آئس(شیشہ)
تحریر مظہر حسین باٹی
خانیوال،کبیروالا سمیت نواحی علاقوں جودھ پور،بارہ میل و دیگر علاقوں میں آج کل ایسے فروخت ہوتا ہے جیسے آلو پیاز،ٹماٹر اور گولی ٹافی،آئس ایک ایسا نشہ ہے جس کے پہلی بار استعمال سے انسان کے اندر خوشی کے ہارمونز انتہائی ایکٹیو ھو جاتے ہیں۔جس سے انسان انتہائی خوشی محسوس کرتا ہے۔
آئس کا نشہ 36 سے 72 گھنٹے تک ہوتا ہے۔
اور وہ انسان 72 گھنٹوں تک جاگتا رہتا ہے۔
پہلی دفعہ انسان کو آئس استعمال کرنے سے جو لذت اور خوشی محسوس ہوتی ھے وہ آہستہ آہستہ کم ہو جاتی ہے۔
اور اس کے ساتھ انسان آئس کی ڈوز پے ڈوز بڑھاتا جاتا ہے تاکہ وہ پہلے والی خوشی محسوس کر سکے۔
کسی بھی نشے سے انسان کے اندر رشتے کی تمیز نہیں رہتی مگر آٸس ایک خطرناک چیز ھے جو وقت کے ساتھ ساتھ انسان کی ہڈیوں کو پکڑ لیتی ہے۔
آئس استعمال کرنے والے انسان پر بھروسہ کرنا بیوقوفی ہے۔
آئس استعمال کرنے والے انسان کے ہاتھوں سے کسی بھی وقت کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آسکتا ہے جب وہ نشے کی حالت میں ہو۔آئس کے استعمال سے نوجوان نسل تباہ و برباد ہو کر رہ گئی ہے جہاں نوجوان اپنی زندگی سے ہاتھ دھو رہے ہیں وہیں اس نشہ کی وجہ سے والدین اور رشتے داروں کی تمیز بھی ختم ہوتی جا رہی ہے۔
پوسٹ لگانے کا مقصد یہ ہے کہ نوجوان نسل اس سے دور رہیں اپنے اور اپنے پیاروں کے خاطر اب ھم سب کا فرض بنتا ھے کہ اس ناسور کے خلاف آواز اٹھائیں.مقامی انتظامیہ کو چاہیے کہ اس لعنتی نشے کے خلاف کریک ڈاٶن کریں آئس کا استعمال کرنے والے،فروخت کرنے والے اور سرپرستوں کے خلاف بھی قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے۔









