طاقت، جہالت اور ذہنی زنجیریں۔

تحریر: ایم دانش

طاقت اور جہالت جب ایک دوسرے کا سہارا بن جائیں تو قومیں صدیوں پیچھے دھکیل دی جاتی ہیں۔ طاقت اصول کو روند ڈالتی ہے اور جہالت دلیل کو دفن کر دیتی ہے۔ آج کا پاکستان اسی شکنجے میں جکڑا ہوا ہے۔ سیاست چند خاندانوں کے ہاتھوں میں یرغمال ہے، معیشت سرمایہ داروں کے قبضے میں ہے، سماج جمود کا شکار ہے اور ثقافت اپنی اصل شکل کھو چکی ہے۔ لیکن سب سے خطرناک زنجیر وہ ہے جو ذہنوں پر ڈالی گئی ہے۔
یہ زنجیر اندھی عقیدت کی ہے۔ ایسی عقیدت جو سوال کو گناہ، سوچ کو جرم اور اختلاف کو کفر بنا دیتی ہے۔ بچپن سے ذہنوں میں یہ ڈالا گیا کہ بس مان لو، مت سوچو، مت ٹٹولو۔ یہی وہ نفسیاتی غلامی ہے جس نے ایک پوری نسل کو زنجیروں میں جکڑ دیا۔ خوف اور تقدس کے لبادے میں لپٹی یہ جہالت سوچنے اور جینے کی صلاحیت چھین لیتی ہے۔ لوگ اپنے مسائل پر بات کرنے کے بجائے خاموشی میں پناہ ڈھونڈنے لگے ہیں۔ یہی خاموشی طاقتوروں کی سب سے بڑی ڈھال ہے۔
طاقت کا یہ کھیل صرف مذہبی عقیدت کے پردوں میں نہیں کھیلا گیا، بلکہ سیاست کے میدان میں بھی یہی ہتھکنڈے رائج ہیں۔ کبھی جمہوریت کے نام پر تماشہ لگایا جاتا ہے، تو کبھی نمائندے محض کٹھ پتلیاں بن کر رہ جاتے ہیں۔ عوامی مینڈیٹ اور ووٹ کی حرمت اکثر انہی ہاتھوں کی گرفت میں گھٹ جاتی ہے جن کے پاس بندوق اور بجٹ دونوں کے تالے کی چابیاں ہوتی ہیں۔ بجٹ کا بڑا حصہ بھی وہیں چلا جاتا ہے جہاں احتساب کے سوال اٹھانا “ممنوعہ خیال” سمجھا جاتا ہے۔ یہی وہ غیر مرئی گرفت ہے جس نے قومی سیاست، معیشت اور خارجہ پالیسی کو اپنی مرضی کا پابند بنا رکھا ہے
قوموں کی ترقی جذباتی نعروں، فتووں یا پردے کے پیچھے ہونے والے فیصلوں سے نہیں ہوتی۔ ترقی صرف اس وقت ممکن ہے جب علم اور تحقیق کو بنیاد بنایا جائے، جب دلیل کو دلیل سے جواب دیا جائے، جب انسانی عقل کو بندشوں سے آزاد کیا جائے۔ ہمیں سائنسی منطق، شفاف سیاست اور تحقیق پر مبنی تعلیم کو اپنی بنیاد بنانا ہوگا۔ یہ وقت ہے کہ عوام اپنی آنکھوں سے خوف کی پٹی اتاریں اور اپنی عقل کو پہچانیں۔
اصل انقلاب وہ دن ہوگا جب یہ قوم سوال کرنا سیکھ لے گی۔ جب اندھی عقیدت کے بجائے شعور کو رہنما بنایا جائے گا۔ طاقت اور جہالت کا اندھیرا تبھی ٹوٹے گا جب علم اور انصاف کا چراغ جلایا جائے گا۔ یہی راستہ ہے جو ہمیں زوال سے نکال کر ایک زندہ، باشعور اور خوددار قوم بنا سکتا ہے۔