صحافت
: ریاست کا چوتھا ستون تباہی کے دہانے پر

تحریر معروف صحافی متین قیصر ندیم احمد پور سیال

صحافت کو جمہوریت میں “چوتھا ستون” کہا جاتا ہے۔ مقننہ قانون بناتی ہے، عدلیہ انصاف دیتی ہے، انتظامیہ نظام چلاتی ہے، اور صحافت ان تینوں پر نظر رکھتی ہے۔ سادہ لفظوں میں، صحافت سچ کو عوام تک پہنچانے کا نام ہے۔

*1. صحافت کی تعریف اور اقسام*

صحافت معلومات جمع کرنے، ان کی تصدیق کرنے اور پھر عوام تک پہنچانے کا عمل ہے۔

*بنیادی اقسام:*
– *پرنٹ صحافت*: اخبار، رسالے، جرائد۔ پاکستان میں جنگ، ڈان، نوائے وقت اس کی مثالیں ہیں۔
– *الیکٹرانک صحافت*: ٹی وی چینلز اور ریڈیو۔ جیو، اے آر وائی، سماء نیوز وغیرہ۔
– *ڈیجیٹل صحافت*: ویب سائٹس، یوٹیوب چینلز، سوشل میڈیا۔ آج کل سب سے تیز رفتار۔
– *تحقیقاتی صحافت*: مہینوں لگا کر کسی اسکینڈل یا کرپشن کو بے نقاب کرنا۔ پاناما لیکس اس کی بڑی مثال ہے۔
– *شہری صحافت*: عام آدمی موبائل سے ویڈیو بنا کر سچ سامنے لائے۔

*2. صحافت کے بنیادی فرائض*

1. *خبر دینا*: عوام کو بتانا کہ ملک اور دنیا میں کیا ہو رہا ہے۔
2. *رائے سازی*: اداریوں اور تجزیوں سے عوام کو سوچنے پر مجبور کرنا۔
3. *حکمرانوں کا احتساب*: وزیر، افسر، ادارہ اگر غلط کرے تو سوال اٹھانا۔ اسے “واچ ڈاگ” کا کردار کہتے ہیں۔
4. *عوام کی آواز بننا*: مظلوم کی خبر کو ایوانوں تک پہنچانا۔ ڈاریا خان جیسے چھوٹے شہر کا مسئلہ بھی اسلام آباد تک پہنچ سکتا ہے۔
5. *تعلیم و تفریح*: صرف سیاست نہیں، صحت، زراعت، سائنس اور کھیل کی خبریں بھی دینا۔

*3. اچھی صحافت کے اصول*

ایک سچا صحافی ان 5 باتوں کا پابند ہوتا ہے:
**اصول** **مطلب**
**سچائی** خبر کو توڑ مروڑ کر پیش نہ کرنا۔
**تصدیق** ایک سے زیادہ ذرائع سے خبر کنفرم کرنا۔
**غیر جانب داری** کسی پارٹی یا شخص کا طرف دار نہ بننا۔
**توازن** الزام لگے تو دوسرے فریق کا موقف بھی دینا۔
**جوابدہی** غلطی ہو جائے تو معافی مانگ کر تصحیح چھاپنا۔
*4. پاکستان میں صحافت: ماضی سے حال تک*

*آغاز*: مولانا ظفر علی خان کا “زمیندار”، مولانا محمد علی جوہر کا “ہمدرد”۔ تحریک پاکستان میں اخباروں نے کلیدی کردار ادا کیا۔

*سنہرا دور*: 60 اور 70 کی دہائی میں نوائے وقت، جسارت، حریت جیسے اخباروں نے جرات مندانہ صحافت کی۔

*آج کے چیلنجز:*
1. *سنسر شپ*: دباؤ کے باعث کئی خبریں نہیں چھپتیں۔
2. *فیک نیوز*: سوشل میڈیا پر جھوٹ کا طوفان۔ ایک جھوٹی خبر فساد کرا سکتی ہے۔
3. *معاشی دباؤ*: چینلز اور اخبارات اشتہار کے لیے حکومت یا سیٹھوں کے محتاج۔
4. *جان کا خطرہ*: 2025 کی CPJ رپورٹ کے مطابق پاکستان صحافیوں کے لیے خطرناک ترین ممالک میں شامل ہے۔
5. *ریٹنگ کی دوڑ*: ٹی وی چینلز پر چیخ و پکار، بغیر تصدیق کے بریکنگ نیوز۔

*5. صحافت کا مستقبل*

موبائل اور انٹرنیٹ نے ہر بندے کو صحافی بنا دیا ہے۔ یہ اچھی بات ہے مگر خطرناک بھی۔ اب اصل صحافی کا کام “شور میں سے سچ” الگ کرنا ہے۔

*بہتری کے لیے تجاویز:*
1. *میڈیا لٹریسی*: اسکول کالج میں سکھایا جائے کہ جھوٹی خبر کیسے پہچانیں۔
2. *قوانین کا نفاذ*: صحافیوں کے تحفظ کا بل صرف کاغذ پر نہ رہے۔
3. *خود احتسابی*: میڈیا ہاؤس خود اپنے ادارے میں جھوٹ اور زرد صحافت کو روکیں۔
4. *ڈیجیٹل مہارت*: صحافیوں کو ڈیٹا جرنلزم، فیکٹ چیکنگ کے جدید ٹولز سکھائے جائیں۔

*نتیجہ:*
صحافت آئینہ ہے۔ اگر آئینہ گدلا ہو گا تو پورا معاشرہ اپنا اصل چہرہ نہیں دیکھ پائے گا۔ صحافی کا قلم تلوار سے زیادہ طاقتور ہے، مگر یہ طاقت صرف سچ کے لیے استعمال ہو تو معاشرہ ترقی کرتا ہے۔ ورنہ یہی قلم فساد، نفرت اور تقسیم کا باعث بن جاتا ہے۔

قائداعظم نے کہا تھا: “آپ کے پاس سب سے بڑی طاقت قلم ہے، اسے انصاف کے لیے اٹھائیں”۔

آپ کے خیال میں آج کی صحافت میں سب سے بڑا مسئلہ کون سا ہے؟
از قلم
محمد متین قیصر ندیم احمد پور سیال سابق جنرل سیکرٹری تحصیل پریس کلب احمد پور سیال