باپ سراں دے – یادِ والد محترم عبدالمجید انور مرحوم

تحریر محمد زاہد مجید انور

باپ… ایک ایسا رشتہ جو زندگی کا پہلا سائبان ہوتا ہے۔ ایک سایہ، جو تپتی دھوپ میں ٹھنڈک بن کر ساتھ چلتا ہے۔ آج فادرز ڈے کے موقع پر ہم اپنے والد محترم عبدالمجید انور مرحوم کو نہایت عقیدت، محبت اور دعاؤں کے ساتھ یاد کرتے ہیں۔عبدالمجید انور مرحوم نہ صرف ہمارے خاندان کے ستون تھے بلکہ بطور نمائندہ روزنامہ جنگ و جیو نیوز، انہوں نے صحافت کے میدان میں دیانتداری، اصول پسندی اور سچائی کا علم بلند رکھا۔ وہ ایک سچے صحافی، ایک نڈر انسان اور سب سے بڑھ کر ایک عظیم باپ تھے۔ ان کی شخصیت میں شفقت بھی تھی اور سختی بھی – لیکن وہ سختی ہمیشہ اصلاح کی نیت سے ہوتی تھی۔ان کی زندگی ایک سبق تھی: اپنے قلم سے حق بات لکھو، کسی طاقتور سے نہ ڈرو، اور کمزور کے ساتھ کھڑے رہو۔ ہمیں آج بھی ان کی تربیت، ان کی دعائیں، ان کی باتیں اور ان کا ہر قدم یاد ہے۔ انہوں نے اپنی اولاد کو صرف زندگی ہی نہیں دی، جینے کا سلیقہ بھی سکھایا۔فادرز ڈے پر جب دنیا اپنے باپ کو گلے لگاتی ہے، ہم اپنے والد محترم کو دل کی گہرائیوں سے یاد کرتے ہیں۔ ان کی کمی کبھی پوری نہیں ہو سکتی، لیکن ان کی یاد اور دعائیں ہمیشہ ہمارے ساتھ ہیں۔ ان کا ہر لفظ، ہر عمل آج بھی ہماری رہنمائی کرتا ہے۔ہم اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہیں کہ وہ ہمارے والد محترم عبدالمجید انور مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، ان کی قبر کو نور سے بھر دے اور ہمیں ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین۔

باپ سراں دے – اور ہمارے ابّا واقعی تاجدار تھے۔