علم کے چراغ جلانے والے والدین کی یاد میں
تحریر وترتیب محمد زاہد مجید انور ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ
*دنیا میں کچھ لمحات ایسے ہوتے ہیں جو انسان کی زندگی کو ایک نئی روشنی، نئی سمت اور نئی توانائی عطا کرتے ہیں۔ میرے لیے بھی ایک ایسا ہی لمحہ اُس وقت آیا جب امریکہ میں مقیم معروف سیاسی، سماجی و کاروباری شخصیت رانا عبدالروف خاں نے یونیورسٹی آف کمالیہ کے وائس چانسلر عزت مآب پروفیسر ڈاکٹر یاسر نواب کے ساتھ ایک ایم او یو پر دستخط کیے۔ یہ موقع صرف ایک معاہدہ نہیں بلکہ ایک خواب کی تعبیر اور ایک نئی داستان کی ابتداء تھا۔رانا عبدالروف خاں نے اس موقع پر اعلان کیا کہ وہ اپنے والدین کے نام پر دو فُلی فنڈڈ اسکالرشپس مستحق طلبہ و طالبات کے لیے وقف کر رہے ہیں۔ یہ قدم نہ صرف اُن کے والدین کے لیے ایک صدقۂ جاریہ ہے بلکہ اُن طلبہ کے لیے بھی امید کی کرن ہے جو وسائل کی کمی کے باوجود علم حاصل کرنے کے خواہش مند ہیں۔ درحقیقت یہ فیصلہ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ اصل خدمتِ خلق دوسروں کو سہولتیں اور مواقع فراہم کرنے میں ہے۔یہ لمحہ مزید تاریخی اس لیے بھی تھا کہ جس ادارے میں اُن کے والدِ محترم پرنسپل کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے رہے، آج انہی در و دیوار میں یونیورسٹی آف کمالیہ اپنی شاندار علمی و تحقیقی خدمات سر انجام دے رہی ہے۔ اس موقع پر رانا عبدالروف خاں نے یونیورسٹی میں ایک یادگار پودا بھی لگایا۔ یہ پودا اُن کے خوابوں اور دعاؤں کی علامت ہے کہ یہ ادارہ دن دگنی رات چوگنی ترقی کرے اور آنے والی نسلوں کے لیے علم و ہنر کا مینارِ نور ثابت ہو۔اس خوشگوار موقع کو مزید یادگار بنانے کے لیے کمالیہ کی نامور شخصیت اور رانا عبدالروف خاں کے دیرینہ دوست ڈاکٹر ارشد حنیف بھی موجود تھے۔ ان کی محبت، شفقت اور حوصلہ افزائی نے اس ملاقات کو رنگین اور ناقابلِ فراموش بنا دیا۔ حقیقی دوست وہی ہوتا ہے جو خوشی کے لمحات میں بھی ساتھ کھڑا ہو اور جذبات کو تقویت بخشے۔رانا عبدالروف خاں نے دعا کے ساتھ اپنے کالم کا اختتام کیا:”اللہ پاک میرے والدِ محترم جناب رانا عبدالمجید خان صاحب اور میری والدہ ماجدہ کو اپنی جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور انہیں کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے۔ آمین۔”یہ کالم ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ والدین کی یاد کو زندہ رکھنے کا بہترین طریقہ یہی ہے کہ ان کے نام کو علم، خدمت اور انسانیت کی بھلائی سے وابستہ کیا جائے۔ کیونکہ یہی صدقۂ جاریہ ہے جو نسلوں تک روشنی اور ہدایت بانٹتا ہے۔*










