میاں ارشد جمیل — سیاست، خدمت اور زمینداری کا درخشاں استعارہ
تحریر وترتیب محمد زاہد مجید انور
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر ضلعی رہنماء، سابق چیئرمین یونین کونسل، اور علاقہ کی ممتاز زمیندار شخصیت میاں ارشد جمیل ایک ایسا نام ہیں جو اپنے کردار، خدمات اور عوامی پذیرائی کے باعث ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔میاں ارشد جمیل 1960ء میں نواحی گاؤں چک نمبر 405 ج ب میں ایک معزز اور بااثر زمیندار گھرانے میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والدِ گرامی، چوہدری محمد جمیل، ایک نیک نفس، ایماندار اور سماجی خدمت سے سرشار انسان تھے، جنہوں نے اپنے خاندان میں دیانت داری اور عوام دوستی کی بنیاد رکھی۔ ان کے نانا، ڈاکٹر عبداللہ مرحوم، 1928ء میں اپنے علاقے کے معروف معالج ہونے کے ساتھ ساتھ ایک سرگرم سماجی کارکن بھی تھے۔ یہ خاندانی پس منظر میاں ارشد جمیل کی زندگی میں خدمتِ خلق اور قیادت کی صفات کا بنیادی ذریعہ بنا۔آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں سے حاصل کی اور میٹرک کا امتحان گورنمنٹ ماڈل ہائی سکول جھنگ روڈ سے نہایت اچھے نمبروں کے ساتھ پاس کیا۔ علم کی روشنی سے آراستہ ہوکر، آپ نے اپنی عملی زندگی کا آغاز زمینداری سے کیا، مگر دل میں عوامی خدمت کا جذبہ آپ کو سیاست کی طرف لے آیا۔ 1983ء میں باقاعدہ سیاست میں قدم رکھا اور دیکھتے ہی دیکھتے اپنے علاقہ میں ایک متحرک، بااثر اور مقبول رہنما کے طور پر ابھرے۔میاں ارشد جمیل نے 1993ء میں یونین کونسل کے چیئرمین کے طور پر الیکشن میں شاندار کامیابی حاصل کی۔ اپنی چیئرمین شپ کے دوران انہوں نے بے شمار ترقیاتی منصوبے مکمل کروائے جن میں سڑکوں کی تعمیر، صاف پانی کی فراہمی، تعلیمی اداروں کی بہتری اور فلاحی اسکیمیں شامل تھیں۔ ان کی قیادت میں کیے گئے ترقیاتی کام آج بھی ان کی عوامی خدمت کی گواہی دیتے ہیں۔ عوامی سطح پر ان کے دورِ قیادت کو “سنہری دور” تصور کیا جاتا ہے، کیونکہ ایسے کام ہوئے جو ماضی میں کبھی نہ ہوئے تھے۔سیاسی میدان میں ان کی وابستگی ہمیشہ پاکستان مسلم لیگ (ن) سے رہی، اور انہوں نے پارٹی کے لیے ضلعی سطح پر انتھک محنت کی۔ پارٹی کے کارکنان انہیں ایک قابلِ اعتماد، مخلص اور وژنری لیڈر کے طور پر جانتے ہیں۔ ان کی باتوں میں سچائی، فیصلوں میں دور اندیشی اور انداز میں عاجزی جھلکتی ہے۔سماجی حوالے سے میاں ارشد جمیل نہ صرف زمینداروں کے مسائل کے حل میں پیش پیش رہے بلکہ ہر طبقے کے لیے آسانیاں پیدا کرنے میں کوشاں رہے۔ نوجوانوں کی تعلیم، خواتین کی بہبود اور کسانوں کے حقوق کے لیے ان کی جدوجہد ایک روشن مثال ہے۔میاں ارشد جمیل کا نام آج بھی ان کے حلقے میں عزت، خدمت اور ترقی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ ان کی شخصیت نئی نسل کے لیے ایک مشعلِ راہ ہے کہ خدمتِ خلق، دیانت داری اور عوامی فلاح کو اپنا مقصد بنایا جائے تو کامیابی قدم چومتی ہے۔*






