جھنگ کے لیے کون کھڑا ہے؟
خدمت، سچائی اور شعور کا نام: مولانا آصف معاویہ سیال

تحریر: منا چودھری

جھنگ کی سیاسی فضا اس وقت الجھ چکی ہے، جہاں خدمت گزار کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور خاموش تماشائیوں کو بخشا جا رہا ہے۔ مولانا آصف معاویہ سیال، جنہوں نے عوام کی خدمت کو اپنا مشن بنایا، آج صرف ایک ملاقات پر تنقید کا نشانہ بن رہے ہیں۔ یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ انہوں نے لیہ کی خاتون رکنِ صوبائی اسمبلی سے ملاقات کے دوران جھنگ کو ڈویژن بنانے کی بات کیوں نہیں کی۔

لیکن سوال یہ ہے: کیا ایک ایسا شخص جو نہ اسمبلی میں ہے، نہ اختیار کا مالک — کیا وہ قانونی طور پر یہ مطالبہ منوا سکتا ہے؟ یا پھر سوال اُن سے ہونا چاہیے جو اسمبلی میں بیٹھے ہیں اور آج تک جھنگ کے لیے ایک قرارداد بھی جمع نہ کرا سکے؟

جن علاقوں کے نمائندے اسمبلی میں موجود ہیں، وہ اپنے عوام کے لیے منصوبے لا رہے ہیں۔ لیہ کی خاتون ایم پی اے نے اسمبلی میں لیہ کو ڈویژن بنانے کی آواز بلند کی — یہ ان کی اپنے حلقے سے وفاداری ہے۔ اسی طرح شیخوپورہ، لودھراں، اور خانیوال کے نمائندے اپنے اپنے علاقوں میں تعلیمی ادارے، ہسپتال، سڑکیں اور دیگر منصوبے لا رہے ہیں — کیونکہ وہ اپنے عوام کے نمائندے ہیں۔

تو کیا ہم ان سے شکوہ کریں کہ وہ جھنگ کے لیے کچھ کیوں نہیں کر رہے؟ نہیں! اسی طرح، جھنگ کے عوام کو بھی شکوہ مولانا آصف معاویہ سیال سے نہیں بلکہ اپنے ان موجودہ اور سابقہ منتخب نمائندوں سے کرنا چاہیے جنہوں نے اقتدار میں رہ کر جھنگ کو وہ کچھ نہیں دیا جس کا وہ حق دار تھا۔

یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ مولانا آصف معاویہ سیال صاحب نے بغیر کسی کرسی، بغیر کسی وزارت، اور بغیر کسی سرکاری فنڈ کے، جھنگ کے عوام کی بے لوث خدمت کی ہے۔ جب جھنگ کے شہری کسی سرکاری دفتر میں ذلیل ہوتے ہیں، جب مظلوم کو انصاف نہیں ملتا، جب کسی کا بچہ علاج کے بغیر مرتا ہے، جب کسی طالبعلم کا تعلیمی حق دبایا جاتا ہے — تو مولانا صاحب سب سے پہلے اُس کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔ انہوں نے ڈی سی سے لے کر ڈی ایچ او تک ہر فورم پر جھنگ کے حقوق کے لیے سخت مؤقف اپنایا۔ وہ عوام کی آواز بنے — اسمبلی میں نہ ہونے کے باوجود۔

یہ بات عوام کو سمجھنی ہو گی کہ ترقیاتی کام محض کوشش سے نہیں، بلکہ حکومتی اختیار، اسمبلی کی نشست، اور فنڈز کے وسائل سے کیے جاتے ہیں۔

جب ٹوبہ کا ایم این اے اپنی یونیورسٹی کا افتتاح کر رہا ہوتا ہے، فیصل آباد کا نمائندہ سڑکوں کا جال بچھا رہا ہوتا ہے، اور ملتان کا لیڈر اپنے شہر کے لیے بجٹ منظور کروا رہا ہوتا ہے — تو وہ سب کچھ اس لیے ممکن ہوتا ہے کیونکہ وہ اپنے عوام کے ووٹ سے جیت کر اسمبلی میں بیٹھے ہیں۔

اگر جھنگ کے نمائندے خاموش ہیں، تو اس کا جواب بھی انہیں دینا ہو گا — نہ کہ اُس شخص کو جو ہارنے کے باوجود جیتنے والوں سے زیادہ متحرک، خلوص مند، اور عوامی خدمت گزار ہے۔

آج سوال یہ نہیں کہ مولانا آصف معاویہ سیال نے لیہ کے لیڈر سے کیا کہا — بلکہ سوال یہ ہے کہ جھنگ کے ایم پی ایز اور ایم این ایز نے اسمبلی میں آپ کے لیے کیا کیا؟ کیا انہوں نے جھنگ کو ڈویژن بنانے کا مطالبہ کیا؟ کیا انہوں نے تعلیم، صحت، روزگار یا امن و امان پر کوئی پالیسی پیش کی؟ کیا وہ آپ کے دروازے پر آئے جب آپ کو ان کی سب سے زیادہ ضرورت تھی؟

اگر جواب “نہیں” ہے، تو پھر ہمیں غور کرنا ہو گا کہ ہم کب تک صرف “نام” کو ووٹ دیتے رہیں گے اور “کام” کرنے والوں کو نظر انداز کرتے رہیں گے؟

قیادت کا معیار اب بدلنا ہو گا۔ اب ہمیں ایسے نمائندوں کو اسمبلی میں لانا ہو گا جو عوام میں رہتے ہیں، ہر وقت حاضر رہتے ہیں، اختیار نہ ہونے کے باوجود خدمت کرتے ہیں، مسائل کو سمجھتے ہیں، اور حل پر یقین رکھتے ہیں۔

مولانا آصف معاویہ سیال اگر اسمبلی میں آ جائیں، تو جو محنت وہ آج بغیر کرسی کے کر رہے ہیں، کل اس کو اختیار ملنے کے بعد وہ جھنگ کی قسمت بدلنے کے لیے استعمال کریں گے۔

قیادت تخت سے نہیں بنتی، خدمت سے بنتی ہے۔ ووٹ صرف جیتنے والوں کو نہ دیں، بلکہ اُنہیں دیں جو ہر حال میں آپ کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔ آج مولانا آصف معاویہ سیال آپ کے ساتھ ہیں — کل آپ اُن کے ساتھ ہوں!

تحریر: منا چودھری