ٹوبہ ٹیک سنگھ کا ببر شیر چوہدری امجد علی جاوید — زرعی یونیورسٹی کی منتقلی کی مخالفت میں عوام کا سچا ترجمان
تحریر: محمد زاہد مجید انور
ٹوبہ ٹیک سنگھ:
زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے سب کیمپس ٹوبہ ٹیک سنگھ کو یونیورسٹی آف کمالیہ میں ضم کرنے کی اطلاعات نے عوامی حلقوں میں شدید اضطراب پیدا کر دیا ہے۔ اس اقدام کو ٹوبہ ٹیک سنگھ کے تعلیمی اور ترقیاتی مفادات پر ایک کاری ضرب قرار دیا جا رہا ہے۔ اس صورتحال میں حلقہ پی پی 121 سے منتخب ہونے والے ایم پی اے چوہدری امجد علی جاوید ایڈووکیٹ نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ وہ اپنے ضلع کے مفادات کے محافظ اور عوامی جذبات کے حقیقی ترجمان ہیں۔یاد رہے کہ زرعی یونیورسٹی سب کیمپس ٹوبہ ٹیک سنگھ کا سنگ بنیاد اُس وقت کے گورنر پنجاب لیفٹیننٹ جنرل (ر) خالد مقبول نے جنرل پرویز مشرف کے دورِ حکومت میں رکھا تھا۔ اس کی تعمیر پر کروڑوں روپے خرچ کیے گئے اور آج اس ادارے میں تقریباً چار ہزار سے زائد طلباء و طالبات جدید زرعی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔اس کیمپس کی مبینہ طور پر کمالیہ یونیورسٹی میں منتقلی کی کوششوں کے خلاف نہ صرف طلباء و طالبات بلکہ والدین، اساتذہ، وکلاء، تاجر برادری اور سول سوسائٹی کے افراد نے بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ عوامی مطالبہ ہے کہ اس فیصلے کو فوری طور پر واپس لیا جائے۔اسی تناظر میں چوہدری امجد علی جاوید نے جس جرات مندی سے اس ناانصافی کے خلاف آواز بلند کی ہے، اس نے انہیں عوامی ہیرو کا درجہ دے دیا ہے۔ وہ نہ صرف پنجاب اسمبلی میں اس مسئلے کو اٹھا چکے ہیں بلکہ ہر فورم پر یہ واضح کیا ہے کہ ٹوبہ ٹیک سنگھ کے حقوق پر کسی کو ڈاکہ ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ چوہدری امجد علی جاوید نے حقیقی معنوں میں “ٹوبہ کا ببر شیر” ہونے کا ثبوت دیا ہے۔ ان کی قیادت میں ضلع کے عوام متحد ہیں اور اس تعلیمی اثاثے کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قانونی اور جمہوری جدوجہد کی جائے گی۔یہ وقت ہے کہ حکومتِ پنجاب، ہائر ایجوکیشن کمیشن اور زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کی انتظامیہ اس عوامی ردِعمل کا سنجیدگی سے نوٹس لے اور کوئی بھی فیصلہ زمینی حقائق اور طلباء کے مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے کرے۔ہم چوہدری امجد علی جاوید کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں کہ وہ ہر مشکل وقت میں عوام کے ساتھ کھڑے رہے اور آج بھی ٹوبہ ٹیک سنگھ کی تعلیمی شناخت کے تحفظ کی جنگ لڑ رہے ہیں۔جیتے رہو امجد علی جاوید! ہمیں آپ پر فخر ہے۔












