موٹروے ایم-4 کا واقعہ بروقت ایکشن نے بڑے نقصان سے بچا لیا

تحریر۔۔محمد زاہد مجید انور

*ٹوبہ ٹیک سنگھ کے قریب موٹروے ایم-4 پر پیش آنے والا واقعہ ایک بار پھر ثابت کرتا ہے کہ ہنگامی صورتحال میں بروقت فیصلے اور پیشہ ورانہ مہارت کتنی بڑی تباہی کو ٹال سکتی ہے۔ نجی کمپنی کی مسافر بس، جو فیصل آباد سے ڈیرہ غازی خان کی طرف روانہ تھی، اچانک تکنیکی خرابی کا شکار ہوئی اور بائیں پچھلا پہیہ جام ہونے کے باعث آگ کی لپیٹ میں آگئی۔ لمحہ بہ لمحہ بڑھتی ہوئی آگ نے چند ہی لمحوں میں بس کے ایک بڑے حصے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔یہ وہ موقع تھا جہاں موٹروے پولیس کی چوکسی، مستعدی اور پیشہ ورانہ تربیت نے ایک ممکنہ المیے کو رونما ہونے سے روک دیا۔ جیسے ہی دھواں اٹھتا دیکھا گیا، اہلکاروں نے بلا تاخیر آگ کی نشاندہی کی، گاڑی کو رکوانے میں مدد کی اور فوری طور پر ریسکیو آپریشن شروع کردیا۔ 44 مسافروں اور عملے کے اراکین کو نہ صرف بحفاظت بس سے باہر نکالا گیا بلکہ panic کی صورتحال کو بھی بہترین انداز میں کنٹرول کیا گیا۔حادثے کی نوعیت سنگین تھی، آگ اتنی شدید تھی کہ بس کا آدھا حصہ جل کر راکھ ہوگیا، لیکن حیرت انگیز طور پر ایک بھی جان کا ضیاع نہیں ہوا۔ یہ کامیابی محض اتفاق نہیں بلکہ موٹروے پولیس کی ٹریننگ، ذمہ داری اور فوری ردِعمل کا نتیجہ ہے۔ ایسے واقعات میں عموماً چند لمحوں کی تاخیر بھی جانی نقصان کا سبب بن سکتی ہے، لیکن یہاں بروقت اور مربوط کارروائی نے صورتحال کو مکمل کنٹرول میں رکھا۔حادثے کے بعد ٹریفک کی روانی کو برقرار رکھنا بھی ایک بڑا چیلنج تھا، جسے اہلکاروں نے متبادل راستہ بنا کر احسن طریقے سے حل کیا۔ کچھ ہی دیر بعد موٹروے کو دوبارہ ہر قسم کی ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا، جس سے ہزاروں مسافروں کو پریشانی سے بچایا گیا۔مسافروں نے بھی اس صورتحال میں موٹروے پولیس کی ہمت، مستعدی اور فرض شناسی کو سراہا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ جب ادارے مخلص ہوں تو عوام کے جان و مال کی حفاظت یقینی بنائی جا سکتی ہے۔یہ واقعہ ہمارے ٹرانسپورٹ سسٹم کی کمزوریوں کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے۔ بس کا پہیہ جام ہونا اور اچانک آگ بھڑک اٹھنا اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ نجی ٹرانسپورٹ کمپنیوں میں فٹنس چیک کا عمل اکثر غیر معیاری یا غفلت کا شکار ہوتا ہے۔ حکام کو چاہیے کہ وہ مسافر بسوں کی میکینکل حالت کے باقاعدہ اور سخت چیک اپ کو یقینی بنائیں تاکہ ایسے حادثات کی شرح کم کی جاسکے۔آخر میں، موٹروے پولیس کی اس بہادرانہ کارروائی کو خراجِ تحسین پیش کرنا ضروری ہے۔ ان کی بروقت حکمتِ عملی اور جرات مندانہ اقدامات نے آج 44 قیمتی جانوں کو محفوظ رکھا۔ یہ واقعہ نہ صرف ان کی صلاحیت کا ثبوت ہے بلکہ ایک سبق بھی ہے کہ ذمہ داری اور پیشہ ورانہ مہارت ہمیشہ زندگی بچاتی ہے۔*