سرسید کا خواب، میاں برادران کی تعبیر
تحریر: سلمان احمد قریشی
تعلیم محض نصاب کے اوراق میں بند چند مضامین کا نام نہیں، بلکہ یہ وہ عمل ہے جو فرد کی سوچ کو جِلا بخشتا ہے، قوم کو بیداری دیتا ہے اور معاشرے میں شعور کی روشنی پھیلاتا ہے۔ یہی سوچ تھی جس نے سرسید احمد خان کو تعلیمی بیداری کا علمبردار بنایا اور آج اسی فکر کی بازگشت ہمیں میاں نوید اور میاں محمد مظہر کی کاوشوں میں سنائی دیتی ہے۔پتوکی جیسے شہر میں دی ایجوکیٹرز کی بنیاد رکھنا فقط ایک اسکول قائم کرنا نہ تھا، بلکہ ایک عہدِ نو کی شروعات تھی۔ یہ سفر دی ایجوکیٹرز حجرہ شاہ مقیم اور دیگر اداروں کے قیام تک جا پہنچا جو اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ مشن وقتی نہیں بلکہ نظریاتی تھا۔ سرسید احمد خان کے افکار کو رہنمائی کا چراغ بنا کر، میاں برادران نے اپنی محنت، اخلاص اور انتظامی بصیرت سے ایک ایسی راہ نکالی جہاں روشنی کا سفر تھما نہیں، بڑھتا گیا۔
تعلیمی میدان میں ان اداروں کی کامیابی فقط نتائج کی شرح سے نہیں ناپی جا سکتی، بلکہ ان بچوں کی آنکھوں کی چمک، اساتذہ کے لہجے کی اعتماد، اور والدین کے چہروں پر سجی اطمینان کی مسکراہٹ اس کا حقیقی پیمانہ ہے۔ یہ ادارے اہلِ علاقہ کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں، جہاں صرف علم نہیں بلکہ کردار سازی، تربیت اور روشن مستقبل کی بنیاد رکھی جا رہی ہے۔یقیناً ڈائریکٹرز، پرنسپل اور اساتذہ کی شبانہ روز محنت، پیشہ ورانہ مہارت اور تعلیمی جذبے نے ہی ان اداروں کو وہ مقام عطا کیا جہاں آج وہ کھڑے ہیں۔ ان کی خدمات قابلِ تحسین ہیں اور ان کا مشن قابلِ تقلید ہے۔میاں برادران نے ثابت کر دیا کہ اگر مقصد بلند ہو اور بنیاد نظریہ سرسید جیسے مفکر کی ہو تو کامیابی قدم چومتی ہے۔یہ ادارے صرف اسکول نہیں، بلکہ سرسید کے خواب کی تعبیر ہے۔ جسے میاں برادران نے عملی شکل دی۔ ہم انہیں خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔










