تعلیم کا مستقبل اور مصنوعی ذہانت کی ضرورت
کالم نگار: محمد زاہد مجید انور
*قوموں کی ترقی کا راز ہمیشہ علم و ہنر میں پوشیدہ رہا ہے۔ جس قوم نے تعلیم کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا، دنیا نے اسے عزت، طاقت اور قیادت دی۔ آج کی دنیا میں تعلیم محض الفاظ یا کتابوں تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ ایک مکمل نظام ہے جو جدید سائنسی رجحانات، ٹیکنالوجی اور تحقیق سے جڑا ہوا ہے۔یونیورسٹی آف کمالیہ کے چانسلر اور معروف محقق دانشور پروفیسر ڈاکٹر یاسر نواب نے خصوصی گفتگو میں اس حقیقت کو اجاگر کیا کہ حکومت تعلیم کے شعبے میں جدید رجحانات کو فروغ دینے کے لیے کوشاں ہے تاکہ پاکستان بھی ترقی یافتہ قوموں کی صف میں شامل ہو سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی آف کمالیہ اس سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے، جو نئی نسل کو جدید دور کے تقاضوں کے مطابق تیار کرنے میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔ڈاکٹر یاسر نواب نے بجا طور پر اس جانب توجہ دلائی کہ یونیورسٹی کے نصاب میں مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) کو شامل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ آج دنیا مصنوعی ذہانت کے ذریعے نئے افق دریافت کر رہی ہے۔ طب، صنعت، زراعت، کاروبار، معیشت اور حتیٰ کہ روزمرہ زندگی کے شعبے میں بھی مصنوعی ذہانت انقلاب برپا کر رہی ہے۔ ایسے میں یہ لازم ہے کہ ہمارے طلبہ بھی اس علم سے واقف ہوں تاکہ وہ عالمی معیار کی مہارتوں کے ساتھ مستقبل کا سامنا کر سکیں۔یہ ایک حقیقت ہے کہ آنے والا دور ڈیجیٹل معیشت اور مصنوعی ذہانت کا دور ہے۔ جو قوم آج اس میدان میں سرمایہ کاری کرے گی وہی کل دنیا کی قیادت کرے گی۔ پاکستان کے لیے یہ خوش آئند ہے کہ ہمارے تعلیمی رہنما اور محققین اس ضرورت کو محسوس کر رہے ہیں اور نئی نسل کو جدید علوم سے آراستہ کرنے کے لیے عملی اقدامات تجویز کر رہے ہیں۔طلبہ کو مصنوعی ذہانت کے بنیادی تصورات اور عملی استعمال سے روشناس کرانا صرف ایک تعلیمی اقدام نہیں بلکہ یہ ایک ایسی حکمت عملی ہے جو مستقبل کے پاکستان کی بنیاد کو مضبوط کرے گی۔ یہ اقدام یقینی طور پر نئی نسل کو تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا میں کامیابی کے لیے درکار مہارتیں فراہم کرے گا اور ملک کو ترقی کی شاہراہ پر گامزن کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔پروفیسر ڈاکٹر یاسر نواب جیسے محققین اور رہنما امید کی کرن ہیں جن کی سوچ اور وژن سے واضح ہوتا ہے کہ پاکستان کا تعلیمی مستقبل روشن ہے۔ ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ ان مثبت اقدامات کو پالیسیوں میں تسلسل اور عملدرآمد میں سنجیدگی کے ساتھ آگے بڑھایا جائے۔*












