ہمارے پیارے رسول حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر لاکھوں کروڑوں درود و سلام
تحریر: محمد زاہد مجید انور
اللہ رب العزت کا ہم پر سب سے بڑا انعام یہ ہے کہ اُس نے ہمیں اُمّتِ محمدیہ ﷺ میں پیدا فرمایا۔ ہم جس ہستی کا کلمہ پڑھتے ہیں، جن کے نقشِ قدم پر چلنے کو باعثِ نجات سمجھتے ہیں، وہ ہستی کسی ایک زمانے یا ایک قوم کے لیے نہیں، بلکہ تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجی گئی۔ حضرت محمّد مصطفیٰ ﷺ کی زندگی ہمارے لیے کامل نمونہ ہے — جسے قرآن نے “اسوہ حسنہ” قرار دیا۔جب ہم اپنے پیارے نبی ﷺ کی سیرتِ طیبہ پر نظر ڈالتے ہیں، تو ہمیں ہر پہلو سے رہنمائی ملتی ہے۔ چاہے معاملہ عبادات کا ہو یا معاملات کا، اخلاقیات کا ہو یا معاشرتی انصاف کا، ہمارے نبی کریم ﷺ نے ہر میدان میں اعلیٰ ترین مثالیں قائم کیں۔آپ ﷺ کی زبان مبارک سے کبھی جھوٹ نہ نکلا، نہ کبھی کسی پر ظلم کیا، نہ کسی کا دل دکھایا۔ آپ یتیموں کے ہمدرد، غریبوں کے سہارا، عورتوں کے محافظ، غلاموں کے نجات دہندہ اور انسانیت کے سب سے بڑے خیرخواہ تھے۔ دشمن بھی آپ کے صدق و امانت، حلم و بردباری اور اعلیٰ کردار کے معترف تھے۔آج اگر ہم انفرادی یا اجتماعی طور پر مشکلات کا شکار ہیں، تو اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ ہم نے نبی کریم ﷺ کی تعلیمات کو چھوڑ دیا ہے۔ ہم نے اُن کے سنت طریقوں کو فراموش کر دیا ہے، جن میں دنیا و آخرت دونوں کی بھلائی پوشیدہ ہے۔ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنی زندگیاں نبی کریم ﷺ کے بتائے ہوئے راستے پر گزاریں۔ اپنے گھروں، معاشروں، دفاتر اور بازاروں میں سنتِ رسول ﷺ کو زندہ کریں۔ درود و سلام کو اپنی زبان کا ورد بنائیں، کیونکہ درود پاک صرف الفاظ نہیں بلکہ محبت، عقیدت اور روحانی تسکین کا خزانہ ہے۔ خود اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے:”إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ ۚ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا”(الاحزاب: 56)یعنی “بے شک اللہ اور اُس کے فرشتے نبی (ﷺ) پر درود بھیجتے ہیں، اے ایمان والو! تم بھی اُن پر درود و سلام بھیجو۔”آج ہمیں اجتماعی طور پر توبہ کرنی ہے، اپنی اصلاح کرنی ہے، اور محبتِ رسول ﷺ کو اپنی زندگیوں کا مرکزی نقطہ بنانا ہے۔ کیونکہ جو نبی ﷺ سے محبت کرتا ہے، وہ کبھی گمراہ نہیں ہو سکتا۔اللہ تعالیٰ ہمیں سچے دل سے نبی پاک ﷺ کی سیرت پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
اللھم صل علی محمد و علی آل محمد، کما صلیت علی ابراھیم و علی آل ابراھیم، انک حمید مجید۔










