پیرمحل: خوابوں کی تعبیر، ترقی کی تصویر
تحریر: محمد زاہد مجید انور
پیرمحل، جو کبھی ایک چھوٹا سا قصبہ ہوا کرتا تھا، آج ترقی، تہذیب اور تعلیم کا ایک روشن استعارہ بن چکا ہے۔ برسوں کی کوشش، عوامی جدوجہد، اور سیاسی نمائندوں کی سنجیدہ کوششوں کا ثمر بالآخر 15 نومبر 2012ء کو سامنے آیا جب اُس وقت کے وزیر اعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف نے پیرمحل کے عوامی جلسے میں اِسے باقاعدہ تحصیل کا درجہ دینے کا اعلان کیا۔ یہ وہ لمحہ تھا جس کا علاقہ کے عوام برسوں سے انتظار کر رہے تھے۔یہ کامیابی صرف ایک سیاسی اعلان نہیں تھی بلکہ اس کے پیچھے چوہدری اسدالرحمن ایم این اے اور چوہدری مصطفیٰ رمدے ایڈووکیٹ جیسے محب وطن قائدین کی شبانہ روز کاوشیں تھیں۔ ان کی کوششوں سے 23 جنوری 2013ء کو بورڈ آف ریونیو لاہور نے تحصیل پیرمحل کا نوٹیفکیشن جاری کیا اور یکم فروری 2013ء کو کمشنر فیصل آباد سید طاہر حسین شاہ اور آرپی او آفتاب چیمہ نے اس کا باقاعدہ افتتاح کیا۔ اُس دن پورے شہر میں جشن کا سماں تھا، گویا پیرمحل نے ایک نئی پہچان پائی۔یادیں ماضی کی، گواہی ترقی کی۔۔۔۔۔۔۔وہ دن بھی یادگار تھے جب لوگ غلہ منڈی کے وسط میں کنوئیں سے پانی بھرا کرتے اور صدر بازار کے آخر میں موجود مقام (جہاں آج ٹینکی بنی ہے) سے گھڑے بھر کر لایا کرتے تھے۔ بوہڑ کا درخت، جو آج بھی موجود ہے، لوگوں کے آرام کا مرکز تھا، جہاں بزرگ بیٹھک لگایا کرتے اور بچے جنگ پلنگا جیسے مقامی کھیلوں میں مصروف رہتے۔ وقت کے ساتھ ساتھ ٹاﺅن کمیٹی نے ہر محلے میں ٹونٹیاں لگوائیں اور یوں پانی کا نظام بہتر ہوا۔تعلیم، شعور اور بیرونِ ملک روابط۔۔۔۔۔۔۔پیرمحل کا شمار ان علاقوں میں ہوتا ہے جہاں تعلیم یافتہ طبقہ کی خاصی اکثریت ہے۔ یہاں کے ہزاروں افراد یورپ، برطانیہ، کینیڈا، ناروے، فرانس، جرمنی اور عرب ممالک میں مقیم ہیں اور زرِ مبادلہ بھیج کر نہ صرف اپنی فیملیز بلکہ ملکی معیشت میں بھی اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ اس کا براہِ راست اثر یہاں کے معیارِ زندگی پر پڑا ہے — گلیاں کشادہ، سڑکیں ہموار اور پراپرٹی کی قیمت دیگر شہروں سے بلند۔ذرائع آمد و رفت اور جدید سہولیات۔۔۔۔۔۔۔پیرمحل سے روزانہ تین ٹرینیں لاہور براستہ شورکوٹ، کمالیہ، ماموں کانجن، شیخوپورہ جاتی ہیں۔ اسی طرح ہر بڑے شہر کے لیے اے سی کوچز اور ہائی ایس سروس دستیاب ہے۔ 1955ء میں یہاں صرف 50 ٹیلی فون کنکشن تھے، مگر آج جدید ڈیجیٹل سسٹم کے تحت 4000 سے زائد کنکشنز چل رہے ہیں۔ اس کے علاوہ تمام بڑی موبائل کمپنیز یہاں کام کر رہی ہیں۔آبادی، زراعت اور صنعت۔۔۔۔۔۔۔پیرمحل کی شہری آبادی 44,219 اور مجموعی تحصیل آبادی 422,331 ہے۔ یہاں کی زمین زرعی لحاظ سے زرخیز ہے؛ گندم، کماد، دھان، کپاس اور چارہ یہاں کی نمایاں فصلیں ہیں۔ چپل سازی پیرمحل کی پہچان ہے، جس کی بنیاد مرحوم معراج دین بلوچ نے رکھی۔ آج ہزاروں افراد اس صنعت سے وابستہ ہیں اور یہاں کی مردانہ و زنانہ چپلیں اپنی پائیداری اور نفاست کی بنا پر ملک بھر میں مقبول ہیں۔ادارے اور سہولیات۔۔۔۔۔شہر میں 2 پوسٹ آفس، متعدد بینک، سرکاری و نجی اسکول، گرلز ڈگری کالج، کمپیوٹر کالجز، لائبریریز، فلور ملز، رائس ملز، آئل ملز، پائپ اور آئس فیکٹریز موجود ہیں۔ صحت کے میدان میں رورل ہیلتھ سنٹر کے ساتھ ساتھ کئی پرائیویٹ ہسپتال اور ایمبولینس سروسز بھی فعال ہیں۔ سوشل ویلفیئر تنظیمیں عوامی فلاح میں پیش پیش ہیں۔قوموں کی تعمیر شعور سے۔۔۔پیرمحل کی ترقی صرف عمارات، سڑکوں یا صنعتوں میں نہیں چھپی، بلکہ یہ اُس شعور، محنت، اور اجتماعی کوشش کی عکاسی ہے جو یہاں کے باسیوں نے دہائیوں میں پروان چڑھائی۔ چاہے تعلیم ہو، تجارت ہو، یا تہذیب — پیرمحل نے ثابت کر دیا کہ خواب اگر مشترکہ ہوں اور جدوجہد مسلسل ہو، تو کامیابی مقدر بن جاتی ہے۔










