9-اگست یوم شہادت
زندگی میری گیت ہے۔۔۔۔
موت میری جدوجھد کی پکار ہے۔شہید نذیر عباسی۔
تحریر۔۔ایم دانش
پاکستان کی زمین پر جبر کی حاکمیت اور جمہور کی حق تلفی کا دستور مارشل لاؑ کے ساتھ شروع ہوا, مگر ساتھ ہی جہاد کی ریت بھی چل پڑی,کتنے ہی سر کٹے کتنے ہی شہید دفناۓ گۓ, مگر ضیاء شاہی کے دور مین ظلم و جبر بڑھ گیا۔اب شہیدون کا قافلہ بھی مختصر نہین رہا۔حق کی آواز اونچی ہوئی,مارچ تیز ہوا,اہل حق کی تعداد بڑھی اور جرآت بھی,تب جبر کے دستورون مین سختی ہوئی۔دستور زبان بندی لاگو ہوا قلم توڑے گۓ ہاتھ جکڑے گۓ۔لیکن آوازین اور لفظ ختم نہین ہوۓ۔ہو بھی نہین سکتے تھے۔آخر کو یہ بیسوین صدی کی آخری چوتھائی تھی۔آج کسی خطے مین بھی عوام کو ہزارون سال پیچھے تو پھینکا نہین جاسکتا۔سو بندوق کی گرج کے باوجود آوازین اٹھتی رہین,قلم چلتا رہا,داستان دارورسن رقم ہوتی رہی اور نئی سوچ کے جگنو پابندی کی فصلین پھلانگ کر لوگون کی بستیون مین اترتے رہے۔کلمہ حق کہنے والون کے انداز الگ الگ رہے۔حق مانگنے اور حق پکارنے والے ایک بے نام تحریک بن گۓ اس تحریک مین کہین مزدور تھے ,کہین دانشور تھے, کہین عورتین تھین ,کہین کارکن الگ الگ مورچے کہین اوپر, کہین زیر زمین ان مجاہدون مین ایک نذیر عباسی بھی تھا۔اسی ملک کا مکین اسی دھرتی سندھ کا بیٹا۔وہ اپنی ذات مین ایک تحریک بن گیا تھا۔اس کی ہستی اس کی شہادت سے پہلے ہی ایک لیجنڈ ہوچکی تھی وہ مسلسل جابر حاکم کے سامنے کلمہ حق کہنے کی لڑائی لڑ رہا تھا.
امریکی سامراجیت کا ادنیٰ غلام، ضیاء الحق، جس نے 80 کی دہائی میں پاکستان کو کمیونسٹوں کے لیے دوسرا انڈونیشیا بنانے کا اعلان کیا تھا۔ وہی انڈونیشیا، جہاں ساٹھ کی دہائی میں غیر کمیونسٹ دنیا کی سب سے بڑی کمیونسٹ پارٹی کو کچلنے کے لیے امریکی تائید و اشارے پر جنرل سہارتو نامی فاشسٹ درندے نے پندرہ لاکھ سے زائد کمیونسٹوں کو تہہ تیغ کیا تھا۔
وہی ضیاء الحق جس نے 1976ء اردن میں صہیونی سامراج کے خلاف برسرِ پیکار فلسطینی حریت پسندوں کے خون سے اپنے ہاتھ رنگے تھے۔
اسی کی دہائی کا آغاز تاریخ کا ایک ہنگامہ خیز دورتھا۔ ویت نام، لاؤس، اور کمبوڈیا سے لے کر ایتھوپیا، گنی بساؤ، اور انگولا تک سوشلسٹ انقلابات اور قومی آزادی کی سامراج مخالف تحریکیں کامیاب ہو چکی تھیں۔ ایک طرف جنوبی یمن میں سوشلزم کا پرچم لہرا رہا تھا تو دوسری جانب افغانستان کا ثور انقلاب، ظاہر شاہوں اور داؤد خانوں کو تاریخ کے کوڑے دان میں پھینک چکا تھا۔ ایران کی کمیونسٹ پارٹی حزبِ تودہ اور فدائیانِ خلق کی شاندار انقلابی جدوجہد کے جلو میں امریکی سامراجیت کا ایک اہم مہرہ، شاہِ ایران، بھی اپنے انجام کو پہنچ چکا تھا۔
پاکستان کی سرحدوں پر دستک دیتا ہوا کمیونزم کا یہی “بھوت” تھا جس نے ضیاء الحق کے آقاؤں کی نیندیں حرام کر رکھی تھیں اورکامریڈ ببرک کارمل کی قیادت میں سوشلسٹ افغانستان، خطے کے محنت کش عوام اور مظلوم اقوام کے لیے ایک نئی صبح کی نوید بن چکا تھا۔افغانستان میں سامراجی مداخلت کے لیے ضیاء نے پاکستان کو ایک ایسے سامراجی اڈے میں تبدیل کر دیا جس کی پہلے کوئی مثال نہیں ملتی۔ ضیاء الحق، مغربی آقاؤں کو یہ یقین دہانی کرا رہا تھا کہ وہ پاکستان میں کمیونسٹوں کو “پیس کر سرمہ بنا دے گا”۔ مگر وہ اس امر سے بے خبر تھا کہ کمیونسٹ دیومالائی پرندے “ققنس” کی مانند ہوتے ہیں جو ہر بار آگ میں جل کر اپنی ہی راکھ سے دوبارہ جنم لیتے ہیں۔کمیونسٹ پارٹی کو تو اس کا پیشرو، فاشسٹ جنرل ایوب خان بھی ختم نہ کر سکا تھا۔ وہی ایوب خان، جو ضیاء ہی کی طرح امریکی سامراجیت کاپروردہ تھا.
پاکستان کے امیرالمؤمنین بننے کے متمنی ضیاء الحق کے جرائم کی ایک طویل فہرست ہے۔ وہ ایک منتخب جمہوری حکومت کا تختہ الٹ کر، وزیراعظم بھٹو کو عدالتی قتل کے ذریعے ہٹاکر مستندِ اقتدار پر براجمان ہوا۔ اس نے ہر جمہوری صدا کو کچلا، سماج میں سیکولر اور ترقی پسند اقدار کو مٹایا اور مذہبی جنونیت کی وحشت ناک شکلوں کی تخلیق کا شیطانی آلہ ثابت ہوا۔
سیاسی کارکنوں، صحافیوں، اور دانشوروں کی قید و بند، سرِ عام کوڑے، فوجی عدالتیں، پھانسیاں ، یہی تھا ضیاء کا پاکستان ھا۔جس میں حمید بلوچ، ایاز سموں، عبدالرزاق جھرنا، ادریس طوطی جیسے بے شمار مزاحمت کار، ہنستے گاتے پھانسی چوم کر امر ہو گئے۔ کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان کے رہنما کامریڈ ڈاکٹر تاج محمد خان کی مذہبی جنونی جماعت کے ہاتھوں شہادت جیسے کئی ایک واقعات ظلم کی اس سیاہ رات سے یادگار ہیں جو ضیاء نامی ظلمات پرست نے مسلط کر رکھی تھی اور امتیاز بلا جیسے کردار اس کے کل پرزے تھے۔
کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان خاص طور پر ضیائی مارشل لا کے نشانے پر تھی۔ 1978 میں پارٹی سیکریٹری جام ساقی گرفتار ہو کر فوجی عقوبت خانوں میں پہنچا دیے گئے تھے۔ ضیاء کی خفیہ ایجنسیاں پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں کی تلاش میں بے چین تھیں۔ ان میں ایک اہم نام تھا کامریڈ نذیر عباسی۔
پارٹی کا سب سے کم عمر مرکزی کمیٹی رکن، سندھ نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن کا رہنما اور ایک زبردست نوجوان انقلابی مساعی پسند جو سندھ میں محنت کشوں کی جدوجہد کے دوران قید و بند سے لے کر بلوچستان کے کسانوں کی طبقاتی جدوجہد “پٹ فیڈر تحریک” میں حصہ لیتے ہوئے کوئٹہ کے قُلی کیمپ کی چھ ماہ قید بھی خندہ پیشانی سے بھگت چکا تھا۔
ہائی کورٹ میں حبسِ بے جا کی درخواست اور ملک گیر احتجاج کے بعد جب اسے رہا کیا گیا تو خبردار کیا گیا کہ اپنی سرگرمیاں ترک کرے ورنہ قتل کر دیا جائے گا۔لیکن وہ ایک کمیونسٹ انقلابی تھا۔ رہائی کے بعد بھی وہ ایجنسیوں کی ناک کے نیچے اپنی سرگرمیاں جاری رکھے رہا۔
یہ 30 جولائی 1980 کا دن تھا جب کامریڈ نذیر عباسی کو دیگر ساتھیوں پروفیسر جمال نقوی ،کمال وارثی سہیل سانگی ،شبیر شر،امرلال ،بدر ابڑو سمیت کراچی سے گرفتار کر کے ماڑی پور انویسٹی گیشن سینٹر پہنچایا گیا ۔وہ عقوبت خانہ جس کا انچارج اس وقت کا لیفٹیننٹ امتیاز احمد المعروف امتیاز بلا تھا.
کامریڈ نذیر عباسی کو کسی عدالت میں پیش نہ کیا گیا، یعنی یہ ایک جبری گمشدگی کا وہی سلسلہ تھا جو کمیونسٹ پارٹی کے انقلابی رہنما، کامریڈ حسن ناصر کے ساتھ 1960 میں شروع ہوا تھا، جب انھیں شاہی قلعے میں ماورائے عدالت قتل کر کے لاش تک غائب کر دی گئی تھی۔برطانوی سامراج بھگت سنگھ اور سورھیہ بادشاہ جیسے وطن پرست انقلابیوں کی لاشیں غائب کرتا تھا۔ مگر ان کے جانشین آمروں نے تو زندہ انسانوں کی جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل کو معمول بنا دیا جس کی بھیانک شکلیں آج بلوچستان، سندھ اور خیبر پختونخوا میں دیکھی جا سکتی ہیں.
کامریڈ نذیر عباسی نے امتیاز بلا کے عقوبت خانے میں 9 دن فوجی بوٹوں کی نوک پر گزارے۔اس پر وہ انسانیت سوز تشدد اور ہتھکنڈے آزمائے گئے جن کے نتیجے میں 9 اگست 1980 کو وہ شہید ہو گیا۔
امتیاز بلا نہ تو اسے پارٹی سے غداری پر مجبور کر سکا، نہ اس سے کوئی راز اگلوا سکا۔
کہا جاتا ہے کہ وہ نذیر عباسی کا نام تک نہ جان سکا تھا، کیونکہ گرفتاری کے وقت وہ “مشتاق” کے کوڈ نیم سے روپوش تھا۔دورانِ تشدد جب بار بار اس سے پوچھا گیا کہ وہ نذیر عباسی ہے تو اس نے کہا:
“ہاں، میں مشتاق نہیں، نذیر عباسی ہوں۔ لیکن اب مجھ سے اگلوا کر دکھاؤ!”
یہ تھا سندھ کا وہ کمیونسٹ بیٹا، جس نے دنیا بھر کے محنت کشوں کے انقلابی آدرش پر ثابت قدمی سے چلتے ہوئے، سوشلسٹ انقلاب کے خواب آنکھوں میں سجائے، افغانستان کے سوشلسٹ انقلاب سے رفاقت کا عملی مظاہرہ کیا، اور دار و رسن کی آزمائشوں پر پورا اترا۔
وہ سندھ کے پہلے سوشلسٹ صوفی شاہ عنایت شہید، ہیموں کالانی شہید سورھیہ بادشاہ شہید اور فاشسٹ ایوب خان کو للکارنے والے کامریجي فسطائي درندي جنرل پنوشي ۽ بڈ حسن ناصر شہید کی روایت کا وارث تھا۔وہ جرمنی کے نازی عفریت ہٹلر، اسپین کے فاشسٹ جنرل فرانکو ،انڈونیشیا کے قصاب جنرل سوہارتو، چلی کے فسطائی درندے جنرل پنوشے اور بولیویا کے فوجی آمر جنرل بارین توس کی قتل گاہوں میں کمیونزم کی مسکان زندہ رکھنے والے جیولیس فیوچک،رالف فاکس، کرسٹو فر کارڈویل،تان ملاکا، وکٹر جارا اور چے گویرا جیسے کمیونسٹ مزاحمت کاروں اور انقلابی سورماؤں کا تسلسل تھا اور ان کی انقلابی میراث کے عین مطابق اس نے بہادری سے موت کا سامنا کیا۔
ٹنڈو الہیار کے ایک محنت کش گھرانے میں جنم لینے والا یہ نوجوان، محنت مزدوری کر کے تعلیم حاصل کرنے والا، مارکس، اینگلز، لینن اور اسٹالین کی انقلابی تعلیمات سے متاثر ہو کر طبقاتی جدوجہد کا علمبردار بننے والا جوان رعنا جس کی لاش تک اپنے ورثا کو نہیں دی گئی۔اور اسے گم نام قرار دے کر اس کی تدفین عبدالستار ایدھی کے ذریعے کراچی کے سخی حسن قبرستان میں خاموشی سے کی گئی۔لیکن کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان سمیت ملک بھر میں، کامریڈ نذیر عباسی کے انقلابی آدرش آج بھی زندہ ہیں۔
کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان سمیت ملک بھر میں کامریڈ نذیر عباسی کے انقلابی نظریات پر یقین رکھنے والے آج بھی اُن کی یاد کو زندہ رکھتے ہیں۔ انصاف کے حصول کی یہ کۓ برسوں پر محیط طویل جدوجہد ایک ایسی داستان ہے، جس کا اختتام آج تک انصاف کی صورت میں نہ ہو سکا۔جیسے کامریڈ حسن ناصر کو شاہی قلعے کے اذیت خانوں میں قتل کرنے والے فوجی اہلکار اپنی یادداشتوں میں اس جرم کا اعتراف کر چکے ہیں، بالکل ویسے ہی کامریڈ نذیر عباسی کے قتل کا اعتراف بھی بریگیڈیئر امتیاز بِلا ٹیلی ویژن پر برملا کر چکا ہے۔ لیکن اس اعتراف کے باوجود، اس نے نہ کبھی ندامت کا اظہار کیا، نہ ہی شرمندگی محسوس کی بلکہ اُلٹا اسے “ملک دشمن عناصر” کے خلاف کاروائی قرار دیا۔
آج بریگیڈیئر امتیاز بِلا کا بغیر کسی عدالتی احتساب اور سزا کے مر جانا، ہمارے نزدیک ایک جابر اور نفرت انگیز طبقاتی دشمن کی موت ہے۔ وہ دشمن جس نے ہماری دھرتی کےعظیم انقلابی سپوتوں میں سے ایک بہترین سپوت کو ہم سے چھینا تھا۔امتیاز بِلا کا آقا، جنرل ضیاءالحق، اپنے ہی طیارے میں جل کر راکھ ہو گیا، لیکن اس نظام نے اس کے بعد کئی نئے آقا پیدا کر لیے۔ بہت سے وردی پوش جرنیل اور نام نہاد جمہوری لبادہ اوڑھنے والے سیاستدان اس قاتل کو گود لیتے رہے۔ یہ وہی آقا ہیں جو جبر کی ریاستی مشین کو انسانی لہو سے چلاتے آئے ہیں۔
امتیاز بِلا اس استحصالی اور ظالمانہ نظام کا ایک چھوٹا سا مہرہ، ایک گھٹیا پرزہ تھا، اور حقیقت یہ ہے کہ اس نظام میں نہ اس جیسے قاتلوں کے لیے کوئی انصاف کا کٹہرا ہے، نہ ہی کوئی ترازو۔ کامریڈ نذیر عباسی شہید کا انصاف، اس کا حقیقی انتقام صرف ایک اشتراکی ریاست کی صورت میں ممکن ہے جہاں محنت کشوں اور کسانوں کی انقلابی حکومت ایک عوامی عدالت کے ذریعے ایسے قاتلوں کو فائرنگ اسکواڈ کے سامنے لا کھڑا کرتی ہے۔
آج نہیں تو کل تاریخ کی ایک بھرپور انگڑائی کی صورت وہ سرخ سویرا ضرور طلوع ہو گا جو کامریڈ نذیر عباسی شہید کا آدرش اور خواب تھا۔بقول شہید نذیر عباسی کہ:
زندگی میری گیت ہے۔۔۔۔موت میری جدوجھد کی پکار ہے۔










