مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندیؒ تجدید دین کی روشن علامت

محمد زاہد مجید انور

*برصغیر کی روحانی تاریخ میں بعض شخصیات ایسی ہیں جن کی علمی و فکری خدمات صدیوں تک یاد رکھی جاتی ہیں۔ انہی میں سے ایک عظیم المرتبت نام ہے حضرت شیخ احمد سرہندیؒ کا جو ’’مجدد الف ثانی‘‘ کے لقب سے معروف ہوئے۔ آپ کی ولادت 14 شوال 971ھ مطابق 26 مئی 1564ء کو سرہند شریف میں ہوئی۔ آپ کے والد بزرگوار شیخ عبدالاحد نہ صرف ایک ممتاز عالم دین تھے بلکہ صوفی باصفا بھی تھے۔شیخ احمد سرہندیؒ نے صغر سنی ہی میں قرآن کریم حفظ کر لیا اور والد گرامی سے ابتدائی علوم حاصل کیے۔ بعد ازاں سیالکوٹ جا کر مولانا کمال الدین کشمیری سے معقولات کی تکمیل کی اور اکابر محدثین سے فن حدیث کی سعادت حاصل کی۔ سترہ برس کی عمر میں ہی آپ درس و تدریس کے منصب پر فائز ہوگئے۔تصوف میں آپ نے پہلے سلسلہ چشتیہ کی تعلیم والد سے حاصل کی، پھر سلسلہ قادریہ میں بھی فیض یاب ہوئے اور بالآخر دہلی جا کر خواجہ باقی باللہ سے سلسلہ نقشبندیہ کی تربیت پائی۔ سن 1599ء میں آپ نے خواجہ باقی باللہ کے دستِ حق پرست پر بیعت کی۔ مرشد کی وفات (1603ء) کے بعد سلسلہ نقشبندیہ کی سربراہی آپ کو نصیب ہوئی اور پھر تاعمر دعوت و اصلاح کا فریضہ انجام دیتے رہے۔حضرت مجدد الف ثانیؒ کا اصل کارنامہ دین اسلام کی تجدید اور احیائے شریعت ہے۔ وہ دور جب دین میں بدعات و خرافات، بے راہ روی اور دنیا پرستی عام ہوچکی تھی، آپ نے نہ صرف قلم و زبان سے بلکہ اپنے عملی کردار سے شریعت کی عظمت کو اجاگر کیا۔ آپ کا ماننا تھا کہ طریقت اور تصوف شریعت ہی کے تابع ہیں، اور کوئی بھی راستہ شریعت کے بغیر معتبر نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کو ’’امام ربانی‘‘ اور ’’مجدد الف ثانی‘‘ جیسے القاب سے یاد کیا جاتا ہے۔آپ کے علم و روحانیت کی شہرت نہ صرف برصغیر بلکہ روم، شام، ماوراء النہر اور افغانستان تک پھیل گئی۔ بڑے بڑے علما و مشائخ آپ کی بارگاہ میں حاضر ہو کر استفادہ کرتے۔ آپ کے مشہور خلیفہ حضرت سید آدم بنوریؒ تھے جنہوں نے آپ کے افکار کو مزید عام کیا۔28 صفرالمظفر 1034ھ مطابق 10 دسمبر 1624ء کو آپ اس دارِ فانی سے رخصت ہوگئے۔ آپ کا مزار سرہند شریف میں ہے جو آج بھی اہل ایمان کے لیے مرکزِ ہدایت و فیض ہے۔علماء کا اتفاق ہے کہ جیسے پہلے ہزار سال میں عمر بن عبدالعزیزؒ مجدد قرار پائے، ویسے ہی دوسرے ہزار سال کے مجدد حضرت شیخ احمد سرہندیؒ ہیں۔ آپ کا یہ عظیم اعزاز تاریخ اسلام میں روشن باب کی حیثیت رکھتا ہے۔آپ کو ’’بارگاہ فلک رفعت‘‘، ’’آرام گاہ عالی مرتبت‘‘، ’’امام ربانی‘‘، ’’غوث صمدانی‘‘، ’’محدث رحمانی‘‘، اور ’’مجدد الف ثانی‘‘ جیسے عظیم القاب سے نوازا گیا جو دراصل آپ کی علمی عظمت اور روحانی رفعت کا اعتراف ہے۔حضرت مجدد الف ثانیؒ کی حیات و تعلیمات آج بھی ہمیں یہ پیغام دیتی ہیں کہ دین کی اصل روح شریعت کی پابندی میں ہے اور اصلاحِ امت اسی وقت ممکن ہے جب ہم اپنی زندگیوں کو قرآن و سنت کے مطابق ڈھالیں۔*