یومِ یکجہتی کشمیر
تحریر ✍🏻 آصف نیازی ملنگ بابا چھدرو
یومِ یکجہتی کشمیر ہر سال 5 فروری کو پاکستان سمیت دنیا بھر میں بسنے والے کشمیریوں اور اُن کے ہمدردوں کی جانب سے بھرپور عزم و حوصلے کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ یہ دن مظلوم کشمیری عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور اُن کے حقِ خودارادیت کی غیر متزلزل حمایت کا عالمی پیغام دیتا ہے۔ یومِ یکجہتی کشمیر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ کشمیری قوم گزشتہ کئی دہائیوں سے آزادی کی جدوجہد میں مصروف ہے اور اُن پر ڈھائے جانے والے بھارتی مظالم انسانیت کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہیں۔
کشمیر کا مسئلہ برصغیر کی تقسیم کا ادھورا باب ہے۔ 1947ء میں جب برصغیر کی تقسیم عمل میں آئی تو ریاستوں کو حق دیا گیا کہ وہ پاکستان یا بھارت کے ساتھ الحاق کریں یا اپنی خودمختاری برقرار رکھیں۔ جموں و کشمیر ایک مسلم اکثریتی ریاست تھی جہاں کے عوام پاکستان کے ساتھ الحاق کے خواہاں تھے، لیکن اُس وقت کے ہندو مہاراجہ ہری سنگھ نے کشمیری عوام کی خواہشات کے برخلاف بھارت کے ساتھ الحاق کا اعلان کر دیا۔ یہ الحاق زبردستی اور دھوکہ دہی پر مبنی تھا جسے کشمیری عوام نے کبھی تسلیم نہیں کیا۔
1947ء میں ہی پاکستان اور بھارت کے درمیان پہلا جنگ کشمیر کے مسئلے پر ہوا، جس کے بعد اقوامِ متحدہ میں یہ مسئلہ پیش کیا گیا۔ اقوامِ متحدہ نے کشمیری عوام کو اُن کے حقِ خودارادیت کے لیے رائے شماری کا وعدہ کیا، لیکن آج تک یہ وعدہ وفا نہیں ہوا۔ بھارت نے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مقبوضہ کشمیر میں اپنا قبضہ مضبوط کرنے کے لیے مختلف ہتھکنڈے اپنائے، لیکن کشمیریوں کی آزادی کی تڑپ اور مزاحمت کو کبھی ختم نہیں کر سکا۔
یومِ یکجہتی کشمیر منانے کی باقاعدہ روایت 1990ء میں اُس وقت شروع ہوئی جب پاکستان کے معروف سیاسی رہنما قاضی حسین احمد نے مظلوم کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کے لیے اس دن کو قومی سطح پر منانے کا اعلان کیا۔ اُس وقت پاکستان میں کشمیری عوام پر بڑھتے ہوئے بھارتی مظالم کے خلاف شدید غم و غصہ تھا اور ہر پاکستانی دل کشمیریوں کے درد کو محسوس کر رہا تھا۔ تب سے لے کر آج تک، یہ دن پاکستان کے ہر شہر، گاؤں، اور بستی میں جوش و جذبے کے ساتھ منایا جاتا ہے۔
یومِ یکجہتی کشمیر صرف ایک علامتی دن نہیں بلکہ یہ اُس عہد کی تجدید ہے جو پاکستانی قوم نے کشمیری عوام کے ساتھ باندھا ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ کشمیر صرف ایک خطہ نہیں بلکہ پاکستان کی “شہ رگ” ہے جیسا کہ قائداعظم محمد علی جناح نے فرمایا تھا۔ یہ دن ہمیں اُن لاکھوں کشمیریوں کی قربانیوں کی یاد دلاتا ہے جنہوں نے آزادی کی خاطر اپنی جانیں قربان کیں، اپنے پیاروں کو کھویا، اور بھارتی افواج کے ظلم و ستم کا سامنا کیا۔
5 فروری کو پاکستان میں عام تعطیل ہوتی ہے اور مختلف سرکاری و غیر سرکاری تقریبات کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ ریلیاں نکالی جاتی ہیں، انسانی ہاتھوں کی زنجیریں بنائی جاتی ہیں، سیمینارز، مذاکرے اور تقریری مقابلے منعقد ہوتے ہیں جن میں مسئلہ کشمیر کی تاریخ، موجودہ حالات اور عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے کے پہلوؤں پر روشنی ڈالی جاتی ہے۔
مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں
بھارت نے مقبوضہ کشمیر کو دنیا کی سب سے بڑی فوجی چھاؤنی میں تبدیل کر رکھا ہے جہاں لاکھوں بھارتی فوجی کشمیری عوام کو خوف، دہشت، اور جبر کے ذریعے دبانے کی ناکام کوشش کرتے ہیں۔ ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیاں، خواتین کی بے حرمتی، بچوں پر ظلم، اور اظہارِ رائے کی آزادی پر پابندیاں روزمرہ کی حقیقت بن چکی ہیں۔
5 اگست 2019ء کو بھارت نے آرٹیکل 370 اور 35A کو ختم کر کے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کو غیر قانونی طور پر ختم کیا۔ اس اقدام کے بعد سے مقبوضہ کشمیر میں حالات مزید خراب ہو چکے ہیں۔ بھارت نے انٹرنیٹ اور مواصلاتی نظام معطل کر کے کشمیر کو دنیا سے کاٹ دیا اور لاکھوں کشمیریوں کو گھروں میں محصور کر دیا۔ یہ سب انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں کی عکاسی کرتا ہے جس پر عالمی برادری کی خاموشی افسوسناک ہے۔
پاکستان نے ہمیشہ مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کی حمایت کی ہے۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ مسئلہ کشمیر کو اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل کیا جائے۔ پاکستان نے سفارتی، اخلاقی، اور سیاسی محاذ پر کشمیری عوام کی حمایت میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ دنیا بھر میں پاکستانی سفارتخانے مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کے لیے سرگرم ہیں، اور بین الاقوامی تنظیموں میں بھارت کے مظالم کو بے نقاب کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔
عالمی برادری، خصوصاً اقوامِ متحدہ، یورپی یونین، اور انسانی حقوق کی تنظیموں پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بھارت کو جوابدہ ٹھہرائیں۔ مسئلہ کشمیر صرف ایک خطے کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ عالمی امن و استحکام کے لیے خطرہ ہے۔ جب تک کشمیری عوام کو اُن کا جائز حقِ خودارادیت نہیں دیا جاتا، جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا قیام ممکن نہیں۔
یومِ یکجہتی کشمیر ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ آزادی ایک قیمتی نعمت ہے جس کی قدر وہی جان سکتا ہے جو غلامی کے شکنجے میں جکڑا ہو۔ کشمیری عوام کی جدوجہدِ آزادی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ ظلم جتنا بھی طاقتور ہو، حق اور سچائی کی روشنی کو نہیں بجھا سکتا۔ کشمیریوں کا جذبہِ حریت اور اُن کی قربانیاں تاریخِ انسانیت میں سنہری الفاظ میں لکھے جانے کے قابل ہیں۔
پاکستانی قوم کو چاہیے کہ وہ صرف اس دن کو منانے تک محدود نہ رہے بلکہ ہر دن کشمیریوں کی جدوجہد کو یاد رکھے اور اپنی سفارتی، سیاسی، اور سماجی کوششوں کو مزید مضبوط بنائے تاکہ دنیا بھر میں مسئلہ کشمیر کو زیادہ مؤثر طریقے سے اجاگر کیا جا سکے۔
یومِ یکجہتی کشمیر محض ایک تقاریب کا سلسلہ نہیں بلکہ یہ کشمیری عوام کے ساتھ ہمارے گہرے تعلق، محبت، اور حمایت کا اظہار ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ پاکستان ہمیشہ کشمیری عوام کے ساتھ کھڑا ہے، اور جب تک کشمیر آزاد نہیں ہوتا، یہ جدوجہد جاری رہے گی۔ ایک دن ضرور آئے گا جب کشمیر کی فضاؤں میں آزادی کے نعرے گونجیں گے، اور ظلم کے اندھیرے چھٹ جائیں گے۔ کشمیر بنے گا پاکستان، ان شاء اللہ۔









