عید الاضحیٰ پر صفائی ورکرز کی شاندار کارکردگی
… ایک روشن مثال
تحریر: (محمد زاہد مجید انور
*عید الاضحیٰ جہاں قربانی کا درس دیتی ہے، وہیں صفائی، نظم و ضبط اور شہری ذمہ داری کا بھی تقاضا کرتی ہے۔ ہر سال اس موقع پر پنجاب بھر میں لاکھوں جانور قربان کیے جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں صفائی کے انتظامات ایک بہت بڑا چیلنج بن جاتے ہیں۔ اس پس منظر میں اگر کسی نے اس سال واقعی قابلِ ستائش کارکردگی دکھائی ہے،* *تو وہ ہیں پنجاب کی ضلعی انتظامیہ اور صفائی کے وہ محنتی ورکرز جنہوں نے “ستھرا پنجاب” کے خواب کو عملی شکل دی۔ڈپٹی کمشنر محمد نعیم سندھو نے عید الاضحیٰ کے موقع پر ضلعی انتظامیہ اور صفائی عملے کی شاندار کارکردگی پر انہیں دلی شاباش دی۔ اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ انتظامیہ اور ورکرز نے عید کے تینوں دنوں میں انتہائی متحرک انداز میں فرائض سرانجام دیے۔* *ان کی دیانت داری، فرض شناسی اور جذبہ خدمت نے پنجاب بھر میں صفائی کے ایک نئے معیار کو جنم دیا۔ڈپٹی کمشنر محمد نعیم سندھو نے بتایا کہ ضلعی سطح پر ایک مربوط حکمت عملی کے تحت صفائی کا عمل نہ صرف بروقت مکمل کیا گیا بلکہ شہریوں کو بدبو، تعفن یا کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ آلائشیں وقت پر اٹھائی گئیں، گلیوں اور محلوں کی صفائی کی گئی اور سڑکوں کو فنائل اور عرقِ گلاب سے دھویا گیا، جو ایک خوشگوار ماحول کا باعث بنا*۔انہوں نے صفائی ورکرز کی* انتھک محنت کو خراج تحسین* پیش کرتے ہوئے کہا:”یہ صرف ایک صفائی مہم نہیں تھی،* بلکہ یہ خدمت، ایثار اور فرض شناسی کی ایک روشن مثال تھی۔ بہت شاباش!”*
ڈپٹی کمشنر نعیم سندھو نے مزید کہا کہ یہ کوششیں صرف عید تک محدود نہیں رہیں گی بلکہ پنجاب کو ہمیشہ کے لیے صاف، ستھرا اور خوبصورت بنانے کا مشن جاری رہے گا۔ ان کا عزم ہے کہ “ستھرا پنجاب” محض ایک نعرہ نہیں، بلکہ ایک عملی منصوبہ ہے جس کے لیے تمام ادارے اور افراد اپنی تمام تر صلاحیتوں کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔یہ بات باعثِ اطمینان ہے کہ صوبائی قیادت، خصوصاً محترمہ مریم نواز بھی اس مشن کو انتہائی سنجیدگی سے لے رہی ہیں۔ ان کی قیادت میں پنجاب میں صفائی، ترقی اور شہری سہولتوں کے شعبے میں نمایاں بہتری آ رہی ہے۔آخر میں ہم سب کی بھی یہ قومی و شہری ذمہ داری بنتی ہے کہ نہ صرف صفائی کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کریں بلکہ خود بھی صفائی کا خیال رکھیں۔ یاد رکھیں*،”صفائی نصف ایمان ہے”* اور یہ نصف ایمان صرف حکومت پر نہیں، ہم سب پر فرض ہے*












