حرمت والے مہینے، آزادی کا جشن اور بے حسی کا ماتم
تحریر۔۔ارشد مہدی جعفری
“بے شک مہینوں کی گنتی اللہ کے نزدیک بارہ ہے ان میں سے چار حرمت والے ہیں۔”
(سورۃ التوبہ، آیت 36)
تاریخ اور حدیث میں بہت معتبر نام امام محمد بن جریر الطبری اپنی مشہور تاریخ “تاریخِ طبری” کی جلد نمبر 2 صفحہ نمبر 579 پر تحریر فرماتے ہیں کہ: “رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خیبر کی طرف ماہِ صفر کے آخر میں خروج فرمایا، جب حرمت والے مہینے گزر چکے تھے”۔
774ھ میں وفات پانے والے حافظ ابن کثیر، جنہیں اللہ رب العزت نے ان کی زندگی میں بھی اور وفات کے بعد بھی ان کی محنت کے صلہ میں بہت عزت و اکرام سے نوازا ہے، اپنی حدیث کی کتاب “البدایہ والنہایہ” کی جلد نمبر 4 کے صفحہ نمبر 195 پر غزوہ خیبر کے بارے میں فرماتے ہیں کہ: “پھر خیبر کی جنگ صفر کے آخر میں ہوئی، اور بعض کہتے ہیں کہ ساتویں سال ربیع الاول کے اوائل میں۔”
غزوہ خیبر سن 7 ہجری میں پیش آیا۔ اس وقت خیبر یہودیوں کا مضبوط قلعہ تھا، جہاں سے مسلمانوں کے خلاف سازشیں کی جا رہی تھیں۔ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فیصلہ فرمایا کہ خیبر کو فتح کرنا ضروری ہے تاکہ مدینہ منورہ کی سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔ تاہم، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس حملے کو حرمت والے مہینوں (محرم اور صفر) کے گزرنے تک مؤخر فرمایا، کیونکہ ان مہینوں میں جنگ و قتال اسلام سے پہلے بھی ممنوع سمجھا جاتا تھا، اور اسلام نے بھی اس احترام کو برقرار رکھا، الا یہ کہ دشمن خود جنگ مسلط کر دے۔
اسلام میں چار مہینے “اشہرِ حُرم” یعنی حرمت والے مہینے قرار دیے گئے ہیں، جو کہ: ذوالقعدہ، ذوالحجہ، محرم اور بعض کے مطابق رجب المرجب (جبکہ بعض اقوال میں صفر بھی شامل ہے)۔ ان مہینوں میں جنگ و جدال سے حتی الامکان پرہیز کیا جاتا تھا، اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے غزوہ خیبر کی کارروائی صفر کے اختتام پر شروع فرمائی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہِ وسلم کی رحلت کے بعد جنگ صفین 37ھ، 657ء میں جنگ صفین ہوئی تو اس جنگ کو بھی حرمت والے مہینوں (ذوالحجہ، محرم، صفر) کے دوران شدید مذاکرات اور امن کی کوششوں کے باعث مؤخر رکھا گیا۔ جیسا کہ ابو مخنف کی “کتاب السِّفین” اور تاریخ یعقوبی میں نقل ہے کہ ذوالحجہ میں شروع ہونے والے واقعات کے باوجود محرم میں جنگ بند رہی، 110 دن تک مذاکرات جاری رہے، جس دوران صرف قبیلائی لڑائیں جاری تھیں لیکن انہوں نے عمومی میدان جنگ تک پہنچنے سے پرہیز کیا، تاکہ حرمت والے مہینوں کی حرمت کو برقرار رکھا جا سکے۔
مگر افسوس! آج حرمت کا وہی مہینہ اور ہم؟ اس سال پاکستان کا یوم آزادی 14 اگست 19 صفر المظفر کو منایا جا رہا ہے۔ 20 صفر کو پوری دنیا میں چہلم امام حسین علیہ السلام عقیدت و احترام سے منایا جاتا ہے۔ یہی وہ ایّام ہیں جن میں عراق میں نجف تا کربلا پیدل مشی کرنے والے کروڑوں عشّاق شب و روز نواسۂ رسول صلی اللہ علیہ و آلہِ وسلم کے غم میں اشکبار رہتے ہیں۔ ان دنوں کی حرمت و معنویت ہر صاحب ایمان کے دل میں زندہ ہے۔ مگر شاید پاکستان کے کچھ اربابِ اختیار کے دل مردہ ہو چکے ہیں۔
تحصیل احمد پور سیال ضلع جھنگ میں مقامی انتظامیہ نے، خاص طور پر اسسٹنٹ کمشنر صاحب کی سرپرستی میں 17 صفر کو، یعنی چہلم سے محض تین دن قبل، محفلِ موسیقی کا اشتہار جاری کروایا، جس کی ابتداء ایک باریش قاری صاحب کی تلاوت سے ہو گی، اور پھر بدنامِ زمانہ موسیقی کے فنکاروں کی “کارکردگی” ہو گی۔
یہ وہی راتیں ہیں جب کربلا میں زائرین شہدائے کربلا کو سلام پیش کر رہے ہوں گے، پاکستان بھر میں مجالسِ عزا منعقد ہوں گی، مائیں بیٹوں کو شہادت کا پیغام دے رہی ہوں گی، اور عاشقانِ حسین علیہ السلام آنکھوں میں اشک اور دل میں آگ لیے سوگ میں ہوں گے۔ ایسے میں “سرکاری سرپرستی” میں میوزک نائٹ کا انعقاد، ایک ایسا دھچکا ہے جو نہ صرف دینی جذبات کو مجروح کرتا ہے بلکہ پوری قوم کی اخلاقی گراوٹ کی نشاندہی بھی کرتا ہے۔
کیا یہ وہی پاکستان نہیں جہاں دشمن کے خلاف کوئی فوجی کارروائی ہو تو آپریشن کا نام “بنیان المرصوص” رکھا جاتا ہے؟ کیا یہی وہ ریاست نہیں جہاں سرکاری تقریبات میں تلاوت قرآن سے آغاز “رسم” بن چکی ہے؟ پھر یہی تلاوت اگر محفلِ موسیقی کی تمہید بن جائے تو ہم کس ایمان کی بات کرتے ہیں؟
جب ملک کے اعلیٰ افسران اپنے عمل سے حرمت والے مہینوں کی توہین کریں گے، جب باریش مولوی صاحبان ایسے پروگراموں میں قرآن کی تلاوت سے میوزک کا آغاز کریں گے، جب ڈی سی جھنگ اور کمشنر فیصل آباد ڈویژن (خاتون افسر) کا فوٹو پوسٹر پر لگایا جائے گا، ایک سیاسی جماعت کے علماء مشائخ ونگ کے اہم ترین عہدیدار جو اپنی تقاریر میں سیاسی وابستگی کو ثانوی حیثیت دیتے ہیں اور اپنی مذہبی وابستگی کو اولین ترجیح قرار دیتے ہیں ان کو فوٹو سرِ فہرست ہو تو پھر قوم کی نئی نسل کس سمت جائے گی؟
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہِ وسلم اور ان کے بعد ان کے اصحابِ باوفا نے تو اس وقت بھی جنگ کو مؤخر فرمایا جب دشمن کے خلاف کاروائی بہت زیادہ ضروری تھی، دشمن طرح طرح کی چالیں چل رہا تھا اور اندرونی طور پر نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہا تھا۔ اصحابِ باوفا کے ایمان خریدنے کی کوششوں میں مصروف عمل تھا ایسے حالات میں بھی جنگ نہ کی صرف اس لیے کہ حرمت والے مہینے کی توہین نہ ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہِ وسلم کی سنت نے ہمیں بردباری، وقت کی نزاکت کا خیال، اور دینی احترام کا درس دیا۔ مگر آج ہمارا حال یہ ہے کہ ہم چہلم کی راتوں میں مائیک پر ڈھول بجائیں گے، ہم امام حسینؑ کے غم میں اشک بہانے کے بجائے پاپ گلوکاروں کے گانے سنیں گے، اور ہم اس پر فخر بھی کریں گے کہ یہ سب کچھ “قانونی اجازت” سے ہو رہا ہے۔ دوسری طرف صورتحال یہ ہے کہ محافل حمد و نعت و مجالس عزاء صرف اس لیے کئی بار بند کروائی جاچکی ہیں کہ ان کی قانونی اجازت نہیں لی گئی عجب دُوہرا معیار ہے۔
محفلِ موسیقی کے اشتہار میں جس طرح قاری صاحب کی تلاوت کو “مارکیٹنگ ٹول” کے طور پر پیش کیا گیا، جیسے وہ اس فحاشی کے عمل کو “مقدس رنگ” دے رہے ہوں، یہ سراسر دین کے تقدس کے ساتھ مذاق ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ میونسپل کمیٹی گڑھ مہاراجہ کے ایڈمنسٹریٹر / چیف آفیسر نے بغیر کسی اجازت یہ پوسٹر چھاپ دیا ہو؟ ڈی سی اور کمشنر صاحبان کے فوٹو اجازت کے بغیر لگائے گئے ہوں؟ اسسٹنٹ کمشنر جیسے متدین اور باریش شخص کو علم نہ ہو کہ وہ کن دنوں میں کیا کر رہے ہیں؟ نہیں جناب! یہ سب کچھ جان بوجھ کر کیا گیا ہے۔ یہ صرف غفلت نہیں، یہ سوچی سمجھی بے حسی ہے۔
اگر 14 اگست حرمت والے مہینے میں آ رہا تھا، تو اس کا احترام یوں ہونا چاہیے تھا کہ یوم آزادی کے موقع پر قرآنی و فکری تقاریر ہوتیں، امام حسینؑ کو تحفہءِ عقیدت پیش کیا جاتا، نعتیہ محافل اور اصلاحی نشستیں منعقد ہوتیں، ملی نغمے اور اسلامی فکر کا امتزاج پیش کیا جاتا، نوجوانوں کے لیے کھیلوں کے مقابلے رکھے جاتے، فحاشی کے نہیں۔ مگر ہم نے “یوم آزادی” کو ایک “رات کی مستی” میں بدل کر رکھ دیا۔
اب بھی وقت ہے۔ ایڈمنسٹریٹر / چیف آفیسر گڑھ مہاراجہ فوری طور پر عوامی معذرت کریں، اسسٹنٹ کمشنر احمد پور سیال خود آگے بڑھ کر وضاحت دیں کہ ان کے علم میں یہ سب کیسے آیا، ڈی سی جھنگ اور کمشنر فیصل آباد ڈویژن اس “سرکاری بے حسی” کا نوٹس لیں، اور اس معاملے پر تحقیقات ہوں کہ حرمت والے دنوں میں یہ سب کچھ کن کے احکامات سے ہوا۔
قوموں کی عظمت صرف ہتھیاروں سے نہیں ہوتی، ہتھیاروں کی جنگ اور متوقع پاک/بھارت جنگ کے بارے تو بہت کچھ لکھ چکا مزید بھی لکھوں گا لیکن یہ ہتھیار ہماری عظمت کی نشانی نہیں ہیں اخلاق، غیرت، دینی احترام یہی ہماری عظمت رفتہ کی اصل بنیاد ہیں۔ اگر حرمت والے مہینے میں ہمارا طرزِ عمل یہی رہا، تو شاید آنے والے کل کا مؤرخ لکھے گا: “یہ وہ قوم تھی جو امام حسین علیہ السلام کو صرف اسلام کی نہیں بلکہ پوری انسانیت کا محسن مانتی تھی مگر ان کی عزاداری کے دنوں میں رقص و سرود کا اہتمام کرتی تھی۔” اب بھی وقت ہے، خود کو، اپنی سمت، اور اپنے نظام کو درست کرنے کا۔
کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ادارہ سٹارنیوز










