ایک باوقار شخصیت کی یاد میں
طارق مغل ایڈووکیٹ کے والد محترم

تحریر. محمد زاہد مجید انور

وقت گزرتا چلا جاتا ہے، لیکن کچھ ہستیاں ایسی ہوتی ہیں جو بچھڑ کر بھی دلوں میں زندہ رہتی ہیں۔ ایسی ہی ایک باوقار، بااخلاق اور باکمال شخصیت تھے طارق مغل ایڈووکیٹ کے والد محترم ابراہیم مغل مرحوم، جنہیں ہم سے بچھڑے ہوئے آج دس برس بیت چکے ہیں، مگر ان کی محبت، تربیت اور یادیں آج بھی دلوں کو گرماتی ہیں۔یہ وہ شخصیت تھیں جن کی موجودگی ایک خاندان کے لیے سائبان کی مانند تھی۔ آپ نہ صرف اپنے خاندان کے لیے ایک مضبوط سہارا تھے بلکہ اپنے خلوص، سادگی، اور دیانتداری کے باعث محلہ بھر کے لوگوں میں بھی یکساں احترام کے حامل تھے۔آپ کی زندگی عاجزی، وقار اور ایمان داری کا نمونہ تھی۔ سفید لباس، سر پر عمامہ، چہرے پر متانت اور آنکھوں میں شفقت… آپ کی شخصیت میں ایک ایسی روحانی کشش تھی جو ہر ملنے والے کو متاثر کرتی تھی۔طارق مغل ایڈووکیٹ، جو آج معروف سینئر قانون دان کی حیثیت رکھتے ہیں، اپنی کامیابی کا سہرا اپنے والد کی تربیت، دعاؤں اور اخلاقی تعلیمات کو دیتے ہیں۔ والد محترم نے اپنی اولاد کو ہمیشہ سچائی، انصاف، حق گوئی اور انسانیت کی خدمت کا درس دیا، اور یہی تعلیمات آج بھی ان کے بیٹے کی شخصیت میں جھلکتی ہیں۔ان کی وفات کے بعد یہ خلا محسوس کیا جاتا رہا، جو کبھی پُر نہیں ہو سکا۔ ان کے جانے سے نہ صرف ایک گھر کا چراغ بجھا، بلکہ وہ روشن مثال بھی ہم سے رخصت ہوئی جو ہر دکھ سکھ میں رہنمائی کرتی تھی۔ہم اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہیں کہ:> اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے، ان کی قبر کو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنا دے، ان کے درجات بلند فرمائے اور ان کے اہلِ خانہ کو صبر جمیل عطا کرے۔ آمین۔
ایسی شخصیات صدیوں میں پیدا ہوتی ہیں اور ان کی کمی ہمیشہ محسوس کی جاتی ہے۔ ان کی یاد ہمارے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہے گی۔