سطح سے گہرائی تک اختلاف کا آئینہ

تحریر: سلمان احمد قریشی

افکار اور نظریات کی اصل قدر تب جنم لیتی ہے جب وہ سب سے پہلے اپنے ہی وجود پر آزمائے جائیں۔ جو چراغ اپنے باطن میں نہ جلایا جائے، وہ دوسروں کے راستے میں روشنی نہیں بکھیر سکتا۔ فکری انسان کا دل بغض اور دشمنی کے لیے کشادہ نہیں ہوتا کیونکہ اس کی نظر ہمیشہ اختلاف کو روشنی کا ایک اور زاویہ سمجھتی ہے، اندھیرا نہیں۔
اختلافِ رائے دراصل دو دلوں کے بیچ فاصلے پیدا کرنے کے بجائے شعور کی نئی کھڑکیاں کھولتا ہے۔ یہ تلوار نہیں جو کاٹے، بلکہ آئینہ ہے جو دکھائے۔ اس آئینے میں جھانکنے والا اگر اپنے چہرے سے دھول صاف کرے، تو اسے حقیقت کی وہ جھلک ملتی ہے جو اکثر اپنی ذات کے شور میں دب جاتی ہے۔
میں جو لکھتا ہوں وہ معرکہ آرائی نہیں بلکہ حقیقت کا وہ باب ہے جسے آپ نے ابھی نہیں پڑھا۔ آپ کا وژن سمندر کے ساحل پر کھڑا ہے، جہاں صرف لہروں کی چمک نظر آتی ہے۔ مگر میں اُس غوطہ خور کی مانند ہوں جو نیلگوں گہرائی میں اتر کر موتیوں کی جستجو کرتا ہے۔ وہاں سکوت ہے، مگر اس سکوت میں اسرار کی دھڑکن سنائی دیتی ہے۔
ساحل کے مسافر صرف سطح پر کھیلتی ہوئی روشنی دیکھتے ہیں، مگر سمندر کی تہہ میں چھپے رنگ، خموشی اور سنگینیاں ان کی نظر سے اوجھل رہتی ہیں۔ یہی حقیقت ہے کہ ہر آنکھ ہر منظر نہیں دیکھ سکتی۔
اوکاڑہ پریس کلب کے معاملات پر رائے زنی سب کا حق ہے، لیکن حقیقت کا ادراک وہی رکھتے ہیں جو اس کا حصہ ہیں۔ برس ہا برس کوشش کی کہ آئین کے تحت فیصلہ سازی ممکن ہو سکے مگر خود پرستی اور مفادات کے کھیل نے بگاڑ پیدا کیا۔ ممبر سازی کا اختیار صرف منتخب کابینہ کا ہے لیکن یہاں فردِِ واحد اپنی طاقت اور اثر بڑھانے کے لیے لولی پاپ بانٹنے سے باز نہیں آرہا۔ اب اجنبی آ کر اترائیں اور معاملات کو مزید الجھائیں، ایسے میں خاموش رہنا ممکن نہیں۔ اختلاف ہے اور اُس وقت تک رہے گا جب تک آئین کے تحت شفاف انتخابات نہیں ہوتے۔عدالتوں کے پیچھے چھپنے اور مقدمہ بازی سے حقیقت تبدیل نہیں ہو سکتی۔ اپنے ساتھیوں پر مقدمات درج کروانے اور ڈرامہ بازی سے کرسی پر قبضہ اور تسلط برقرار رکھا نہیں جا سکتا۔ اہل قلم بصیرت اور حکمت کو اپناتے اور پھیلاتے ہیں۔ نفرتوں اور سازشوں کا سہارا نہیں لیتے۔
مین ہینڈلنگ، خواہ وہ لفظوں میں ہو یا رویّے میں، انسانی وقار کے خلاف ہے۔ عزت اور مکالمہ ہی وہ کشتی ہیں جو ہمیں فکری سمندر کی طغیانی میں غرق ہونے سے بچاتی ہیں۔ اختلاف کا اصل حسن یہی ہے کہ یہ سوال اٹھاتا ہے راستہ دکھاتا ہے اور تبدیلی کی بنیاد رکھتا ہے۔
جو لوگ سطح پر چمکتی لہروں سے بہل جاتے ہیں وہ شاید کبھی گہرائی کے سکون کو نہ پا سکیں لیکن تاریخ ہمیشہ اُن کا ساتھ دیتی ہے جو آئین کے اُفق پر سچائی کا پرچم بلند رکھتے ہیں۔