“کنڈل کھوکھراں: وہ گاؤں جہاں ترقی آج بھی سوال ہے”
`تحریر: از قلم عبدالستار نظامِ پاکستان`
پاکستان کے کئی دیہی علاقے آج بھی روشنی، خوشحالی اور ترقی کے خواب لیے سورج کی طرف تکتے ہیں۔ یہ ملک جن وعدوں، منشوروں اور خوابوں پر قائم ہوا، وہ خواب ابھی تک کئی خطوں کے لیے حقیقت نہیں بنے۔ انہی میں ایک نام ہے کنڈل کھوکھراں— چک نمبر 3/3 آر۔ یہ وہ علاقہ ہے جو ہر الیکشن میں نئے نعروں، پرجوش دعووں اور رنگین وعدوں کی لپیٹ میں آتا ہے، مگر انتخابی شور تھمنے کے بعد یہاں صرف خاموشی رہ جاتی ہے — ویرانی اور مایوسی کی خاموشی۔
یہ وہ گاؤں ہے جہاں نہ گلیاں ہیں، نہ نکاسیِ آب کا نظام۔ سڑکیں کچی، کیچڑ زدہ، اور بارش کے بعد ندی نالوں کا منظر پیش کرتی ہیں۔ علاقہ مکینوں کو گھروں سے نکلنا محال ہو جاتا ہے۔ بچوں کو اسکول جانا ہو یا بزرگوں کو ہسپتال پہنچنا، ہر قدم ایک امتحان سے کم نہیں۔یہ 2025 ہے۔ دنیا مصنوعی ذہانت، خلائی سفر اور ڈیجیٹل انقلابات کے دور میں ہے، مگر کنڈل کھوکھراں آج بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہے۔
بےحسی کی سیاست
کہا جاتا ہے کہ عوام کے ووٹ سے ہی حکمران ایوانوں تک پہنچتے ہیں، مگر کنڈل کھوکھراں کے عوام برسوں سے ایک سوال دہراتے آئے ہیں:
“ہمارے MPA اور MNA نے ہمارے لیے کیا کیا؟”
جواب ہر بار ایک سا ہوتا ہے:
خاموشی۔
نہ کوئی ترقیاتی اسکیم، نہ کوئی سڑک، نہ کوئی نالہ، نہ کوئی پانی کی نکاسی کا نظام۔ ایسا لگتا ہے جیسے چک نمبر 3/3 آر کسی سیاسی نقشے کا حصہ ہی نہیں۔ نمائندے آتے ہیں، وعدے کرتے ہیں، تصویریں کھنچواتے ہیں، اور الیکشن کے بعد غائب ہو جاتے ہیں۔
یہاں نہ کوئی پارک ہے جہاں بچے اپنی معصومیت کو کھلنے دیں، نہ کوئی گراؤنڈ ہے جہاں نوجوان اپنی توانائی کو مثبت سمت دے سکیں۔ نوجوان یا تو بے روزگاری کی دلدل میں دھنستے جا رہے ہیں یا منفی سرگرمیوں کا شکار ہو رہے ہیں۔ اور اس کا ذمہ دار کون ہے؟ وہی نمائندے جو ووٹ لینے آتے ہیں، مگر پھر نظریں چرا لیتے ہیں۔
بچے، خواتین اور بزرگ: سب کی زندگی ایک عذاب
کنڈل کھوکھراں میں بارش ایک نعمت نہیں، ایک عذاب بن جاتی ہے۔ جب گلیاں ندیوں میں بدل جائیں اور گھروں کے اندر پانی بھر جائے تو چھوٹے بچے خوف میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ خواتین کو روزمرہ کاموں میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بیمار بزرگ گھنٹوں سڑک کنارے کسی سواری کے منتظر رہتے ہیں جو ان تک پہنچ ہی نہیں پاتی۔
اس گاؤں میں کوئی سرکاری پارک، لائبریری، کھیل کا میدان، یا ثقافتی مرکز نہیں۔ نوجوانوں کے خواب گھروں کی دیواروں تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔ جہاں کسی خطے میں تعلیمی ادارے ترقی کی ضمانت بن رہے ہیں، یہاں بچوں کو میٹرک تعلیم کے بعد آگے پڑھنے کا موقع ہی نہیں ملتا۔
ذمہ داری کس کی؟
اگر آج کنڈل کھوکھراں جیسا گاؤں محرومی کی تصویر ہے تو اس کا ذمے دار صرف قدرتی حالات یا مالی وسائل کی کمی نہیں — اصل وجہ وہ نمائندے ہیں جو قوم کی خدمت کے بجائے صرف اقتدار کے مزے لوٹتے ہیں۔ عوام نے بارہا آواز اٹھائی، احتجاج کیے، درخواستیں دیں — مگر بیوروکریسی اور سیاسی نمائندے سب کچھ نظرانداز کرتے رہے۔
یہاں کے لوگ اب تھک چکے ہیں — مگر ہارے نہیں۔ اب ان کے ہاتھوں میں صرف ووٹ نہیں، شعور بھی ہے۔اب خاموشی نہیں — سوال ہوگا!
آج کنڈل کھوکھراں کا ہر فرد سوال کر رہا ہے:
ہمارے گاؤں میں سڑکیں کب بنیں گی؟
نکاسی آب کا نظام کب آئے گا؟
ہمارے بچوں کو کھیلنے کا میدان کب میسر ہوگا؟
ہماری خواتین کو صاف راستہ اور تحفظ کب ملے گا؟
ہمارے بزرگوں کے لیے اسپتال کا انتظام کب ہوگا؟
اور سب سے اہم: ہمارے MPA/MNA کو ہمارے مسائل نظر کیوں نہیں آتے؟
یہ کالم صرف کنڈل کھوکھراں کے لیے نہیں، بلکہ پاکستان کے ہر اس گاؤں کے لیے ہے جو ترقی کے دعووں میں پیچھے رہ گیا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم سوال کریں، جواب مانگیں، اور اپنی آواز کو اتنا طاقتور بنائیں کہ ایوانوں کے در و دیوار ہل جائیں۔
*اختتامیہ:* روشنی کی ایک امید
اگر آج بھی ہم خاموش رہے، تو ہماری آنے والی نسلیں بھی انہی گلیوں میں کیچڑ سے کھیلیں گی، انہی نالوں میں بیماری پالیں گی، اور انہی بےحسیوں میں اپنے خواب دفن کریں گی۔
مگر اگر ہم نے آج بولنے کی ہمت کی، شعور کی شمع جلائی، اور نمائندوں سے جواب طلب کیے، تو شاید کل کنڈل کھوکھراں بھی ترقی کا استعارہ بن جائے۔
یہ وقت ہے جاگنے کا، سوال کرنے کا، اور اپنے حق کے لیے آواز بلند کرنے کا۔
`نوٹ:`
یہ کالم کسی فردِ واحد کے خلاف نہیں، بلکہ ایک اجتماعی شعور جگانے کے لیے ہے۔ نام نہ لینے کی وجہ یہ ہے کہ مقصد تنقید نہیں، تبدیلی ہے۔
*کالم نگار*
`عبدالستار نظامِ پاکستان`
“`03068613849“`









