گوجرہ: روایات، ترقی اور تہذیب کا سنگم

تحریر ۔محمد زاہد مجید انور

پنجاب کی زرخیز دھرتی پر واقع، ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ کی ایک خوبصورت تحصیل “گوجرہ” ایک ایسا خطہ ہے جو نہ صرف زرعی اعتبار سے اہمیت رکھتا ہے، بلکہ تاریخی، ثقافتی اور تعلیمی میدان میں بھی اپنی الگ پہچان رکھتا ہے۔ فیصل آباد سے صرف 50 کلومیٹر اور لاہور سے 170 کلومیٹر کی مسافت پر واقع گوجرہ، پنجاب کے دل میں دھڑکتا ایک اہم شہر ہے، جو وقت کے ساتھ ساتھ نہ صرف آباد ہوا بلکہ ترقی کی نئی راہوں پر گامزن بھی رہا۔تاریخی جھلکیاں گوجرہ کا قیام 1896ء میں برطانوی دور میں عمل میں آیا، جب اسے لائل پور کالونی کے تجارتی مرکز کے طور پر متعارف کرایا گیا۔ اپنی زرخیزی، چراگاہوں اور مال مویشیوں کی وجہ سے یہ علاقہ نہایت اہم سمجھا جاتا تھا۔ لفظ “گوجرہ” بھی انہی چراگاہوں کی نسبت سے ماخوذ ہے — جہاں ہندی زبان میں “گاؤ” (گائے) اور “چرا” (چرنا) سے ماخوذ “گاؤ چرا” بتدریج “گوجرہ” بن گیا۔1898ء میں تعمیر ہونے والی کینال ریسٹ ہاؤس اس شہر کی قدیم ترین عمارت ہے، جب کہ 1904ء میں اسے نوٹیفائیڈ ایریا کمیٹی اور 1925ء میں بی کلاس بلدیہ کا درجہ ملا۔ 1947ء میں تقسیم ہند کے بعد یہاں سے ہندو اور سکھ برادری نے ہجرت کی اور ہندوستان سے آنے والے مسلمان مہاجرین نے اسے اپنا مسکن بنایا۔ 1982ء میں گوجرہ کو تحصیل کا درجہ ملا اور یہ ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ کا حصہ بن گیا۔جغرافیہ اور محل وقوع گوجرہ کا کل رقبہ 526 مربع کلومیٹر ہے، جس میں 175,484 ایکڑ زرعی زمین اور 34,897 ایکڑ غیر آباد رقبہ شامل ہے۔ یہاں کل 132 دیہات واقع ہیں۔ یہ شہر 31°9′N 72°41′E پر واقع ہے اور شمال مشرقی پنجاب کے اہم زرعی اور صنعتی مراکز میں شمار ہوتا ہے۔معاشی و زرعی پہلوگوجرہ ایک زرعی معیشت پر قائم خطہ ہے۔ دریائے چناب سے سیراب ہونے والی زمینوں پر گندم، گنا، کپاس، سبزیاں اور پھل کثرت سے اگائے جاتے ہیں۔ یہاں کا گڑ، گندم اور دیگر زرعی اجناس ماضی میں نہ صرف پورے ہندوستان بلکہ ایشیا کی بڑی منڈیوں تک مشہور تھے۔ آج بھی گوجرہ چینی، آٹا اور تیل بنانے والی ملوں، انجینئرنگ ورکشاپس اور ٹیکسٹائل کی صنعت کے حوالے سے شہرت رکھتا ہے۔ کپڑے کی مقامی ملز بین الاقوامی مارکیٹس کو مصنوعات برآمد کرتی ہیں۔تعلیم و صحت تعلیم کے میدان میں اسلامیہ ہائی اسکول اور ایم سی ہائی اسکول جیسے ادارے برسوں سے علم کی شمع روشن کیے ہوئے ہیں۔ طبی سہولیات کے لیے ڈاکٹر رحمت اللہ جنرل ہسپتال، گورنمنٹ آئی کم ہسپتال، البرکت ٹرسٹ ہسپتال اور اینٹی ٹی بی فری ہسپتال نمایاں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ثقافت، زبان اور لباس گوجرہ کی ثقافت خالصتاً پنجابی ہے، جہاں پنجابی زبان عمومی طور پر مادری زبان کے طور پر بولی جاتی ہے، جب کہ اردو بھی سرکاری و تعلیمی زبان کے طور پر رائج ہے۔ یہاں کے لوگ عموماً قمیض شلوار زیب تن کرتے ہیں، مرد حضرات روایتی چادر یا رومال کندھے پر رکھتے ہیں، اور خواتین چادر یا عبایا استعمال کرتی ہیں۔رسم و رواج اور سماجی ہم آہنگی گوجرہ کی مختلف برادریاں — راجپوت، گجر، وڑائچ، چیمہ، اعوان اور دیگر — اپنے اپنے روایتی رسم و رواج کی حامل ہیں۔ شادی بیاہ، خوشی و غمی کی تقریبات میں اگرچہ تھوڑا بہت فرق پایا جاتا ہے، تاہم ایک گہری سماجی ہم آہنگی اور یکسانیت موجود ہے۔ میل جول، مہمان نوازی، اور مذہبی روایات کو یہاں کے لوگ اپنی روح کی گہرائیوں سے نبھاتے ہیں۔رہن سہن اور مزاج گوجرہ کے لوگ سادہ مزاج، جفاکش اور بردبار ہیں۔ زراعت سے وابستگی نے ان میں محنت، صبر اور خلوص جیسے اوصاف کو راسخ کر دیا ہے۔ ان کا طرزِ زندگی اسلامی اور مشرقی اقدار پر مبنی ہے۔ شائستگی، ہنس مکھ طبیعت اور دوسروں کا احترام گوجرہ کے باشندوں کی نمایاں خصوصیات ہیں۔کھیل اور نوجوان نسل گوجرہ کو “ہاکی کا شہر” کہا جاتا ہے، کیونکہ یہاں سے درجنوں قومی و بین الاقوامی ہاکی کھلاڑی نکلے جنہوں نے پاکستان کا نام روشن کیا۔ ہاکی کے علاوہ کبڈی، فٹبال، والی بال اور کرکٹ بھی یہاں مقبول عام ہیں۔ نوجوانوں میں کھیلوں کا جنون اور جذبہ دیدنی ہے۔مذہبی ہم آہنگی گوجرہ کی اکثریتی آبادی دین اسلام سے تعلق رکھتی ہے، جبکہ 5 فیصد کے قریب مسیحی آبادی بھی موجود ہے۔ دونوں مذاہب کے لوگ امن و بھائی چارے کے ساتھ زندگی بسر کرتے ہیں۔تحصیل گوجرہ، تاریخ، ثقافت، معیشت اور انسانیت کا حسین امتزاج ہے۔ یہاں کی زمین زرخیز ہے، لوگ محنتی، تعلیم دوست، اور روایت پسند ہیں۔ اگر ترقی کا یہ سفر برقرار رہا، تو وہ دن دور نہیں جب گوجرہ پنجاب ہی نہیں، پورے پاکستان کے ترقی یافتہ شہروں کی صف میں شامل ہو جائے گا۔ثقافتی سوغاتیں اور مقامی ذائقےگوجرہ کی مشہور سوغات میں “مند برفی” کا نام سرفہرست ہے، جسے نہ صرف مقامی بلکہ دور دراز کے لوگ بھی پسند کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ ریلوے اسٹیشن کے قریب واقع “شکور جٹ” کی برفی اور “مولوی کے پکوڑے” بھی عوامی پسندیدہ اشیاء میں شامل ہیں۔روحانیت کا پہلوتحصیل گوجرہ کے گاؤں 342 ج۔ب میں معروف روحانی ہستیوں، حضرت پیر سید محمد حسین شاہ گیلانی اور پیر سید دلشاد حسین شاہ گیلانی کے مزارات واقع ہیں، جو عقیدت مندوں کی توجہ کا مرکز ہیں۔گوجرہ کی سیاسی قیادت اور ترقیاتی سفرگوجرہ کی سیاست میں کئی اہم شخصیات نے نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ مرحوم مسٹر حمزہ سابق رکن قومی اسمبلی، مسٹر خالد جاوید وڑائچ سابق ایم این اے اور ان کی اہلیہ محترمہ فوزیہ خالد وڑائچ ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ کی پہلی خاتون چیئرپرسن ضلع کونسل رہ چکی ہیں۔ ان کے صاحبزادے عقلہ وڑائچ نوجوان قیادت کے طور پر ابھر رہے ہیں۔اسی طرح، امجد وڑائچ، پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے رکن صوبائی اسمبلی اسد زمان چیمہ، سابق ایم پی اے بلال اضعر وڑائچ، قدیر اعوان، چوہدری احسان گجر اور موجودہ رکن صوبائی اسمبلی چوہدری احسن احسان بھی اہم سیاسی کردار ادا کر چکے ہیں گوجرہ کی سیاست میں وڑائچ گروپ کو خاص مقام حاصل ہے جنہوں نے تحصیل میں ریکارڈ ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل میں کلیدی کردار ادا کیا۔ یہ گروپ نہ صرف مقامی سطح پر بلکہ ضلع اور صوبائی سطح پر بھی اثر و رسوخ رکھتا ہے