`”لوگ کیا کہیں گے؟” — ایک فکری و فلسفیانہ جائزہ`
کالم نگار: عبدالستار نظامِ پاکستان
دنیا کا سب سے خطرناک جملہ جو لاکھوں ذہنوں کو زنجیروں میں جکڑ لیتا ہے، وہ ہے:
“لوگ کیا کہیں گے؟”
یہ الفاظ بظاہر سادہ ہیں، لیکن ان میں چھپی ہوئی طاقت اتنی زبردست ہے کہ یہ انسان کی خواہشات، خواب، ہنر، اور حتیٰ کہ اس کی پہچان تک کو روند ڈالتی ہے۔
یہ وہ جملہ ہے جس نے ان گنت صلاحیتوں کو کچل دیا، بے شمار خوابوں کو دفن کر دیا، اور ہزاروں لوگوں کو جیتے جی بے مقصد کر دیا۔
سماج اور خوف کا جال
ہم ایک ایسے معاشرے میں پروان چڑھتے ہیں جہاں ہر عمل سے پہلے ہمیں یہ سوچنے کی ترغیب دی جاتی ہے کہ “لوگ کیا کہیں گے”۔
ایک بچہ اگر مصور بننا چاہے، تو گھر میں شور ہوتا ہے کہ “ڈاکٹر یا انجینئر بنو، لوگ ہنسیں گے۔”
ایک لڑکی اگر سائنسدان بننے کا خواب دیکھے، تو سوال اٹھتا ہے: “شادی کا کیا ہوگا؟ لوگ کیا کہیں گے؟”
ایک نوجوان اگر اپنے کاروبار کا آغاز کرے، تو آوازیں آتی ہیں: “نوکری چھوڑ دی؟ پاگل ہو گیا ہے؟ لوگ کیا کہیں گے؟”
ہماری پوری زندگی لوگوں کی سوچ کے تابع بنا دی گئی ہے۔ ہم اپنے خواب، اپنے جذبے، حتیٰ کہ اپنی خوشی کو بھی ان کے تصوراتی فیصلوں کے سپرد کر دیتے ہیں جنہیں ہم نے کبھی دیکھا ہی نہیں۔
لوگ کون ہیں؟
یہ “لوگ” کون ہیں؟ کیا یہ کوئی ادارہ ہے؟ کوئی عدالت؟ کوئی روحانی طاقت؟
نہیں۔یہ وہی افراد ہیں جو خود زندگی کی بھول بھلیوں میں الجھے ہوتے ہیں، جن کی اپنی راہیں، اپنی ناکامیاں، اپنی محرومیاں ہوتی ہیں۔
جن کے اپنے خواب مر چکے ہوتے ہیں، وہی دوسروں کو روکنے کا فن بخوبی جانتے ہیں۔
یہ “لوگ” درحقیقت وہ آئینہ ہوتے ہیں، جس میں ہم اپنا بگاڑ دیکھنے کی بجائے دوسروں کی تصویریں بنانے لگتے ہیں۔
تاریخ کا سبق
اگر “لوگ کیا کہیں گے” کا خوف غالب آتا تو
– نیوٹن درخت کے نیچے بیٹھ کر کششِ ثقل پر غور نہ کرتا،
– اقبال کبھی شاہین کا خواب نہ دیکھتے،
– قائداعظم انگریزوں اور ہندوؤں کے خلاف علیحدہ وطن کی بنیاد نہ رکھتے،
– اور ایلون مسک چاند سے آگے جانے کی بات نہ کرتا۔
دنیا کی ہر کامیاب شخصیت نے اس خوف کو شکست دی۔
انھوں نے ثابت کیا کہ اگر تم اپنے نظریے پر یقین رکھو، تو دنیا کی کوئی طاقت تمہیں جھکا نہیں سکتی۔
معاشرتی زنجیریں
ہمارے ہاں یہ جملہ صرف انفرادی نہیں بلکہ خاندانی اور اجتماعی سطح پر بھی بولا جاتا ہے:
– “لڑکی کو زیادہ تعلیم کیوں دی؟ لوگ کیا کہیں گے؟”
– “بیٹا سنگر بننا چاہتا ہے؟ عزت خاک میں مل جائے گی!”
– “شادی اپنی پسند سے کی؟ خاندان کیا سوچے گا؟”
ایسے ماحول میں سوچنے، سمجھنے، اور آگے بڑھنے کے تمام دروازے بند کر دیے جاتے ہیں۔
نوجوان الجھ جاتے ہیں، اور ان کے خواب مصلحتوں کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں۔
انقلاب سوچ سے آتا ہے
اگر ہم واقعی تبدیلی چاہتے ہیں تو ہمیں یہ خوف ختم کرنا ہوگا۔
ہمیں خود کو یہ یقین دلانا ہوگا کہ:
“میری زندگی میری ذمہ داری ہے، اور میرا رب میری نیتوں کا گواہ ہے۔”
زندگی کا اصل مزہ تب آتا ہے جب انسان اپنے دل کی سنے، اپنی راہ چنے، اور سچائی پر ڈٹے رہے — چاہے دنیا کچھ بھی کہے۔
روحانی پہلو
اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ لوگوں کے بجائے اللہ کو راضی کرو۔
قرآن کہتا ہے:
*> “وَمَن يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا”*
`(جس نے اللہ اور رسول کی اطاعت کی، وہی کامیاب ہوا)`
جب رب کو راضی کرن کا جذبہ دل میں ہو، تو پھر انسان کو دنیا کی پروا نہیں رہتی۔
پھر وہ تنقید کو زینت بناتا ہے، اور مخالفت کو قوت میں بدل لیتا ہے۔
آج کا نوجوان
آج کے دور میں سوشل میڈیا نے “لوگ کیا کہیں گے” کا خوف مزید بڑھا دیا ہے۔
ہر تصویر، ہر ویڈیو، ہر کامیابی یا ناکامی کو آن لائن پرکھا جاتا ہے۔
اگر پوسٹ اچھی ہو، تو واہ واہ!
اگر ذرا سی غلطی ہو جائے، تو مذاق، تنقید، اور بائیکاٹ۔
لیکن سوال یہ ہے: کیا ہم سچ میں ان کی رائے کے محتاج ہیں؟
کیا ہمیں اپنی خودی، اپنی پہچان، اپنی انفرادیت قربان کر دینی چاہیے صرف کچھ “لائکس” یا “کمنٹس” کی خاطر؟اصل آزادی
اصل آزادی وہ ہے جہاں انسان معاشرتی خوف سے آزاد ہو جائے۔
جہاں وہ اپنے ضمیر کی آواز پر عمل کرے۔جہاں وہ اپنی راہ خود چنے، چاہے وہ راستہ مشکل ہو، کٹھن ہو، مگر سچ پر مبنی ہو۔
*عبد الستار کا پیغام — نظامِ پاکستان کی آواز*
ہمیں ایک ایسا پاکستان بنانا ہے جہاں نوجوان “لوگ کیا کہیں گے” سے آزاد ہو کر “میں کیا بن سکتا ہوں” پر یقین رکھے۔
جہاں لڑکیاں اپنے خوابوں کو حقیقت میں بدلیں، نہ کہ رشتوں کے خوف سے دب جائیں۔
جہاں فنکار، شاعر، گلوکار، سائنسدان، سب اپنی پہچان کو نکھاریں، نہ کہ سوسائٹی کے طنز سے چھپ جائیں۔
نظامِ پاکستان کا وژن وہی ہے جو اقبال نے بیان کیا تھا:
“خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے، بتا تیری رضا کیا ہے؟”
`اختتامیہ`
آخر میں صرف ایک بات:
دنیا کو خاموش کرانے کا صرف ایک طریقہ ہے — اپنے عمل سے جواب دینا۔باتوں سے نہیں، فکری برتری سے،ڈری سہمی سوچ سے نہیں، بلند حوصلہ افکار سے۔
اپنے خوابوں کو مت روکو، اپنی راہوں کو مت موڑو،
بس اپنے دل کی سنو، اور آگے بڑھتے رہو۔
کیونکہ آخر میں،
“لوگ کیا کہیں گے؟”
یہ سوال وہی پوچھتے ہیں
جنہوں نے خود کبھی کچھ نہیں کیا۔
`کالم نگار:`
*عبدالستار نظامِ پاکستان*
03068613849









