تحریری چوری: تخلیقی حق تلفی یا سستی شہرت کا ذریعہ؟

تحریر: محمد زاہد مجید انور

سوشل میڈیا نے بلاشبہ اظہارِ رائے، معلومات کی ترسیل اور تخلیقی صلاحیتوں کے اظہار کے بے شمار دروازے کھول دیے ہیں۔ مگر جہاں یہ پلیٹ فارمز فکری ترقی کا ذریعہ بنے، وہیں ان کا ایک تاریک پہلو بھی سامنے آیا ہےتحریری چوری۔آج کل اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ لوگ کسی اور کی لکھی ہوئی پوسٹ، نظم، کالم یا خیال کو من و عن کاپی کر کے، نہ صرف اپنے نام سے شائع کرتے ہیں بلکہ اس پر فخر بھی محسوس کرتے ہیں۔ بغیر حوالہ دیے کسی کی محنت، سوچ اور جذبے کو چرا کر اپنے نام سے چلانا صرف غیر اخلاقی نہیں بلکہ فکری بددیانتی اور صریح ناانصافی ہے۔یہ عمل دراصل ان محنتی لوگوں کی حق تلفی ہے جو دن رات محنت کرکے اپنے خیالات کو الفاظ کا روپ دیتے ہیں۔ سوشل میڈیا صارفین کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ تحریر صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں، بلکہ یہ کسی کی سوچ، مشاہدے اور جذبات کا نچوڑ ہوتی ہے۔ایک جملہ جو اکثر سوشل میڈیا پر سننے کو ملتا ہے وہ یہ ہے:”سوشل میڈیا پر جو کچھ بھی لگتا ہے وہ سب کے لیے ہوتا ہے۔”لیکن کیا یہ دلیل جائز ہے؟ کیا کسی کی تحریر کو اجازت کے بغیر کاپی کرنا اس لیے درست ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر دستیاب ہے؟ ہرگز نہیں!جیسے آپ کسی کی تصویر، گاڑی یا موبائل کو اجازت کے بغیر استعمال نہیں کر سکتے، ویسے ہی کسی کی تحریر بھی اس کی ذہنی ملکیت ہے۔ اسے کاپی کرنا تخلیقی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔انٹرنیٹ پر تحریر چوری کرنے والوں کے لیے ایک مشورہ ہے:اپنا کام خود کرنا سیکھیں، نہ کہ دوسروں کی محنت پر اپنی واہ واہ کروائیں۔ سچی تعریف اور عزت اس وقت ملتی ہے جب خیالات آپ کے اپنے ہوں اور لفظ آپ کے قلم سے نکلے ہوں، کسی اور کی تحریر سے نہیں۔تخلیقی دنیا میں وہی مقام حاصل کرتا ہے جو اپنا راستہ خود بناتا ہے، نہ کہ جو دوسروں کے راستوں پر چل کر ان کے قدموں کے نشانات کو مٹانے کی کوشش کرتا ہے۔آخری بات:تحریر چوری کرنے سے وقتی واہ واہ تو مل سکتی ہے، مگر نہ عزت دائمی ہوتی ہے اور نہ ہی اعتبار۔ سوشل میڈیا پر موجود ہر فرد سے گزارش ہے کہ وہ دوسروں کی تحریروں کا احترام کریں، اجازت کے بغیر کاپی نہ کریں، اور اگر کوئی تحریر بہت پسند آئے تو کم از کم اس کا حوالہ ضرور دیں۔ یہی اخلاق، شائستگی اور اصل تخلیق کار کے ساتھ انصاف ہے۔