ٹرمپ کےغزہ پرقبضہ کااعلان اورعالمی ردعمل

تحریر:اللہ نوازخان

allahnawazk012@gmail.com

دنیا بھر میں تنازعات جاری ہیں۔تنازعات نے کہیں سنگین صورت اختیار کرلی ہےاور کہیں سرد جنگ جاری ہے۔مشرق وسطی میں شدیدبد امنی کی لہر پھیلی ہوئی ہےاورابھی تک نہیں رک سکی۔اسرائیل نےغزہ پر بے تحاشہ گولہ بارود پھینکااور فلسطینیوں کی نسل کشی کی۔معاہدے کے نتیجے میں جنگ رک گئی ہےاور غزہ کی تعمیر نو شروع ہو رہی ہے۔فلسطینی اپنے گھروں کی طرف لوٹ رہے ہیں،لیکن ان کو گھروں کی بجائے ملبے کے ڈھیر ملتے ہیں۔فلسطینی اس بات پر بھی خوش ہیں کہ اپنے علاقے میں دوبارہ بحالی کا سفر شروع کریں گے۔حالانکہ بحالی آسان نہیں،کافی مشکلات پیش آئیں گی اور اس بات کا بھی امکان ہے کہ اسرائیل دوبارہ جنگ نہ چھیڑ دے۔ان تمام مسائل کے باوجود فلسطینی غزہ میں رہائش رکھنے کے لیے پرجوش ہیں۔ان حالات میں پہلے تو امریکی صدر ٹرمپ کی طرف سےاعلان ہوا کہ اردن اور مصر فلسطینیوں کوپناہ دیں۔اس اعلان سےمصر اور اردن سمیت پورے مشرق وسطی میں بے چینی پھیلی،کیونکہ یہ حکم نما اعلان کئی قسم کے مسائل پیدا کر رہا تھا۔اردن اور مصر کے علاوہ دوسرے ممالک کو بھی پریشرائز کر کے حکم دیا جا سکتا ہے کہ وہ بھی غزہ کے باسیوں کو پناہ دیں۔آخر کار بلی تھیلے سے باہر آگئی۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نےاسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے اعلان کیا کہ وہ غزہ کی پٹی پر قبضہ کرنے اور فلسطینیوں کو پڑوسی ممالک میں آباد کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ٹرمپ کے مطابق اردن اور مصر کے رہنما جگہ فراہم کریں گے تاکہ فلسطینی وہاں پناہ گزین ہو سکیں۔امریکی صدر کے اعلان کے مطابق کہ ان کا مقصد ہے کہ علاقے میں امن لایا جائے اور ہزاروں ملازمتیں پیدا کی جائیں۔غزہ کو ترقی یافتہ بنائیں گے۔ٹرمپ کا کہنا تھا کہ مشرق وسطی کےرہنماؤں سے بات ہوئی ہےاور ان کو یہ آئیڈیا پسند آیا ہے۔سعودی عرب کے بارے میں کہا کہ وہ مددگار ثابت ہوگا۔امریکی صدر نے اپنےارادوں کا اظہار کردیاہےکہ وہ مستقبل میں کیا کچھ کرنا چاہتے ہیں۔
امریکی صدر کےغزہ پرقبضے کے اعلان کے بعداقوام متحدہ اور کئی ممالک کی طرف سےسخت ردعمل آیا۔چین،سعودی عرب،آسٹریلیااور حماس نے صدر کے غزہ پر قبضے کے اعلان کو مسترد کر دیا۔سعودی عرب کا کہنا ہے کہ فلسطینی ریاست کے بغیر اسرائیل کے ساتھ کوئی تعلقات نہیں رکھیں گے۔سعودی عرب فلسطینی ریاست کے قیام کی غیرمتزلزل حمایت کرتا ہےاور وہ فلسطینیوں کو ان کی سرزمین سے بے دخل کرنے کی کسی بھی کوشش کو مسترد کرتا ہے۔ٹرمپ نےاس بات کا اظہار کیا ہے کہ سعودی عرب بہت بڑا مددگار ثابت ہوگا،ہو سکتا ہے اس اعلان کےپس پردہ کچھ اور وجہ ہو۔سعودی عرب اگر امریکہ کی مدد کرتا ہے تو وہ پوری اسلامی برادری میں اپنی وقعت کھو دے گا۔اورمشرق وسطی میں اس کے خلاف محاذ کھل جائیں گے۔مدد نہ کرنے کی صورت میں امریکہ کی مخالفت کا سامنا کرنا ہوگا۔سعودی عرب دفاعی لحاظ سے کمزور پوزیشن پر ہونے کی وجہ سےامریکہ کا مقابلہ کرنے سے کترائے گا،لیکن اسلامی ممالک کے علاوہ چین اور روس کی مدد سے یہ دفاعی لحاظ سے مضبوط بھی ہو سکتا ہےاورامریکہ کے سامنے ڈٹ جائے گا۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا کہ نسل کشی کی کسی بھی قسم سے گریز کر کے بین الاقوامی قوانین پہ قائم رہنا ضروری ہے۔لازمی بات ہے کہ غزہ پرقبضہ یا طویل عرصے تک کنٹرول بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہوگی۔لیکن امریکہ پہلے کون سے بین الاقوامی قوانین کی پابندی کرتا رہا ہے؟عراق پر حملہ بھی بین الاقوامی قوانین کو روند کر کیا گیا۔ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہاکہ غزہ پر ٹرمپ کے قبضے کا بیان اشتعال انگیز اور شرمناک ہے۔ٹرمپ کا بیان بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ایمنسٹی انٹرنیشنل نے مزید کہا کہ فلسطینیو کو جبری بے دخل کرنا جنگی جرم ہے۔جین اور دوسرے ممالک نے بھی سخت رد عمل دیا ہے۔تنقید کے بعد امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ٹرمپ نے غزہ کی تعمیر نو کی ذمہ داری لینے کی پیشکش کی ہے،جب غزہ کی تعمیری نو ہو رہی ہوگی تو وہاں کے لوگوں کو کہیں اورجگہ پررہنے کی ضرورت پیش آئے گی۔ترجمان وائٹ ہاؤس نے بھی وضاحت کی ہے کہ امریکہ کا غزہ میں فوج بھیجنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔اب امریکہ کی طرف وضاحت کی جا رہی ہے کہ ٹرمپ وہاں امن لاکرغزہ کی تعمیر نو کرنا چاہتے ہیں اورٹرمپ کا مقصد غزہ کو ترقی یافتہ بنانا ہے۔اسرائیل کی بھی خواہش ہوگی کہ امریکہ غزہ پر کنٹرول حاصل کر لے۔کیونکہ غزہ پر قبضے کی صورت میں اسرائیل بغیر دشواری کےدوسرے علاقوں کی طرف بڑھ سکتا ہے۔اسرائیل کو پہلے بھی امریکہ کی طرف سےوسیع پیمانوں پر مدد حاصل ہےاوراسرائیل کواس صورت میں کئی گنا زیادہ فوائد حاصل ہوں گے۔بین الاقوامی دباؤ کے پیش نظراس وقت امریکہ غزہ کے قبضہ کے اعلان پر پیچھے ہٹ گیاہے،لیکن مستقبل میں حالات سازگار ہونے پرکوئی سرگرمی دکھائی بھی جا سکتی ہے۔
ایران کی صورت میں امریکہ اور اسرائیل کا مشترکہ دشمن مشرق وسطی میں موجود ہے۔ایران کو کئی قسم کی پابندیوں کا سامنا ہے،لیکن وہ ابھی تک اپنا وجود برقرار رکھنے میں کامیاب ہے۔کئی دفعہ حالات اس سطح تک پہنچ جاتے ہیں کہ اسرائیل اور ایران کی جنگ چھڑجائے۔امریکی صدر نے ایران کے ساتھ ڈیل کرنے کا ذکر کیا ہے لیکن ساتھ یہ بھی کہا کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہ ہوں۔مشرق وسطی میں امن کی شدید ضرورت ہےاور جنگی ماحول پورے خطے کے لیےآگ کی بھٹی بن چکا ہے۔یہ آگ مسلسل لگی ہوئی ہے اورایک کے بعددوسرے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے۔شام،لبنان،اردن،یمن کے حالات بھی خاصے خطرناک ہو چکے ہیں۔اسرائیل کو روکنے کی ضرورت ہے تاکہ حالات امن کی طرف چل پڑیں۔فلسطینیوں کو جبری طور پر بے دخل کرنابہت بڑا ظلم ہے۔اسرائیل کی خواہش ہےکہ غزہ کے لاکھوں باسیوں کونقل مکانی کرنے پر مجبور کر دیا جائے تاکہ وہ مزید رقبوں پر قبضہ کر سکے۔جو ممالک ان فلسطینیوں کو پناہ دیں گے ان کے لیے بھی مسائل بڑھ جائیں گے۔اردن اور مصر کی کمزور معاشی حالت اتنا بڑا بوجھ برداشت کرنے کے قابل نہیں ہے۔
فلسطینی مسلسل جدوجہد کر رہے ہیں اور ان کی اپنی زمین ان پر تنگ کر دی گئی ہے۔ٹرمپ کا بیان جہاں غزہ کی عوام کے لیے پریشانی کا سبب بنا وہاں دوسرے ممالک بھی پریشانی میں مبتلا ہوئے۔کوئی بھی ملک اس طرح کا اعلان کرکےکسی بھی کمزور ملک پرقبضہ کر سکتا ہے کہ وہاں امن کے لیے قبضہ کیا جا رہا ہے۔فلسطینی پندرہ ماہ کی جنگ کےدوران موت کا مقابلہ کرتے رہے،ان کی خواہش بھی ہے اور حق بھی ہے کہ وہاں وہ دوبارہ بحال ہو سکیں۔وہ بڑے حوصلے سےحالات کا مقابلہ کر رہے ہیں اور ان کے حوصلے ابھی بھی بلند ہیں۔فلسطینی کسی بھی قوت کا مقابلہ کرنے کے لیےتیار ہیں۔سعودی عرب جس طرح واضح کر چکا ہے کہ دو ریاستی حل ہونا چاہیے۔کچھ دوسرے ممالک بھی سمجھتے ہیں کہ فلسطینیوں کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہےاور ان کو اپنا حق ملے۔پوری عالمی برادری اخلاقی لحاظ سے انسانی حقوق کو پامال نہ ہونے دےاور فلسطینیوں کو غزہ میں بسانے کے لیےاپنا دباؤ استعمال کرے۔امریکی وزارت خارجہ کی طرف جو وضاحت آرہی ہے کہ غزہ پر قبضہ نہیں کیا جائے گا۔یہ وضاحت بھی کی گئی ہے کہ فوج بھینےکا کوئی ارادہ نہیں۔اس بات کی امید کرنی چاہیے کہ امریکہ یا کوئی اور ملک غزہ کے رہائشوں کے لیےنقصان کا باعث نہیں بنے گا۔