امتحانات کا بخار

از قلم فیصل جنجوعہ

آج کل امتحانات کا موسم چل رہا ہے سوچا کچھ گزارشات بچوں اور والدین کی خدمت میں پیش کروں. جدید تعلیمی معیارات کے مطابق امتحانات میں بچے کچھ نیا نہیں سیکھ پاتے بلکہ وہ پہلے سے پڑھے ہوئے خیالات یا آئیڈیاز کو یاد کرکے کاغذ پر اتارتے ہیں۔ ہمارے تعلیمی نظام میں تو اور بھی بْرا حال ہے۔ اساتذہ کے غلط تدریسی طریقوں اور رٹّے کی بھرمار کی وجہ سے ہمارے امتحانات فقظ ایک میکانیکی عمل بن کر رہ گئے ہیں جن سے بچوں اور والدین کو ڈرانے اور ان کے خون جلانے کا کام لیا جاتا ہے۔ سیکھنے کا عمل جس میں بچوں کی شخصیت میں بہتری آئے یا ان کی علمی نمو ہو، وہ ہمارے ہاں ہونے والے امتحانات میں بالکل ہی مفقود ہے۔
دنیا کے تعلیمی طور پر پیش رفتہ ممالک میں امتحانات کے تدریسی عمل میں عمل دخل کو روز بروز کم کیا جارہاہے۔ کچھ ممالک میں پرائمری تک امتحانا ت منعقد ہی نہیں ہوتے اور کچھ میں فیل و پاس کو مڈل یا ہائی سکولوں تک محدود کیا جارہا ہے۔ اس کے متبادل کے طور پر بچوں کو اسائنمنٹس، فیلڈ ورک یا کچھ اور ایسا کام کرنے کو دیا جارہا ہے جس میں بچے خود کچھ نیا کرسکیں اور اس طرح سیکھنے کا عمل جاری ہو۔
اسی طرح امتحانات کا بخار جس طرح ہمارے ہاں پایاجاتا ہے، تعلیمی طور پر ترقی یافتہ ممالک اس سے چھٹکارا پاچکے ہیں۔ بقول مشہور فلسفی اور تعلیمی مفکر برٹرنڈ رسل، “امتحانا ت کا مجھے کوئی خاص فائدہ نظر نہیں آتا سوائے اس کے کہ یہ ایک آلے طور پر استعمال ہوسکے جس سے کہ محدود وسائل کی تقسیم ممکن ہوسکے۔ مثال کے طور پر اگر ایک یونیورسٹی کے کسی شعبے میں بیس داخلوں کی گنجائش ہو اور اس میں داخلے کے خواہشمند افراد کی تعداد دو سو ہو تو امتحانات کے ذریعے آپ ان دو سو میں سے بیس بہترین افراد کا انتخاب کرسکتے ہیں, اس کےعلاوہ میں امتحانات میں کچھ مفید نہیں پاتا”.
ہمارے ہاں امتحانات کے بعد پوزیشنز کا بڑا ہنگامہ کھڑا ہوجاتا ہے۔ اس بات کو لیکر کچھ بچے اور والدین نفسیاتی مریض بن چکے ہوتے ہیں۔ کچھ نمبروں کی کمی کی وجہ سے بچے کی مہینوں کی محنت پر لات ماری جاتی ہے اور بچہ اپنے والدین کی توقعات پر پورا اترنے کیلئے ابنارمل تک بن جاتا ہے۔ پوزیشنز کی سب سے بْری بات یہ ہے کہ اس میں تیس بچوں کی کلاس میں صرف تین بچے خوش ہوتے ہیں جبکہ باقی ستائیس کے منہ لٹک جاتے ہیں۔ میرے خیال میں تو یہ انتہاء درجے کی بد اخلاقی ہے۔
اس کے برعکس، ترقی یافتہ قومیں اس لعنت سے بالکل ہی جان چھڑا چکی ہیں۔ مثال کے طور پر ترکی میں 85 یا اس زیادہ نمبر لینے والوں کو ایک خاص قسم کے طلائی سرٹیفکیٹ دیا جاتا ہے، 75 سے 84 تک نمبر لینے والوں کو سِلور یا نقرئی سرٹیفکیٹ عنایت کی جاتا ہے، جب کہ اس سے کم نمبر لینے والوں کو بھی حوصلہ افزائی کیلئے کوئی سرٹیفکیٹ یا تحفہ عطاء کیا جاتا ہے۔ اس سے یہ ہوتا ہے کہ کلاس کا تقریباً ہر بچہ خوش خوش گھر جاتا ہے اور کوئی بلاوجہ کے احساسِ کمتری یا برتری میں بھی مبتلا نہیں ہوتا۔
اس کے علاوہ بھی کچھ باتیں ہیں اس سلسلے میں لیکن ان کو پھر کبھی، بس والدین کی خدمت میں ایک آخری درخواست یا یاددہانی یہ کہ بچے جب بڑے ہوکر اپنے بچپنے کی طرف دیکھتے ہیں تو ان کو خوش گوار لمحات اور آپ کی شفقت و محبت یاد آتی ہیں، ٹرافیاں، میڈلز تو سارے الماریوں میں ہی گرد پکڑے رہتے ہیں جن کو بار بار صاف کرکے رکھنا پڑتا ہے۔ آپ کی اولاد کی خوشی ، کسی بھی پوزیشن یا ٹرافی سے بڑھ کر ہے، خدا نہ کرے کہ آپ کے یہ سمجھنے تک بچے بچپنے کی حدود سے نکل نہ چکے ہو۔