میانوالی کی تحصیل عیسےخیل کےخٹک بیلٹ کی مائینز میں کام کرنے والےکان کنوں اورمزدوروں کا ریگولر ریکارڈ فراہم کیا جائے،تاکہ کانکنوں اورمزدوروں کو سہولیات مل سکیں۔دیگر سہولیات بھی مزدوروں کو لازما دی جائیں۔مزدور رہنما زاہد اقبال ملاخیل جنرل سیکرٹری مائینرزویلفیئرایسوسی ایشن ڈسٹرکٹ میانوالی کی پریس کانفرنس

میانوالی(اللہ نوازخان)میانوالی کی تحصیل عیسےخیل کےخٹک بیلٹ کی مائینز میں کام کرنے والےکان کنوں اورمزدوروں کا ریگولر ریکارڈ فراہم کیا جائے،تاکہ کانکنوں اورمزدوروں کو سہولیات مل سکیں۔دیگر سہولیات بھی مزدوروں کو لازما دی جائیں۔مزدور رہنما زاہد اقبال ملاخیل جنرل سیکرٹری مائینرزویلفیئرایسوسی ایشن ڈسٹرکٹ میانوالی کی پریس کانفرنس
تفصیلات کے مطابق ضلع میانوالی کی تحصیل عیسےخیل کےپسماندہ علاقہ خٹک بیلٹ کی مائینز میں کام کرنے والے کانکنوں اور مزدوروں کا ریکارڈ صحیح طریقے سے مرتب نہیں ہوتا اوراگراندراج ہوبھی جائے تومزدورں کوفراہم نہیں ہوتا،جس سے مزدور اپنا حق حاصل کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔زاہد اقبال ملاخیل جنرل سیکرٹری مائینرزویلفیئرایسوسی ایشن ضلع میانوالی نےپریس کانفرنس کے ذریعےمزدوروں کی حالت زار بیان کرتے ہوئے کہا کہ ریکارڈ فراہم نہ ہونے کی صورت میں کمپنی کو فائدہ مل جاتا ہے جس کی وجہ سےوہ مزدوروں کو پنشن کارڈ فراہم نہیں کرتے۔ضروری ہے کہ مزدوروں کا درست اور باقاعدہ ریکارڈ رکھا جائےتاکہ کوئی مزدور اپنا حق حاصل کرنے سے محروم نہ رہ جائے۔زاہد اقبال کا کہنا تھا کہ ایک اورمسئلہ بھی اکثرپیش آتاہےکہ کئی مزدور کام کرتے ہیں لیکن ان کا اندراج نہیں کیا جاتا اور ان کو دہاڑی کی لحاظ سے ہائر کیا جاتا ہےاور یوں مزدور 20،20 اور 30،30 سال تک کام کرتا رہتا ہے لیکن پنشن سمیت دیگر سہولیات سے محروم رہ جاتا ہے۔ہم کوشش کر رہے ہیں کہ ہر مزدور کو اپنا حق ملے۔انہوں نے ایک اور بات کی بھی وضاحت کی کہ سیکشن ای،جس میں زیادہ تر کول مائینز کے۔پی۔کے کے علاقوں میں ہیں اور ان میں پنجاب کے سکونتی مزدور کام کرتے ہیں،لیکن بدقسمتی سے ان سینکڑوں مزدوروں کو نہ پنجاب تسلیم کرتا ہے اور نہ کے۔ پی۔ کے،اس طرح سینکڑوں مزدور بنیادی ضروریات سے محروم رہ جاتے ہیں۔انہوں نے کول مائینز میں حادثات کی روک تھام کے لیےسیفٹی انتظامات کو یقینی بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ محکمہ معدنیات کی طرف سے برائے نام انسپیکشن کی جاتی ہے جس کی وجہ سے آئے روز جان لیوا حادثات پیش آتے رہتے ہیں اور ان حادثات سے کئی مزدور عمر بھر کے لیے معذور ہو جاتے ہیں اور کئی جان کی بازیاں بھی ہار دیتے ہیں۔اس لیے ضروری ہے کہ سیفٹی کے انتظامات بہترین ہوں تاکہ حادثات سے بچا جا سکے اور قیمتی جانیں ضائع نہ ہوں۔ان کا کہنا تھا کہ مزدور ملک کا قیمتی سرمایہ ہیں اور ان کےحقوق کا تحفظ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔میں اعلی حکام اور محکمہ معدنیات کے حکام سے اپیل کرتا ہوں کہ مزدوروں کو بین الاقوامی قوانین کے مطابق سہولیات ملنی چاہیے۔