سکول میں سرگرمیوں کی اہمیت
تحریر۔فیصل جنجوعہ
اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو گوناگوں صلاحیتوں سے نوازا ہے۔ اس بات کا ادراک سب سے زیادہ تعلیمی اداروں یا سکولوں میں ہوتا ہے۔ اگر کوئی بچہ پڑھنے میں اچھا ہے تو کسی کی لکھائی عمدہ ہے، کوئی مصوری کا دلدادہ ہے تو کوئی کھیلوں کے میدان میں چست و چالاک، کوئی تقاریر اچھی کرلیتا ہے تو کسی کی تحریری کاوش دلوں کو کھینچ لیتی ہے۔ غرض ، ہر بچے کے اندرکوئی نہ کوئی صلاحیت ضرور ہوتی ہے ۔ ہاں، یہ ضرور ہے کہ سکول کے اساتذہ اور انتظامیہ نہ صرف ان صلاحیتوں کو پہچانیں بلکہ ان کو جِلا بخشیں (آسان الفاظ میں پالش کریں)۔
اس مقصد کیلئے عمدہ تعلیمی ادارے وقتًا فوقتًا ایسے سرگرمیوں کا انعقاد کراتے رہتے ہیں جس سے کہ بچوں کی مختلف صلاحیتوں میں نکھار آسکے۔
ان سرگرمیوں کا ایک اہم پہلو سب بچوں کی حوصلہ افزائی اور ان کو اعتماد بخشنا بھی ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر سکولوں میں فقط پڑھائی پر ہی زور دیا جاتا تو جو بچے پڑھائی کے معاملے میں اس قدر تیز واقع نہیں ہوئےہیں، وہ اپنے آپ کو ناکارہ اور بیکار تصور کرتے۔ اسی طرح اگر کسی سکول میں صرف کھیلوں پر توجہ ہو تو وہاں تقریری یا مصوّرانہ صلاحیتوں والے بچے بجھے بجھے سے رہتے۔ اس لیئے ضروری ہے کہ ہر طرح کی سرگرمیاں ہوں تاکہ ہر بچے کی حوصلہ افزائی ہو اور وہ کسی طرح کی نفسیاتی کشمکش کا شکار نہ ہو۔
آپ نے یہ تو سنا ہوگا کہ اگر کسی گرتے ہوئے دیوار کی مرمّت کرنی ہے تو سب سے پہلے اس کے نزدیک جانا ہوگا ۔ جدید تعلیمی نفسیات میں اس بات کی نہایت اہمیت ہے کہ بچے اپنے سکول سے انسیت رکھیں۔ اس کیلئے ضروری ہے کہ سکول کے اندر بچوں کو نہ صرف ایک خوشگوار ماحول میسّر ہو بلکہ ایسی سرگرمیاں بھی ہو جو کہ صرف بچوں کی خوشی کیلئے ترتیب دی گئی ہو۔
بطور والدین خاص کر اور بطور اساتذہ بھی ہمیں بچوں کو دیگر عمدہ عادات اور صلاحیتیں سکھانے کے ساتھ ساتھ بچو ں کو خوش رہنے کا فن سکھانے کی کوشش ضرور کرتے رہنا چاہیئے۔ جب آپ اپنے بچوں کو اس ہنر یا خوبی سے آراستہ کرلیتے ہیں تو وہ نرم دل، انسانیت دوست، شگفتہ مزاج اور دوسروں کی احساسات کا ادراک کرنے والا بن جاتا ہے۔ بالفاظ دیگر، آپ کا بچہ آدمی سے انسان بننے کی طرف اپنے سفر کا کامیاب آغاز کرتا ہے۔ اس کارخیر میں اساتذہ اور سکول والے اس طرح اپنا حصہ ڈال سکتے ہیں کہ وہ ایسی سرگرمیوں یا پروگراموں کا انعقاد کریں جن کا مقصد فقط بچو ں کے چہروں پر مسکان بکھیرنا ہو۔
لیکن ہم ایک ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں سارے والدین علم و ادراک کے اس درجے پر فائز نہیں کہ وہ سکول کے اندر ہونے والے مختلف سرگرمیوں کی اہمیت کو سمجھ سکیں۔ اس لیے ہمیں کبھی کبھا ر یہ سننے تک کو مل جاتا ہے، ‘سر، یہ فالتو چیزیں چھوڑیں، بچوں کی پڑھائی پر توجہ دیں”۔ اگر دیکھا جائے تو بچے ان سے بھی سیکھ رہے ہوتے ہیں اور یہ بھی ایک پڑھائی ہوتی ہے ۔ لیکن مقام شکر ہے کہ اس طرح کے علم و ادراک والے والدین کی تعداد میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے جو کہ ہمارے آنے والے نسلوں کی علمی ، اخلاقی اور نفسیاتی نمو کیلئے نہایت خوش آئند ہے۔












