہ،برطانیہ اور کچھ بڑے ممالک متحد ہو کر مختلف ممالک پر قبضہ کی جنگ چھیڑ سکتے ہیں۔یہ اتحاد کمزورغیر مسلم ممالک کو بھی ہڑپ کر سکتا ہے،کیونکہ یہ اتحاد کوئی نظریے کی بنیاد پر نہیں بنے گا بلکہ مفاد کی بنا پر بنے گا۔یورپ کے کچھ ممالک اس اتحاد کا نشانہ بن سکتے ہیں،نیز ایشیا اور افریقی ممالک بھی شدید خطرے کی زد میں آسکتے ہیں۔یہ بڑی طاقتوں کا اتحاد عالمی امن کو شدید خطرات سے دوچار کر دے گا۔ان طاقتوں کی جنگی پالیسی یہ ہوسکتی ہےکہ ممالک کو حصوں میں بانٹ لیں۔اسرائیل اس اتحاد سے فائدہ اٹھانے کی لازما کوشش کرے گا،کیونکہ اس کو موقع مل جائے گا کہ وہ اپنےتوسیع پسندانہ عزائم کو پورا کرے۔سعودی عرب بھی ان کا خاص نشانہ ہو سکتا ہے کیونکہ ایک تو سعودی عرب کمزور ہے اور دوسرا تیل اور دیگر خزانے سعودی عرب میں پائے جاتے ہیں۔دیگر عرب ممالک میں بھی قیمتی خزانےموجود ہیں۔کئی ایسے ممالک جو اقتصادی لحاظ سے بھی کمزور ہیں اور فوجی لحاظ سے بھی اتنے طاقتور نہیں کہ دشمن کا مقابلہ کر سکیں،وہ اپنا بچاؤ نہیں کر سکیں گے۔
عالمی امن آج کے دور میں شدید خطرے سے دوچار ہو چکا ہے،کیونکہ قبضے اور دولت کی حرص نے بڑی طاقتوں کی آنکھیں خیرہ کر رکھی ہیں۔غزہ،شام،عراق اور افغانستان سمیت کئی علاقوں میں ابھی تک بربادی کےشکارشہریوں کی بحالی نہیں ہو سکی۔تباہ شدہ ممالک اپنےشہریوں کو بحال کرنے کے لیےمضبوط ممالک کی طرف دیکھ رہے ہیں۔طاقتور ممالک کی پالیسی یہی رہی ہے کہ کمزور ممالک کو معاشی لحاظ سے جکڑ دیا جائےاور بعد میں مفاد سمیٹے جائیں۔کمزور ممالک کو زیراثر رکھنے کے لیےبہت سی پابندیوں میں جکڑ لیا جاتا ہے۔بعد میں کمزور ممالک کے اندر خانہ جنگی کا ماحول بھی بنا دیا جاتا ہے۔مستقبل قریب میں کمزور ممالک پر قبضہ بھی کیا جاسکتا ہے۔قبضہ کرنے کے لیےلاکھوں انسان قتل بھی کیےجا سکتے ہیں،یوں کہا جا سکتا ہے کہ اب بھی عالمی امن خطرے سےدو چار ہے اور مستقبل میں خطرے کی شدت بڑھ جائے گی۔اسلامی بلاک نہ بننے کی وجہ سے،اسلامی ریاستوں کو شدید نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔بڑی طاقتیں اپنے منصوبوں کو پورا کرنے کے لیےوسیع گولہ و بارود کا بے تحاشہ استعمال کر سکتی ہیں۔گولہ وبارود کا وسیع استعمال جہاں انسانوں کو قتل کرے گا،وہاں زمین کو بھی جھلسا دے گا۔
عالمی امن کےلاحق خدشات کے پیش نظر کمزور ممالک بھی اپنا اتحاد بنا کرخطرے سے خود کو بچا سکتے ہیں۔جوں جوں وقت گزر رہا ہے،اتنے ہی عالمی امن کو لاحق خدشات بڑھ رہے ہیں۔مشرق وسطی کاوسیع علاقہ جو میدان جنگ بنا ہوا ہے،اب اس میدان کے پھیلنے کا امکان بڑھ رہا ہے۔شام میں بھی ابھی تک امن نہیں آسکا ہے،کیونکہ کچھ طاقتیں نہیں چاہتی کہ شام میں امن آجائے۔لبنان میں بھی پھیلی خانہ جنگی یہ بتانے کے لیے کافی ہےکہ کچھ طاقتوں کی خواہش ہے کہ لبنان پرامن نہ بن سکے۔اسی طرح کئی ممالک میں خانہ جنگی پھیلی ہوئی ہےاور کئی ممالک میں پھیلانے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ بد امنی کا ماحول بنا رہے۔انتشار کا شکار ممالک بڑی طاقتوں کا آسان شکار ہو سکتے ہیں۔یہ انتشار جہاں امن کو تباہ کر رہا ہے،وہاں کئی طاقتوں کےمفاد کو پورا کر رہا ہے۔اب بھی وقت ہے کہ عالمی امن کو تباہ ہونے سے بچایا جا سکتا ہے۔کئی ممالک اپنی کوششوں سےامن کو بچا سکتے ہیں،خصوصا کمزور ممالک جدوجہد کر کےبد امنی کےوسیع خطرے کوٹال سکتے ہیں۔دنیا میں پھیلی وسیع افرا تفری اور انتشار عالمی امن کے لیےخطرناک ثابت ہو رہےہیں۔بڑی طاقتیں اپنے مفاد کے لیےدنیا کو تقسیم کرنے کی پالیسی بھی بنا سکتی ہیں۔کمزور ممالک اس خطرے کی زد میں ہیں کہ کوئی بڑی جنگ نہ چھڑ جائے۔بڑی طاقتوں کا مقابلہ صرف اتحاد سے کیا جا سکتا ہے اور اگر اتحاد نہ کیا گیا تو عالمی امن تباہ ہو سکتا ہے۔عالمی امن کو تباہ ہونے سے بچایا جانا ضروری ہے۔











