سخاوت کا بے تاج بادشاہ

تحریر۔ بلال احمد معاویہ اعوان
۔

دنیاء سخاوت میں تیرا نام رہے گا
عثمان تیرے نام سے اسلام رہے گا
18 ذوالحجہ وہ المناک دن ہے کہ جب مدینتہ الرسول میں اک خلیفہ راشد کو ان کے گھر ہی میں شہید کر دیا گیا اور یوں اک عظیم انسان شہادت کے اعلی منصب پہ فائز ہوئے
صحابہ کرام کی جماعت اطہار کی زندگی کا جب بھی مطالعہ کیا جاتا ہے۔ جب ان نفوس قدسیہ کے حالات واقعات کو پڑھا تو معلوم ہوا کہ اس جماعت مقدسہ کے ہر فرد کی ہر اک ادا درخشندہ ستارے کی مانند اور آفتاب کے کرنیں بکھیر رہی ہوں جو ایمانی غیرت و جذبے کو جلا بخشتی ہیں اور دل بے ساختہ یہ کہنے پہ مجبور ہو جاتا ہے کہ
“واقعی یہ لوگ ایسے تھے کہ جنکی اتباع کی جائے”
اور یہ ستارے کہ جن سے جہان دنیا فیض حاصل کر رہی ہے اور انکا مقدس و مطہر نام عزت و احترام اور تکریم سے لیا جاتا ہے انہی نفوس قدسیہ میں اس جماعت اطہار میں عظیم نام داماد رسول صلی اللہ علیہ وسلم ناشر قرآن ہم زلف علی شہید مدینہ مظلوم مدینہ شہید قرآن خاندان بنو امیہ کے چشم وچراغ جناب سیدنا
عثمان بن عفان غنی ذوالنورین رضی اللہ عنہ
کا بھی ہے کہ اسلام کے گلشن کی آبیاری میں اور اس کو اک خوبصورت چمن کی صورت میں بدلنے میں آپ رضی اللہ عنہ کا نام آب زر سے لکھنے کے قابل ہے انکی خدمات ناقابل فراموش اور ناقابل بیان ہیں۔
اگر انکی خدمات، عزت، عظمت، شان، مقام ،مرتبہ،رفعت،بلندی،پاکیزگی اور اعلاء کلمتہ اللہ کے لیے انکی کوشش و سعی کو بیان کرنے لگیں تو شائد یہ کئی ضخیم کتب کی محتاج ہوگی اور اسے ضبط تحریر میں لانا ھم جیسے کم علم لوگوں کے لیے کہ نہایت مشکل کام ہے لیکن اس عظیم انسان جوکہ اس امت کا اک عظیم محسن ہے جب ان پہ ظلم وستم کی داستان پڑھنے اور سننے کو ملتی ہیں تو دل مجبوراً خون کے آنسو روتا ہے ظلم کی کئی داستانیں رقم ہوئیں،اس عظیم انسان پہ ظلم وستم کے پہاڑ توڑے گئے،انہیں لکھتے ہوئے بھی ہاتھ لرزتے ہیں لیکن آج بحثیت مسلمان ہم نے آپ کی خدمات اور فضائل و مناقب کو فرمواش کر چکے ہیں اس مختصر تحریر میں اہم نکات کو ضبط تحریر کیا جائے گا
سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ عام الفیل کے چھ برس بعد پیدا ہوئے آپ رضی اللہ عنہ کا سلسلہ نسب پانچویں پشت پر جا کر خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم سے جا ملتا ہے۔
آپ رضی اللہ عنہ نے چوتھے نمبر پہ اسلام قبول کیا۔قبول اسلام کے بعد آپ کو پابند سلاسل کیا گیا اور دین حق چھوڑنے پہ مجبور کیا گیا لیکن آپ جبل استقامت بن کر حالات کا مقابلہ کیا۔آپ رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قریبی رشتہ دار بھی تھے۔
حکم خداوندی کی تعمیل میں یکے بعد دیگرے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دو صاحبزادیوں کا نکاح سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے کیا۔آپ رضی اللہ عنہ نے حبشہ اور مدینہ کی دو ہجرتیں کیں جس کی وجہ سے آپ کو ذوالہجرتین کا لقب ملا۔آپ کا مشہور لقب ذوالنورین بھی ہے۔
بیعت رضوان میں آپ کی وجہ سے چودہ سو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو جنت کا سرٹیفیکیٹ ملا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ کو آپ رضی اللہ عنہ کا ہاتھ قرار دیا۔حضور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ نے آپ کو جنت میں اپنا رفیق قرار دیا۔
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
“اے عثمان! اللہ تجھے خلافت کی قمیض پہنائے گا۔جب منافق اسے اتارنے کی کوشش کریں تو مت اتارنا۔یہاں تک کہ تم مجھ سے آ ملو۔”
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے
“حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے دو مرتبہ جنت خریدی۔اک مرتبہ بیر رومہ خرید کر۔دوسری مرتبہ غزوہ تبوک میں ایک ہزار اونٹ دے کر۔
حضرت سعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ
“میں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا اول شب سے طلوع آفتاب تک عثمان رضی اللہ عنہ کے لیے دعا کرتے رہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے،”اے اللہ! میں عثمان سے راضی ہوں تو بھی راضی ہو جا۔”
ابن عساکر میں ہے جب آپ رضی اللہ عنہ محصور تھے تو آپ نے بلوائیوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:۔
“میرے دس خصائل میرا رب ہی جانتا ہے لیکن آج تم ان کا بھی لحاظ نہیں کرتے۔
*میں اسلام لانے میں چوتھا ہوں۔
*رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی صاحبزادی میرے نکاح میں دی۔
*جب پہلی صاحبزادی فوت ہوگئی تو دوسری نکاح میں دے دی۔
*میں نے پوری زندگی کبھی گانا نہیں سنا۔
*میں نے کبھی برائی کی خواہش نہیں کی۔
*جس ہاتھ سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی اسے نجاست سے دور رکھا۔حتی کہ میں نے کبھی غسل خانے میں ننگے بدن غسل نہیں کیا۔
*جب سے اسلام لایا کوئی جمعہ ایسا نہیں گزرا جس میں ایک غلام آزاد نہ کیا ہو،اگر کسی جمعہ کو میرے پاس غلام نہ ہو تو اس کی قضا ادا کی۔
*عہد جاہلیت اور عہد اسلام میں کبھی زنا نہیں کیا۔
*کبھی چوری نہیں کی۔
*میں عہد رسالت میں تمام قرآن مجید حفظ کیا۔”
آپ رضی اللہ عنہ سفید رنگ،خوبصورت اور وجاہت،خوش قامت ہونے کے ساتھ ساتھ اعلی سیرت و کردار کے مالک انسان تھے۔
آپ رضی اللہ عنہ کو سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے والہانہ عشق و محبت تھا اپنے محبوب کی ادا کو اپنا وظیفہ حیات بنا لیا۔
ایک مرتبہ آپ وضو کے بعد آپ مسکرائے تو لوگوں نے وجہ پوچھی تو آپ نے فرمایا:۔
میں نے ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کے بعد اسی طرح مسکراتے دیکھا۔”
آپ کے عہد خلافت میں مسلم سلطنت کی سرحدیں کابل سے مراکش تک جا پہنچی۔آپ رضی اللہ عنہ کے بارہ سالہ دوبارہ خلافت میں مزید بائیس لاکھ مربع میل کا اضافہ ہوا۔
خلافت پر براجمان ہونے کے بعد آپ اپنی تجارتی سرگرمیوں کو جاری نہ سکے جس سے آپ کی تجارت متاثر ہوئی جو آپ کی آمدن پر بھی اثر انداز ہوئی۔آمدن کم ہونے کے باوجود بھی سخاوت کا یہ بحر بے کراں اپنی آب و تاب،جوش اور شباب سے رواں دواں رہا۔
منصب خلافت سے قبل آپ اونٹوں اور بکریوں کے سب سے زیادہ مالک تھے لیکن خلافت کی ذمہ داریوں کے بعد دو اونٹوں اور ایک بکری کے سوا کچھ نہ بچا۔
آپ رضی اللہ عنہ کا زمانہ خلافت عدل و انصاف،اخوت و مساوات اور غریب پروری کا عملی نمونہ تھا۔جو آج کے سرمایہ دار حکمران طبقہ کے لیے اک درخشندہ مثال ہے۔آپ رضی اللہ عنہ نے عوام پر بے جا ٹیکسوں پر سختی سے ممانعت کی۔آپ رضی اللہ عنہ کے دور میں ہی امیر شام سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضوان اللہ علیہم اجمعین نے بحری بیڑہ تیار کیا اور اسلامی لشکر کو بحر اوقیانوس میں اتار دیا۔جس سے پاپائے روم پہ اوسان خطا ہوگئے۔فرانس سمیت کئی یورپی ممالک میں آپ کے زمانہ خلافت میں دین حق کا جھنڈا لہرایا۔
ایشائی اور افریقی ممالک سمیت ہندوستانی علاقوں، سندھ،مکران،طبرستان سمیت کئی علاقوں تک دین محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کی کرنیں بکھرنے لگیں۔
بالآخر جب دشمن آپ رضی اللہ عنہ کے سامنے ہیچ ہوگیا تو اس نے سازشیں شروع کردیں۔یہودیوں نے ایسا مجموعہ تیار کیا جو آپ رضی اللہ عنہ پہ اقربا پروری کے بے ہودہ اور قبیح الزامات لگانے لگا۔دوسری جانب مصر میں منافقین نے بھی اپنا اصلی رنگ دکھانے شروع کر دیے۔ساڑھے سات سو بلوائی بغاوت کے لیے اس وقت مدینہ پہنچے جب حج کا موسم تھا اور مدینۃ الرسول میں چند لوگ رہ گئے تھے۔ایسے وقت میں وہ امیر المومنین کو معزول کروا کر اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنا چاہتے تھے۔لیکن آپ رضی اللہ عنہ حکم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وجہ سے صبر و تحمل کا پہاڑ بنے رہے۔
35 ہجری ذی القعدہ میں آپ رضی اللہ عنہ کے گھر کا محاصرہ کیا گیا جو چالیس دن جاری رہا۔آپ رضی اللہ عنہ پہ کھانا پینا بند کردیا گیا حتیٰ کہ وہ کنواں جسے خود خرید کر وقف تھا اس کے پانی سے بھی چالیس روز آپ کو محروم رکھا گیا۔یوں 18 ذی الحجہ بحالت تلاوت قرآن پاک داماد رسول صلی اللہ علیہ وسلم،ناشر قرآن،ہم زلف علی رضی اللہ عنہ، کو شہید کر دیا گیا، آپ کا گرم خون قرآن مجید کے ان مقدس الفاظ پر پڑا
فسیکفیکھم اللہ
یوں یہ اسلام کا عظیم سپوت اور اک درخشندہ ستارہ 82 سال اپنی کرنوں سے عالم کو منور کرنے کے بعد ہمشیہ کے لیے غروب ہوگیا۔(انا للہ وانا الیہ راجعون)
آج ضرورت اس امر کی ہے آپ رضی اللہ عنہ کی سیرت و کردار کو اپنایا جائے مزید یہ کہ مدح صحابہ و منقبت صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کو ہر جگہ پہ بیان کیا جائے،دنیا کو حقیقت سے روشناس کروایا جائے اور عوام بھی کو چاہیے ایسے لوگوں سے اپنے قیمتی ایمان کو بچائیں جو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی جماعت اطہار پہ سب وشتم کرکے انکو تنقید کا نشانہ بنائے
تمام صحابہ معیار حق اور ہدایت کے ستارے ہیں انکی اتباع اور دفاع ہی میں نجات ہے
نہ جلے دیپ جب تک شہیدوں کے لہو سے
سنا ہے جنت میں چراغاں نہیں ہوتا
#بلال_احمد_معاویہ_اعوان
#اذان_حق