بی بی شہید: ایک نظریہ، ایک تحریک، ایک تاریخ
تحریر: محمد زاہد مجید انور

ٹوبہ ٹیک سنگھ۔۔۔۔بے نظیر بھٹو شہید صرف ایک سیاسی رہنما نہیں تھیں، وہ عزم، حوصلے، قربانی اور عوامی جدوجہد کی وہ علامت تھیں جنہوں نے پاکستان میں جمہوریت کے پودے کو اپنے خون سے سیراب کیا۔ آج جب ہم اُن کی سالگرہ کے موقع پر انہیں خراجِ عقیدت پیش کر رہے ہیں، تو یہ محض ایک رسم نہیں بلکہ ایک عہد کی تجدید ہے۔پاکستان پیپلز پارٹی کی ڈپٹی سیکرٹری انفارمیشن پنجاب اور رکن صوبائی اسمبلی میڈم نیلم جبار چوہدری نے محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ بی بی شہید نہ صرف ایک عظیم رہنما تھیں بلکہ وہ ایک روشن نظریہ، ایک انقلابی تحریک، اور عوام کی امید تھیں۔ اُنہوں نے جمہوریت کا چراغ اپنے لہو سے جلایا، اور ہم اُس چراغ کو کبھی بجھنے نہیں دیں گے۔”میڈم نیلم جبار چوہدری نے کہا کہ آج بھی بے نظیر بھٹو کا مشن زندہ ہے، اُن کے افکار آج بھی رہنمائی فراہم کر رہے ہیں۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اُسی پرچم کو آگے لے کر چل رہے ہیں۔ اُنہوں نے بی بی کے مشن کو حکمت، سفارتکاری اور حوصلے کے ساتھ دنیا کے ہر فورم پر اُجاگر کیا ہےلارکانہ سے لندن، کراچی سے کیپیٹل ہِل تک بے نظیر بھٹو کی گونج آج بھی موجود ہے۔ اُن کی سیاست صرف اقتدار کے گرد نہیں گھومتی تھی بلکہ وہ ایک ویژن، ایک خواب، اور ایک نظریے کے ساتھ جڑی ہوئی تھی — وہ نظریہ جو ہر مظلوم، ہر محروم، ہر محنت کش کے دل کی آواز بن چکا ہے۔نیلم جبار چوہدری کا کہنا تھا کہ بی بی شہید کی قربانی پاکستان کے سیاسی افق پر ایک ایسی شمع ہے جس کی روشنی کبھی مدھم نہیں ہو سکتی۔ اُنہوں نے جس جمہوری جدوجہد کا آغاز کیا، ہم اُس کے وارث ہیں اور اُس کے امین بھی۔”آج جب پاکستان اندرونی و بیرونی چیلنجز سے دوچار ہے، تو بی بی شہید کی سیاسی بصیرت اور جمہوری اقدار ہمیں ایک بار پھر راستہ دکھاتی ہیں۔ اُنہوں نے جو خواب دیکھے، وہ خواب آج بھی عوام کی آنکھوں میں جگمگا رہے ہیں۔بے نظیر بھٹو شہید کا وجود اب بھی پاکستان کے ہر جمہوری دل میں دھڑکتا ہے۔ اُن کے نظریات، قربانیاں اور عوامی وابستگی ہمیں یہ درس دیتی ہیں کہ ظلم کے خلاف لڑائی، جمہوریت کی سربلندی اور عوامی خدمت ہی ایک سچے سیاسی کارکن کا مقدر ہونی چاہیے۔