امریکی صدرکےٹیرف اورچین کی طرف سے جوابی ردعمل

تحریر:اللہ نوازخان

allahnawazk012@gmail.com

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نےچین اوردوسرےممالک پرٹیرف لگا کرایک پنڈورا باکس کھول دیا ہے۔میکسیکو، کینیڈا اور یورپی یونین پر بھی محصولات کااعلان کیا۔ جوابی رد عمل کے طور چین اور کینیڈا نے بھی ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کر دیا۔چین نے بھی امریکہ سے درآمداشیاء پر 10 سے 15 فیصد ٹیکس لگا دیا۔ان اقدامات سے ایشیائی مارکیٹس میں مندی دیکھنے میں آئی۔چین اپنی معیشت کو مضبوطی کی طرف گامزن کر رہا ہے،اس نےامریکی اشیاء پرٹیرف لگا کرامریکی صدر کو ایک مضبوط پیغام دیا ہے۔ٹرمپ کی آمد کے بعدامریکہ اور چین تجارتی ٹیرف کی جنگ میں شدت دیکھنے میں نظرآرہی ہےاور اس کے اثرات عالمی معیشت پر بھی پڑ رہے ہیں۔کسی بھی ملک کی معیشت کی مضبوطی کے لیے ضروری ہے کہ اس کو بہترین مارکیٹ دستیاب ہو،تاکہ وہ اپنی پیداوار یا مصنوعات کو باآسانی فروخت کر سکے۔معیشت کی مضبوطی کے لیے فری ڈیوٹی یا کم ٹیکس لگا کر کسی بھی ملک کو موقع دیا جاتا ہے کہ وہ اپنی اشیاء فروخت کر سکے۔امریکی صدر کے کیے گئے فیصلےاور اعلانات دنیا بھر میں ایک بھونچال لا چکے ہیں۔ان کے فیصلے کئی ممالک کی معیشتوں کوناقابل تلافی نقصان پہنچا سکتے ہیں۔2018 میں بھی ٹرمپ نے پہلی مدت کے دوران چین کے ساتھ تجارتی جنگ کا آغاز کر دیا تھا۔اس وقت چینی اشیاء پرغیر معمولی ٹیکس لگا دیے تھےاوراس طرح عالمی چینی سپلائی متاثر ہوئی،جس سے عالمی معیشت کو نقصان پہنچا تھا۔چین ٹرمپ کے اقدامات سےمتاثر تو ہو رہا ہے لیکن اپنی اشیاء اورمصنوعات کی فروخت کے لیےدوسرےممالک کا رخ کر سکتا ہے۔چین کے لیے پہلے ہی ماحول سازگار ہےاور مزید بہتری کے لیےوہ مشکلات پر قابو پا سکتا ہے۔اس بات کا امکان ہے کہ چین امریکہ کو مجبور کر دےکہ اس پر عائد کیے گئےٹیکسز منسوخ کردیے جائیں اور جوابی طور پر چین بھی امریکی اشیاء پر لگائے گئے ٹیکسز کانفاذمنسوخ کردےگا۔امریکی صدر نےچین کے علاوہ میکسیکو اورکینیڈا پر 25 فیصد محصولات عائد کرنے کی اپنی دھمکی کو آخری وقت میں معطل کرکےتیس دن کا وقفہ دے دیاہے۔جوابی طور پر ان ممالک نے بھی ٹیکس کا نفاذ منسوخ کر دیا۔
امریکی صدر کا موقف ہے کہ ٹیکسز لگانے کا مقصد یہ ہے کہ چین اور دوسرے ممالک کچھ ایسے اقدامات کریں جس سےمہلک افیون فینٹانل کی سمگلنگ کو روکا جا سکے۔چین پر دباؤ ڈالا جا رہا ہےکہ وہ فینٹانل کے بہاو کو روکنے کےاقدامات نہیں کرے گا تو ٹیرف میں اضافہ کیاجائے گا۔میکسیکو اور کینیڈا پر بھی دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ فینٹانل سمگلنگ اوردوسرے جرائم کےخاتمہ کے لیےاقدامات اٹھائیں۔کینیڈا نےامریکہ کے ساتھ اپنی سرحد پرنئی ٹیکنالوجی اور اہلکاروں کی تعیناتی،منظم جرائم،فینٹانل سمگلنگ اور منی لانڈرنگ سے نمٹنے کے لیےتعاون کی کوششیں شروع کرنے پررضامندی ظاہر کر دی ہے۔میکسیکو نے غیر قانونی تارکین وطن اور منشیات کے بہاؤ کو روکنے کے لیے نیشنل گارڈ کےدس ہزار اہلکاروں کی مدد سے اپنی شمالی سرحد کو مضبوط بنانے پررضامندی ظاہر کر دی۔کینیڈا اور میکسیکو کے تجارتی تعلقات امریکہ کے ساتھ بہترین ہیں۔چین کی نسبت میکسیکو اور کینیڈا معاشی مضبوطی کے لحاظ سےزیادہ مضبوط نہیں ہیں،لیکن ان کی معیشتیں کئی ممالک کی معیشتوں سےزیادہ مضبوطی رکھتی ہیں۔امریکی صدر نےامید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ چین ہمیں فینٹانل بھیجنا بند کر دے گا۔چین نےفینٹانل کو امریکی مسئلہ قرار دیا ہے۔چین ٹیکسز کے نفاذ کے مسئلے کو عالمی تجارتی تنظیم(ڈبلیو۔ٹی۔او)میں چیلنج کرنے کا ارادہ کر چکا ہےاور جوابی رد عمل بھی دینے کے لیے تیار ہے۔چین نے اس بات کا بھی اعادہ کیاکہ مذاکرات کے لیےوہ تیار ہے۔چین مشہور امریکی ٹیکنالوجی کمپنی گوگل کے خلاف بھی تحقیقات کرنے کا اعلان کر چکا ہے کہ اس کی طرف سے انسداد اجارہ داری قوانین کی خلاف ورزیاں کی جا رہی ہیں۔چین مزید اقدامات اٹھانے کا ارادہ ظاہر کر چکا ہےاوران اقدامات سےامریکی معیشت کو دھچکا پہنچنےکاامکان ہے۔چین کی معیشت کو نقصان تب پہنچ سکتا ہے جب عالمی طور پراس کے لیے رکاوٹیں کھڑی کر دی جائیں،لیکن چین اپنی مضبوط حیثیت کی وجہ سےان رکاوٹوں کو عبور کرنے کا حوصلہ رکھتا ہے۔مستقبل میں کینیڈا اور میکسیکو کے علاوہ کچھ دیگرممالک بھی امریکہ کے نشانے پرآسکتے ہیں۔ظاہر بات ہےان ممالک کی ترجیح یہ ہوگی کہ وہ اپنا علیحدہ سیٹ اپ ترتیب دے دیں،تاکہ مستقبل کی پریشانیوں سے بچا جا سکے۔
امریکی صدرنے ٹیرف لگا کر ایک علیحدہ بحث کو جنم دے دیا ہے۔کچھ تجزیہ نگاروں کے مطابق نئے ٹیکسز کینیڈا اورمیکسیکو کو کساد بازاری میں دھکیل سکتے ہیں اور اس کے اثرات دوسرے ممالک پر بھی پڑیں گے۔یورپی یونین ایک نیا اقتصادی ماڈل بنارہا ہےاور اس بات کے امکانات ہیں کہ چین اور دوسرے ممالک بھی اس بلاک میں چلے جائیں۔ٹرمپ کے اقدامات سےامریکہ عالمی تنہائی کی طرف بھی بڑھ رہا ہے۔اگر یہ ممالک امریکہ کے نشانے پرآ سکتے ہیں تو مستقبل میں کوئی اور ملک بھی امریکی پالیسیوں کا شکار ہو سکتا ہے،اس لیے اس بات کا امکان بڑھ گیاہےکہ امریکہ مخالف معاشی ماڈل تشکیل دے دیا جائے۔چین بھی اس پوزیشن پرہے کہ عالمی اجارہ داری قائم کر دے۔چین کی معیشت کا انحصار امریکہ پرزیادہ نہیں،اس لیےوہ دباؤ میں نہیں آرہا،بلکہ امریکہ کا مقابلہ کر رہا ہے۔چین کی معیشت مضبوط ہو چکی ہےاور اس کا مقابلہ کرنا امریکہ کے لیے بہت ہی مشکل ترین امر ہے۔جس طرح امریکی صدر نے کہا ہے کہ چین فینٹانل کا بہاؤ روک نہیں دے گا،اس وقت تک چین پرٹیرف عائدرہے گا اور مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔ٹرمپ کا کہنا ہے کہ چین اور دوسرے ممالک پرغیر قانونی حرکات کی وجہ سے ٹیکس عائدکیے جا رہے ہیں۔سمگلنگ جرم ہےاور سمگلنگ سمیت دوسرے جرائم کو بھی روکنے کی ضرورت ہے۔چین کا موقف ہے کہ سمگلے کو روکنے کے لیے اقدامات کر دیے گئے ہیں۔
امریکی صدر کا کہنا ہے کہ جو فیصلے کیے جا رہے ہیں وہ امریکہ کی سلامتی کے لیے ضروری ہیں۔ان اقدامات سےتارکین وطن اور اسمگلنگ کو روکا جا سکتا ہےنیز گھریلو صنعتوں کو بھی ان اقدامات سے فروغ دیا جا سکتا ہے۔کسی بھی ملک کےسربراہ کا فرض ہوتا ہے کہ وہ اپنی عوام کی بہتری کے لیے اقدامات کرے۔ٹرمپ ماضی میں بھی ہمیشہ متنازع فیصلے کرتے رہےاور اب بھی ایسے فیصلے کیے جا رہے ہیں،جو متنازع کہے جا سکتے ہیں۔امریکی عوام ٹرمپ کے ان اقدامات کو قبول کرتی ہے یا نہیں،ابھی تک کچھ نہیں کہا جا سکتا۔اس بات کا امکان ہے کہ ٹرمپ کے فیصلےامریکہ کومزیدعظیم بنا دیں اوریہ امکان بھی ہےکہ امریکہ اپنی مضبوطی کھودے۔کچھ دنوں کے بعد شاید کوئی نئے اعلانات اور پالیسیاں جاری ہو جائیں،جو دنیا بھر کے لیے پریشانی کا سبب بن جائیں۔اس بات سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ امریکہ کی موجودہ معاشی حالت مضبوط ہے۔کئی ممالک امریکی امداد پر انحصار کرتے ہیں اور کئی ادارےیو ایس ایڈ پر چلتے ہیں۔اب امریکی صدر نےبہت سے ممالک اوراداروں کی(این۔جی۔اوزسمیت)امداد روک دی ہےاور اس کے اثرات بھی ظاہر ہو رہے ہیں۔امریکی معیشت عالمی لحاظ سے نمبر ون بھی کہی جا سکتی ہے،لیکن کچھ نہ کچھ دراڑیں پڑ رہی ہیں۔عالمی کساد بازاری امریکی معیشت کو سخت نقصان پہنچا سکتی ہےاور امریکی صدر کے اعلانات سے محسوس ہوتا ہے کہ عالمی کساد بازاری شروع نہ ہو جائے۔اب مقابلہ سخت ہےاور سخت جدوجہد کی ضرورت ہوگی۔