ایک جرات مند آواز… چھ ہزار خاموش نفوس کا ترجمان
رانا شہباز احمدخان۔۔۔۔۔۔رانا شہباز احمد خان
تحریر متین قیصر ندیم احمد پور سیال
اپنی انا کی آخری زنجیر توڑ کر
دشمن نے بھی مدد کو پکارا تو میں گیا
ایک جگنو ہے کہ منزل کے حوالے مانگے
ایک تتلی ہے کہ جگنو سے اُجالے مانگے
ایک وہ حشر ہے جو دل میں بپا رہتا ہے
اور اک دل ہے، زباں پر بھی جو تالے مانگے
آئینہ پھیلا رہاہے خود فریبی کا مرض
ہرکسی سے کہہ رہا ہے أپ سا کوئی نہی
بڑے تپاک سے ملتا هے کچھ دنوں سے مجھے
وہ شخص مجھ کو کسی مسئلے میں لگتا ھے۔
حلقہ پی پی 130 کی ستر کلومیٹر طویل باونڈری پٹی… جہاں زندگی ہر دن ایک امتحان ہے۔ یہاں کے مکین، چھ ہزار سے زائد خاندان، برسوں سے کچی جھونپڑیوں، خستہ حال دیواروں اور غیر محفوظ چھتوں تلے زندگی کے لمحے گِن رہے ہیں۔ نہ سرکاری سرپرستی، نہ شہری شناخت، نہ قانونی تحفظ بس امیدوں کے سہارے چلتی ہوئی زندگیاں۔ا یسے میں جب حالات کی دھند میں سب کچھ معدوم دکھائی دے رہا ہو، تو ایک جرات مند آواز روشنی کا مینار بن کر ابھرتی ہےچیف وہپ پنجاب اسمبلی جناب رانا شہباز احمد خان کی صورت میں۔رانا صاحب نے پنجاب اسمبلی کے ایوان میں صرف تقریر نہیں کی، بلکہ ان ہزاروں مظلوم خاندانوں کی بے صدا چیخوں کو الفاظ دیے۔ وہ بات کی جو برسوں سے کوئی نہ کر سکا۔ انہوں نے نہایت مدلل، درد مندانہ اور باوقار انداز میں حکومتی ایوانوں کو جھنجھوڑا، اور ان مظلوموں کے حق میں ایسا مقدمہ پیش کیا جو تاریخ میں یاد رکھا جائے گا۔رانا شہباز احمدخان کا کردار صرف ایک سیاست دان کا نہیں، بلکہ ایک ہمدرد، درد شناس اور دور اندیش قائد کا ہے۔ ان کی سیاسی زندگی کی بنیاد عوام کی خدمت، رابطہ، سچائی اور میرٹ پر قائم ہے۔ انہوں نے ہمیشہ عوامی مسائل کو اپنا مسئلہ سمجھا، اور بے آواز طبقات کو زبان دی۔باونڈری پٹی کے مکینوں نے جب سنا کہ رانا صاحب نے اسمبلی میں ان کی بات کی، تو خوشی سے آنکھیں نم ہو گئیں۔ بزرگوں نے دعائیں دیں، خواتین نے اپنے گھروں کے آنگنوں سے شکریے کے پیغامات بھیجے، اور نوجوانوں نے سوشل میڈیا پر محبت و اعتماد کا اظہار کیا۔ ایک آواز نے ہزاروں دلوں میں امید کی شمع روشن کر دی۔اب جبکہ حکومت کی جانب سے اس مسئلے کے حل کے لیے باقاعدہ کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے، تو عوام کو یقین ہے کہ یہ صرف رسمی کاروائی نہیں، بلکہ عملی تبدیلی کا نقطہ آغاز ہو گا — اور اس کی بنیاد وہ آواز ہے جو رانا شہباز احمد خان نے اٹھائی۔یہ تحریر فقط ایک رپورٹ نہیں، بلکہ ایک لمحہ ہے — عوام اور قیادت کے درمیان اعتماد کے رشتے کی بحالی کا۔ یہ مثال ہے اس بات کی کہ اگر نمائندہ خالص نیت، سچے جذبے اور دلی وابستگی کے ساتھ اپنی ذمہ داری نبھائے، تو وہ نہ صرف نمائندہ رہتا ہے بلکہ عوام کا محسن اور تاریخ کا حصہ بن جاتا ہے۔”ایسی قیادت، جو عوام کے درد کو اپنی آواز بنائے، وہ صرف اقتدار نہیں جیتتی — وہ دلوں پر راج کرتی ہے۔” تعریف وہ جو دشمن بھی کرے اس وقت متعصبانہ اور بے حس رویوں کے دور میں رانا شہباز احمد ہی وہ نام ہے جو غریب پروری کرتا ہے امیر غریب کی خوشی و غمی میں بلا تفریق شمولیت کرتا ہے جس کو ملنا اور مسائل پر بات چیت کرنا اسان ہے ۔اس وقت مشکل سیاسی دور میں لیڈرانہ طرز عمل باقی سیاسیوں سے رانا شہباز کو امتیاز کرتا ہے۔
ضلع جھنگ اور تحصیل احمد پور سیال کی توانا آواز
قدموں میں کائنات بھی رکھ دی گئی مگر
ھم نے تمھاری یاد کا سودا نہیں کیا
پتہ نہیں کیاجادوہے سجدے میں
جتنا جھکتاہوں اتنا اوپر جاتا ہوں












