پُرامن صحافیوں پر پولیس گردی قلم کی طاقت سے خوفزدہ حکمران
*تحریر وترتیب محمد زاہد مجید
انور ضلعی صدر اور معروف کالم نگار ڈسٹرکٹ انجمن صحافیاں ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ*
*نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے باہر صحافی برادری نے اپنے جائز مطالبات کے حق میں پُرامن احتجاج کیا، لیکن افسوس کہ اس پُرامن احتجاج پر پنجاب پولیس نے بزدلانہ اور شرمناک حملہ کیا۔ صحافیوں پر لاٹھی چارج، گرفتاریاں اور بدترین تشدد اس بات کا ثبوت ہے کہ حکمران طبقہ آزادی صحافت اور حق گوئی سے خائف ہے۔یہ پہلا موقع نہیں کہ صحافیوں کو دبانے کی کوشش کی گئی ہو، بلکہ ماضی میں بھی ایسے واقعات رونما ہوتے رہے ہیں۔ لیکن تاریخ گواہ ہے کہ صحافت کی طاقت کو کبھی دبایا نہیں جا سکا۔ قلم ہمیشہ تلوار سے زیادہ طاقتور رہا ہے اور رہے گا۔ پولیس گردی دراصل اُن مقتدر قوتوں کی بوکھلاہٹ ہے جو عوامی مسائل اجاگر کرنے والے صحافیوں کو خاموش کرنا چاہتے ہیں۔ہم صحافی برادری اس بزدلانہ اقدام کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ پُرامن احتجاج پر تشدد دراصل پوری صحافی برادری پر حملہ ہے۔ یہ صرف چند صحافیوں کو زخمی کرنے یا گرفتار کرنے کا معاملہ نہیں، بلکہ یہ آزادی صحافت پر وار ہے۔ آج اگر صحافیوں کو دبایا گیا تو کل عوام کی آواز بھی دبائی جائے گی۔ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ1پنجاب حکومت فوری طور پر اس واقعے کی آزادانہ انکوائری کرائے۔2ذمہ دار پولیس افسران کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے**۔3. آئی جی پنجاب اور اسلام آباد پولیس صحافی برادری سے فوری معافی مانگیں*۔4مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے واضح پالیسی وضع کی جائے۔ہم واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ قلم کاروں کو ڈرانے دھمکانے کی کوشش کبھی کامیاب نہیں ہوگی۔ ظلم اور تشدد وقتی رکاوٹ ضرور ڈال سکتا ہے لیکن سچ کی آواز کو خاموش نہیں کر سکتا*۔شیم شیم شیم!
ہم سب ایک ہیں، اور اس ظلم کے خلاف ڈٹ کر کھڑے ہیں۔
منجانب:محمد زاہد مجید انور
ضلعی صدر و معروف کالم نگار
ڈسٹرکٹ انجمن صحافیاں ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ*










