جنگی زخم، ریاستی پہچان — ظہور احمد کو ملنے والی مالی امداد ایک مثبت قدم

تحریر۔ محمد زاہد مجید انور

ٹوبہ ٹیک سنگھ کی مٹی ہمیشہ قربانیوں، جذبے اور حب الوطنی کی علامت رہی ہے۔ آج بھی اس خطے کے باسی اپنے ملک کے لیے جو قربانیاں دیتے ہیں، وہ نہ صرف تاریخ کا حصہ بنتی ہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ بھی ثابت ہوتی ہیں۔ ایسے ہی ایک بے آواز ہیرو، ظہور احمد کو حالیہ دنوں میں حکومتِ پنجاب کی جانب سے مالی امداد کی صورت میں خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔یہ واقعہ پاک بھارت جنگ کے دوران پیش آیا، جب شورکوٹ رفیقی ایئربیس پر دشمن کی جانب سے میزائل حملہ کیا گیا۔ اس حملے میں چک 692 گ ب کے رہائشی ظہور احمد شدید زخمی ہوئے۔ برسوں گزر گئے، لیکن ان کے زخم اور قربانی کی شدت آج بھی زندہ ہے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ حکومتِ پنجاب نے ان کی قربانی کو نظر انداز نہیں کیا اور بالآخر دس لاکھ روپے کی مالی امداد فراہم کی، جو کہ نہ صرف ایک وقتی سہارا ہے بلکہ ایک علامتی پہچان بھی ہے۔
پیر کے روز آرمی کے کرنل مدثر اور ٹوبہ ٹیک سنگھ کے ڈپٹی کمشنر محمد نعیم سندھو نے خود چک 692 گ ب جا کر ظہور احمد کو امدادی چیک دیا۔ اس موقع پر جو جذباتی مناظر دیکھنے میں آئے، وہ اس بات کا ثبوت تھے کہ ریاست اگر چاہے تو اپنے ہیروز کو پہچان سکتی ہے، ان کے زخموں پر مرہم رکھ سکتی ہے، اور ان کی خدمات کو سرکاری سطح پر تسلیم کر سکتی ہے۔یہ اقدام جہاں حکومت کی جانب سے ایک مثبت پیغام ہے، وہیں یہ باقی متاثرین اور قربانی دینے والوں کے لیے بھی امید کی کرن ہے۔ ہمیں یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ ایسی مالی امداد وقتی ریلیف سے زیادہ ایک مستقل پالیسی کا حصہ ہونی چاہیے تاکہ مستقبل میں کسی ظہور احمد کو برسوں انتظار نہ کرنا پڑے۔ظہور احمد جیسے محب وطن شہری ہمارے قومی سرمائے کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کی خدمات، ان کے دکھ، اور ان کی قربانیاں محض ایک چیک سے مکمل طور پر ادا نہیں ہو سکتیں، مگر یہ پہلا قدم ضرور ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اس پالیسی کو وسعت دے، اور ایسے تمام گمنام ہیروز کو سامنے لائے جنہوں نے وطن کی خاطر بہت کچھ گنوایا ہے، مگر کبھی شکایت زبان پر نہ لائے۔یہ وقت ہے کہ ہم بطور قوم اپنے ایسے فرزندوں کی خدمات کا اعتراف کریں، ان کی قربانیوں کو سراہیں، اور انہیں عزت، سہارا اور تحفظ فراہم کریں۔ ظہور احمد کو دی جانے والی مالی امداد ایک اچھی شروعات ہے—اسے تسلسل میں بدلنا ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔