خانیوال D.P.O اسماعیل الرحمن کھاڑک کی فرض شناسی پر اعتراف خدمت
“”””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””
ازقلم: طاہر عباس 03038558512*
“”””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””
ایماندار پولیس افسر ایک ایسا فرد ہوتا ہے جو اپنی ذمہ داریوں کو پوری ایمانداری، دیانتداری اور پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ نبھاتا ہے۔ وہ کسی بھی صورت میں رشوت یا غیرقانونی فائدہ لینے سے گریز کرتا ہے اور قانون کے مطابق فیصلے کرتا ہے۔ اس کا مقصد عوام کی خدمت اور ان کے مسائل کا حل ہوتا ہے اور وہ ہمیشہ انصاف کے تقاضوں کو پورا کرتا ہے۔ اس کی اخلاقی اقدار، بہادری اور جذبہ خدمت دوسروں کے لیے مثال ہوتے ہیں، اور اس کا کردار عوام میں اعتماد اور احترام پیدا کرتا ہے۔ ایماندار پولیس افسر اپنی فرض شناسی سے معاشرے میں امن و امان قائم کرنے کی کوشش کرتا ہے، اور اس کی محبت اور احترام کا برتاؤ لوگوں کو اس پر بھروسہ کرنے پر مجبور کرتا ہے۔
راقم اپنی قلبی کیفیت کو معنی کی زبان دینے سے عاجز ہے لیکن یہ قیاس کرتے ہوئے کہ یہی کیفیت تمام اہل وطن کی ہو سکتی ہے، شاید ضبط تحریر میں لائے جانے والے حروف مدعا واضح کرنے کیلئے کافی ٹھہر سکیں۔ بات سادہ سی ہے لیکن حالات کے جبر نے اسے گنجلک اور پیچیدہ بنا دیا ہے۔ مسائل سے دوچار اور بھی ممالک ہوں گے لیکن وہاں اس طرح بے مقصد صبح شام نہیں ہوتے ہوں گے جس طرح یہاں ہیں۔ ہماری مثال اس جواری کی سی ہے جو اپنے آباؤ اجداد کی کمائی کو لٹانے پر تلا ہوا ہے۔ ایٹمی قوت بننا اپنی جگہ شاہکار کارنامہ سہی لیکن ایمانداری سے بتایا جائے کہ ہم نے 77 سال کے عرصے میں کیا کھویا کیا پایا!؟ ہم دیگر ممالک سے موازنہ کیا کریں کہ ہم سے علیحدہ ہونے والا بنگلہ دیش بھی آج ترقی اور امن میں اس قدر آگے ہے کہ ہمارے سرمایہ کار وہاں فیکٹریاں لگانے کیلئے دوڑ پڑے ہیں۔ ستم تو یہ ہے کہ وہ جمہوریت جس نے ایک جہان بدل کر رکھ دیا ہے، ہمارے ہاں جب نہیں ہوتی تو ہم اسے تلاش کرتے ہیں اور جب مل جائے تو اس میں اپنے آپ کو تلاش کرتے ہیں۔ بس یہی قیام پاکستان تا امروز ہو رہا ہے۔ انسپکٹر حامد عطاء (خانیوال پولیس) نے صورتحال کی کیا خوبصورت تصویر کشی کی ہے۔ “وہ مل جائے تو ہنس لینا، بچھڑ جائے تو رو لینا
ہمارے روز و شب میں اب یہی دو گوشوارے ہیں”.
لیکن تحصیل کبیروالا نے بھی کیا قسمت پائی ہے کہ یہاں سب ہی ”استاد“ ہیں اور ضامن بھی کوئی دستیاب نہیں۔ ایسے میں ایک ایسے افسر کا بروئے کار آنا ہی ناگزیر ہے جو تمام سوالوں کا جواب آپ ہو اور جاننے والے بتاتے ہیں کہ DPO خانیوال اسماعیل الرحمن کھاڑک صاحب میں کچھ کر گزرنے کی تڑپ کے ساتھ وہ جوہر بھی ہے جو ایسے حالات میں درکار ہوتی ہے۔ مجھے پولیس ملازم نے جب ان کے خانوادے کی خوبیاں بیان کرنا شروع کیں تو میں نے مودبانہ گزارش کی کہ میں تو صرف یہ جاننے کیلئے خواستگار ہوں کہ وہ کبیروالا کے مسائل کیلئے خود کس قدر موزوں ثابت ہو سکتے ہیں۔ پولیس ملازم نے کہا کہ، خاندانی پس منظر کسی معرکے کو سر کرنے کیلئے بنیادی علامت سمجھی جاتی ہے۔ مال و دولت اور جاہ و جلال کی تمنا پر غیرت و وقار کی آرزو اس وقت حاوی ہوتی ہے جب ایک شخص ہر طرح کی حرص سے آزاد ہو۔ DPO خانیوال اسماعیل الرحمن کھاڑک صاحب کی آنکھوں کی چمک آپ کو بتا دے گی کہ وہ لالچ و مفاد کیلئے نہیں، محکمہ پولیس کی لاج کیلئے بیقرار ہے۔ ان سطور میں کسی کی قصیدہ خوانی مقصود نہیں اور راقم بھی اہل وطن کی طرح تھانوں کو عقوبت خانے بنانے والے پولیس کی کالی بھیڑوں کا نقاد ہے، سرکل کبیروالا کی بدامنی سے نہ صرف ملکی معیشت پر نقصان دہ اثرات مرتب ہوتے ہیں بلکہ اس بدامنی سے کچھ قوتیں اپنے بعض سیاسی اور دیگر اہداف بھی حاصل کرتی ہیں۔ اس ضمن میں سب سے زیادہ باعث تشویش امر یہ ہے جس پر راقم، جناب سے خواستگار ہے کہ1۔ کبیروالا کی زیادہ تر آبادیوں پر ڈرگ مافیا کا کنٹرول ہے۔ جو کبیروالا میں منشیات کے عادی افراد کے ذریعے کسی بھی گلی کوچوں تو درکنار گھروں میں بھی داخل ہوکر بآسانی واردات کرکے نکل جاتے ہیں اور منشیات کے عادی افراد مرنے، مارنے سے بھی نہیں کتراتے، بہت سے خطرناک جرم صرف اس نشے کی خرید کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے کیے جاتے ہیں۔
2۔ کبیروالا میں کباڑ کی دوکانوں کو رجسٹرڈ کیا جائے اور فوری طور پر کبیروالا کے تمام کباڑ کی دوکانوں پر کیمرے نصب کروائے جائیں، کیونکہ چوری شدہ مال زیادہ تر کباڑ کی دوکانوں پر بکتا ہے۔
3۔ سیاسی اثر و رسوخ اور مداخلت کی وجہ سے پولیس افسران آزادانہ طور پر کام نہیں کر پاتے۔ اس لیے ضروری ہے کہ محکمہ پولیس اور ان کے سرپرست سیاستدانوں کا قبلہ درست کر دیا جائے تو یقین جانیں کبیروالا جرائم سے پاک ہو سکتا ہے۔ سرکل کبیروالا میں کسی پولیس افسر کو بطور چیکر ان تھانوں کی نگرانی کیلئے رکھ لیں جو روز کی بنیاد پر جا کر دیکھیں کہ کتنے جوان اور افسر حاضر ہیں اور کتنے غائب ہیں اور عوام کے مسائل کو کیسے حل کیا جا رہا ہے۔ پولیس کی تربیت، وسائل کی فراہمی اور کرپشن کے خاتمے کے ذریعے ان کی کارکردگی بہتر بنائی جا سکتی ہے۔
4۔ سرکل کبیروالا میں امن و امان قائم رکھنے کےلیے کبیروالا کے تمام تھانوں بالخصوص تھانہ سٹی کبیروالا میں سب انسپکٹر کی بجائے انسپکٹر تھانوں میں تعینات کیے جائیں۔
یہاں عرض صرف اتنی سی ہے کہ خانیوال ضلعی پولیس کے سربراہ کو جاننے والوں نے جو کچھ بتایا اس کا خلاصہ یہ ہے کہ DPO خانیوال اسماعیل الرحمن کھاڑک صاحب قیام امن کیلئے یادگار اور پائیدار کردار ادا کریں گے۔ DPO خانیوال اسماعیل الرحمن کھاڑک صاحب کو راقم کی طرف سے سلام۔۔۔۔









