اسسٹنٹ کمشنر چوہدری طارق محمود گل موسم کی باتیں اور کہانی ریٹائرڈ ڈپٹی کمشنر کی
تحریر علی امجد چوہدری
گزشتہ سے پیوستہ روز میں ملتان میں ایک ریٹائرڈ بیورو کریٹ کا مہمان تھا یہ پنجاب کے مخلتف اضلاع میں بطور ڈپٹی کمشنر اپنی خدمات سر انجام دے چکے ہیں ان دنوں ریٹائرمنٹ کی زندگی بس کر رہے ہیں ڈنر کے دوران گفتگو کا سلسلہ بھی جاری تھا اور اسی سلسلے میں ذکر آ گیا احمدپور سیال کا
یہ ریٹائرڈ ڈپٹی کمشنر احمد پور سیال کی انتظامی مشینری کے حوالے سے پوچھتے رہے مگر اسسٹنٹ کمشنر چوہدری طارق محمود گل کے نام پر چونک گئے اور کہا کہ
It’s good omen for your city
میں ابھی ان الفاظ کی تشریح یا پس منظر جاننا ہی چاہتا تھا کہ دوران سروس اپنی شاندار شہرت کے حوالے سے جانے جانے والے یہ بیورو کریٹ بولے چوہدری صاحب یہ بندہ نیند اور چین سے بے اعتناء کام کرنے والا ہے یہ فیلڈ اور دفتر کو برابر لے کر چلیں گے یہاں دعوؤں سے زیادہ پریکٹیکل پر فوکس ہوگا میں حیران تھا کہ یہ بڑے بیورو کریٹ ایک ہی سانس میں چوہدری طارق محمود گل کی اتنی تعریفیں کیوں کیئے جا رہے ہیں مگر جب مختلف والز پر ان کی سرگرمیوں کا بغور جائزہ لیا تو مجھے اندازہ ہوا کہ یہ ڈپٹی کمشنر ان کی سرگرمیوں اور ان کے ماضی سے پوری طرح واقف تھے
اب یہ دفتر میں مسائل حل کرتے ہیں تجاوزات کے خلاف بلاامتیاز آپریشن کرتے ہیں قبضہ گروپوں کی انہوں نے کمر توڑ کر رکھ دی ہے ناجائز قابضین سے زمین ریکور کرارہے ہیں
پٹے پر دی گئی سرکاری زمینوں کی بولی لگی تو کم بولی پر مطمئن نہ ہوئے اور فی ایکڑ مستاجری بڑھانے کے لیئے مصر ہوگئے
حالانکہ یہ رقم ان کی جیب میں نہیں سرکار کے خزانے میں جانی تھی
مگر جب بندہ پروفیشنل ہو ایماندار ہو تو وہ ریاست سے ایسے ہی وفا کرتا ہے جیسے چوہدری طارق محمود گل کر رہے ہیں
علی امجد چوہدری









