یادوں کے دریچے سے — 1992ء کی ایک یادگار تصویر
تحریر
محمد زاہد مجید انور
آج ہم تم میں کہاں، خاک میں پنہاں ہو کر۔۔۔
یہ شعر جب دل میں گونجتا ہے تو نگاہیں خودبخود ماضی کی کسی ایسی تصویر پر جا ٹھہرتی ہیں جہاں صرف چہرے ہی نہیں بلکہ ایک پوری تاریخ سموئی ہوتی ہے۔ آج میں آپ سے 1992ء کی ایک ایسی ہی یادگار تصویر کا ذکر کرنا چاہتا ہوں جو میرے دل کے نہاں خانوں میں ہمیشہ سے ایک مقدس امانت کی مانند محفوظ رہی ہے۔یہ تصویر تین عظیم شخصیات کی ہے، جو اب اس دنیا میں نہیں رہیں لیکن اپنی خدمات، کردار اور نیک سیرتی کے باعث آج بھی دلوں میں زندہ ہیں۔دائیں سے بائیں نظر ڈالیں تو سب سے پہلے میرے والد محترم حاجی عبدالمجید انور مرحوم نظر آتے ہیں۔ آپ ایک باوقار، باخبر اور محنتی شخصیت کے مالک تھے۔ صحافت کے شعبے میں طویل عرصہ خدمات انجام دیں، اور نمائندہ روزنامہ جنگ اور جیونیوز کی حیثیت سے ہمیشہ سچائی، دیانت داری اور قومی مفاد کو مقدم رکھا۔ آپ کی تحریریں ہمیشہ حقیقت پسندانہ اور بے لاگ ہوا کرتی تھیں۔ان کے ساتھ بیٹھے ہیں میاں عبدالوحید مرحوم، جو سابق رکن قومی اسمبلی (این اے 72، ٹوبہ ٹیک سنگھ) رہے۔ عوامی خدمات کا جذبہ، شرافت اور خلوص ان کی شخصیت کی پہچان تھی۔ آپ نے عوامی مسائل کے حل کے لیے جو جدوجہد کی، وہ آج بھی حلقے کے لوگوں کو یاد ہے۔ ان کا اندازِ سیاست، شرافت اور بردباری کی اعلیٰ مثال تھا۔تیسرے صاحب محمد عابد مرحوم ہیں، جو ڈسٹرکٹ انفارمیشن آفیسر ٹوبہ ٹیک سنگھ کے طور پر فرائض انجام دے رہے تھے۔ وہ نہایت منکسرالمزاج، علم دوست اور فرض شناس افسر تھے۔ محکمہ اطلاعات میں ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ ان کی گفتگو میں حلم، انداز میں وقار اور رویے میں عاجزی نمایاں تھی۔یہ تصویر صرف ایک لمحہ نہیں، ایک عہد کی عکاسی ہے — ایک ایسا عہد جس میں خلوص، دیانت اور خدمتِ خلق کا جذبہ نمایاں تھا۔اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ ان تینوں معزز مرحومین کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کی مغفرت فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔












