تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال میں مریضوں کو ادویات کی عدم فراہمی پر اسسٹنٹ کمشنر احمدپورسیال کا شوکاز نوٹس
اور چند گذارشات
تحریر: حبیب منظر 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسسٹنٹ کمشنر احمدپورسیال وقاص ظفر نے مورخہ 12 جولائی کو تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال کا دورہِ کیا مختلف وارڈز کا معائنہ کیا اس دوران مریضوں سے سہولیات بارے دریافت کیا میڈیکل ایمرجنسی
وارڈ ، پیڈز ، بچوں کی ایمرجنسی اور کنٹین کا دوری بھی کیا
مریضوں سے ادویات کی دستیابی و فراہمی کے حوالے سے دریافت کیا گیا تو مریضوں کو ادویات کی عدم فراہمی کی شکایت پر اسسٹنٹ کمشنر وقاص ظفر نے ایم ایس کو شوکاز نوٹس جاری کر دیا
واش رومز کی حالت بہتر نہ ہونے پر ایم ایس پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلی پنجاب محترمہ مریم نواز شریف کی ہدایت پر فرائض میں غفلت کرنے والے اہلکاروں کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے گا
اسسٹنٹ کمشنر احمدپورسیال وقاص ظفر کے ان اقدامات پر مریضوں کے لواحقین نے ظہار تشکر کیا ہے
شہریوں کا کہنا ہے کہ تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال احمدپورسیال اس طرح کے کئی مسائل کا شکار ہے
نام صیغہء راز میں رکھنے پر لواحقین کا الزام ہے کہ جن خواتین سٹاف ممبران کی کوئی سفارش نہیں اکثر ان سے رات کی ڈیوٹی لی جاتی ہے ایسے فی میل سٹاف ممبران کے لواحقین کا افسران بالا سے مطالبہ ہے کہ ہسپتال انتظامیہ کو سٹاف سے برابری کی بنیاد پر ڈیوٹی لینے کے احکامات صادر کیے جائیں
ماضی میں مبینہ ذرائع سے موصولہ شکایات کے مطابق نجی کلینکس و ہسپتال محکمہ ہیلتھ کے مقامی افسران کی سرپرستی میں چل رہے ہیں
جبکہ محکمہ صحت کے افسران کو اتائیت کی سرکوبی کیلئے خصوصی ٹاسک دیئے جاتے ہیں کیونکہ اتائی کلینکس غیر قانونی انسانی چیر پھاڑ ، اسقاط حمل کے کیسز کے دوران کئی انسانی زندگیوں کو موت کے گھاٹ اتار چکے ہیں
مگر ان غیر منظور شدہ نجی کلینکس کے خلاف آج تک کوئی مؤثر کاروائی نہیں ہوئی
جس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ تحصیل کے جن افسران نے ، جن ڈاکٹرز نے انہیں چیک کرنا ہوتا ہے وہ بذات خود اپنے پرائیویٹ کلینکس و ہسپتال چلانے میں مصروف ہیں
اور جن ڈاکٹرز نے مبینہ نان پریکٹسنگ الائونس کیلئے محکمہ صحت کو بیان حلفی دیا ہوا ہے اگر سیکنڈ ٹائم تحصیل بھر میں وزٹ کریں تو اکثر ںجی کلینکس پر یہی ڈاکٹر پرائیویٹ پریکٹس کرتے نظر آئیں گے
جو کہ سرکاری سیکٹر کی تباہی کی سب سے بڑی وجہ ہے کہ لاکھوں میں تنخواہیں مراعات الاونسز اور رہائش گاہیں سرکار کے کھاتے سے لیتے ہیں
اور خدمات پرائیویٹ کلینکس و ہسپتالوں کے نام کی جاتی ہیں
اگر مفت ادویات کی بات کی جائے یا دیگر طبی سہولیات کی تو تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال، آر ایچ سیز و بنیادی مراکز صحت سمیت سرکاری طبی اداروں کو حکومت کروڑوں کے فنڈز مہیا کرتی ہے اور ہسپتالوں میں دوائی بھی آتی ہے مگر مریضوں کو نہیں ملتی
تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال احمدپورسال کی ایمرجنسی میں آنے والے شہریوں کا یہی شکوہ سننے کو ملتا ہے کہ ہسپتال میں دوائی نہیں ملتی
حالیہ دورہ اسسٹنٹ کمشنر احمدپورسیال میں بھی یہ بات عیاں ہو چکی ہے
مبینہ ذرائع کے مطابق تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال احمدپورسیال کو ظاہری طور پر ایک جونیئر کلرک میڈیسن سپلائی کرتا ہے
اب سوال تو بنتا ہے کہ تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال میں علاج معالجہ کیلئے جس میڈیسن کی فراہمی کی خدمات ایک جونیئر کلرک کے ذریعے سے لی جا رہی ہیں اس میڈیسن کا معیار کیا ہو گا ؟
اور یہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ جو کام کی دوائی ہوتی ہے وہ ڈاکٹرز سے لیکر پیرامیڈیکل اسٹاف تک پہلے حصوں کے مطابق تقسیم ہو کر ان سے متعلقہ پرائیویٹ کلینکس و نجی ہسپتالوں میں پہنچا دی جاتی ہے
جہاں پر ایسی صورتحال ہو وہاں پر مریضوں کے حصے میں نشتر ہسپتال ملتان یا بھڑ پیر عبد الرحمن کا سرجن ڈاکٹر سرگم ہی آئے گا
تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال احمدپورسیال میں مبینہ ایل پی کی مد میں بھی روزانہ، ماہانہ اور سالانہ کی بنیاد پر احمدپورسیال کے ایک میڈیکل سٹور اور جونیئر کلرک کے خصوصی تعاون سے خطیر بجٹ بلوں میں خرچ ہو رہا ہے
ایل پی کی مد میں سالانہ بجٹ سے میڈیسن کن مریضوں کے نام پر ایشو ہوتی ہے ان مریضوں کے کوائف بارے ایم ایس ٹی ایچ کیو ہسپتال احمدپورسیال ڈاکٹر ممتاز حسین ندیم بہتر بریف کر سکتے ہیں ؟؟؟
شہریوں کی جانب سے بیان کردہ چند گذارشات اور تحصیل احمدپورسیال میں محکمہ صحت کی مخدوش صورتحال پر
وزیر اعلی پنجاب محترمہ مریم نواز شریف سے مطالبہ ہے کہ غیر جانبدارانہ تحقیقات کر کے عوامی تکالیف کے ازالے کے لیے اقدامات اٹھائے جائیں
# حبیب منظر نمائندہ روزنامہ جنگ جیو نیوز
صدر تحصیل پریس کلب احمدپور سیال 03027691808












